کانٹ نے محض وقت ہی ضائع کیا

میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ کم از کم ایک ماہ تک آپ کو فلسفے کے موضوع پر بور نہیں کروں گا اور ما بعد الطبیعات اور بدیہی اور تجربی علم کا فرق بتانے کی بجائے چٹ پٹے قصے سنا کر یا اپنی پارسائی کا کوئی واقعہ لکھ کر کالم کا پیٹ بھر دوں گا مگر افسوس میں اپنا یہ عہد نبھا نہیں پاؤں گا۔ اِس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ میرے پاس سنانے کے لئے اپنی عظمت کی کوئی داستان نہیں۔ اور دوسرا، کئی سا ل بعد بالآخر مجھے بدیہی اور تجربی علم کا فرق سمجھ میں آ گیا ہے۔

دنیا میں اگر کوئی ایسا فلسفی پیدا ہو جائے جو کائنات کی تخلیق اور خدا کے وجود جیسے دقیق سوالات کا جواب تلاش کرنے کا ایسا ٹھوس طریقہ بتا دے جس کے بعد بحث کی گنجائش ہی ختم ہو جائے تو ایسے فلسفی کا تاریخ میں کیا مقام ہوگا؟ اُس فلسفی کا تاریخ میں وہی مقام ہوگا جو عمانوئل کانٹ کا ہے۔ کانٹ غالباً وہ پہلا فلسفی تھا جس نے ’تنقید عقل محض‘ میں انسان کی ذہنی استعداد کی مکمل پڑتال کرکے یہ بتایا کہ انسانی ذہن کی حدود کہاں تک ہیں اور آیا اِن حدود میں رہتے ہوئے ما بعد الطبیعاتی تصورات کا ادراک کیا جا سکتا ہے یا نہیں!

علم کے ماخذ سے متعلق فلسفے کی بحث خاصی قدیم ہے۔ ایک گروہ کا ماننا ہے کہ علم حسیات سے حاصل کیا جا سکتا ہے جسے ہم تجربی علم کہتے ہیں جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ علم صرف وہی ہے جسے خالصتاً عقل کی کسوٹی پر پرکھا جا سکے۔ پہلے علم کو A Posterioriکہتے ہیں یعنی ایسا علم جو تجربے کے نتیجے میں حاصل کیا گیا ہو، مثلاً ہم کسی شے کو سورج کی روشنی میں رکھتے ہیں اور وہ گرم ہو جاتی ہے تو اِس تجربے سے ہمیں جو علم حاصل ہوگا، اسے تجربی کہیں گے۔ دوسری قسم کو A Prioriکہتے ہیں یعنی ایسا علم جو تجربے کے بغیر ہی حاصل کیا جا سکے جیسے کہ ریاضی، چاہے آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں، دو جمع دو ہمیشہ چار ہی رہیں گے۔ اب سوال یہ تھا کہ اِس عالم کو کس ذریعے سے سمجھنا ممکن ہے، تجربی یا عقلی۔ کانٹ کا استدلال بہت دلچسپ تھا۔ اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ تجربے کے بغیر علم حاصل کرنا ممکن نہیں مگر خدا، روح اور جبر و قدر جیسے گمبھیر موضوعات چونکہ ما بعد طبیعیاتی ہیں لہٰذا انہیں تجربے یا حسیات کی مدد سے جانا نہیں جا سکتا۔ یعنی ہم اپنی آنکھ سے خدا کو نہیں دیکھ سکتے، روح سے معانقہ نہیں کر سکتے اور کہیں جا کر تقدیر کا لکھا نہیں پڑھ سکتے۔ گویا اِن تصورات کا علم حاصل کرنے کی دوسری صورت عقل رہ جاتی ہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاہمیں وہ عقل ودیعت کی گئی ہے جس میں اِن موضوعات کو سمویا جا سکے۔ یہاں سے کانٹ عقل کی پڑتا ل شروع کرتا ہے اور ہمیں ایک ایسی حیرت انگیز دنیا میں لے جاتا ہے جو اِس سے پہلے نامعلوم تھی۔ کانٹ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح ہمارا ذہن مختلف قسم کی اشیا کو محسوس کرتا ہے، انہیں زمان و مکان میں ترتیب دیتا ہے اور پھر اُ ن کے باہمی روابط سے عقل کو جنم دیتا ہے جس سے ہم A Prioriعلم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کانٹ نے یہ تمام باتیں خاصی پیچیدہ انداز میں لکھی ہیں، لب لباب اِن کا یہ ہے کہ تجربی علم کی طرح عقلی علم بھی اِس عالم کو سمجھنے کے لئے ناکافی ہے، اِن دونوں علوم کی مدد سے ہم جس عالم کو سمجھ سکتے ہیں وہ Phenomenal Worldہے یعنی وہ عالم جو بظاہر ہمیں عقل اور حسیات کے باہمی ربط سے نظر آتا ہے اور جسے ہر انسان مشاہدہ کرکے دیکھ سکتا ہے، اِس کا تجربہ کر سکتا ہے مگر ایک دوسرا عالم بھی ہے جس کا انسان تجربہ کرسکتا ہے اور نہ عقل کی مدد سے اُس کی جانچ کر سکتا ہے، اسے کانٹ Noumenalکہتا ہے، یعنی وہ عالم جو مشاہدے میں نہ آئے، مابعدالطبیعاتی دنیا کے مسائل اسی عالم سے متعلقہ ہیں جیسے خدا، کائنات، ارواح، جبر و قدر وغیرہ۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہاں کانٹ کے فلسفے اور تصوف سے مماثلت نظر آئے مگر جہاں تک میں سمجھا ہوں کانٹ Noumenal Worldسے متعلق علم کو اُن معنوں میں ’علم‘ ہی نہیں سمجھتا جن معنوں میں صوفیا اس سے متعلق علم کا قطعیت سے دعویٰ کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہماری عقل اور تجربہ دونوں ہی خدا کے وجود، کائنات کی تخلیق اور اِس نوع کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو پھر اِن مسائل کو کیسے حل کیا جاوے؟ اِس ضمن میں کانٹ کہتا ہے کہ ہمیں اِس بارے میں کچھ باتیں فرض کرنا ہوں گی اور اخلاقیا ت کے ایسے اصول طے کرنا ہوں گے جو آفاقی ہوں اور انسان اپنے مکمل اختیار اور ارادے کے ساتھ اُن کے تابع ہو، صرف اسی صورت میں ہم اِس عالم کا کوئی جواز تراش سکیں گے، تاہم حقیقی علم پھر بھی نہیں مل پائے گا۔ کانٹ کا استدلال ہے کہ اِن اخلاقی قوانین پر عمل کرکے ہی ہم خیر اور اچھائی کے بلند ترین مقام تک پہنچ سکتے ہیں مگر یہ مقام پانا پرہیز گاری کی بلندی کو چھو نے کے مترادف ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اِس تجربی دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ یہاں ہماری حسیات ہمیشہ اخلاقی قانونی کی خلاف ورزی پرہمیں اکساتی رہیں گی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اگر پرہیز گاری کا اعلیٰ معیار چھو لینا ممکن بھی ہے اور اخلاقی قانون کے تحت ضروری بھی مگر اِس دنیا میں یہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تو لا محالہ ہمیں ایک ایسی دنیا کے تصور پر یقین رکھنا ہوگا جہاں اِس زندگی کے بعد ایک غیر طبعی زندگی ہوگی اور جہاں پرہیز گاری کا اعلیٰ و ارفع مقصد حاصل کیا جاسکے گا۔ گویا، اچھا ئی کا بالا ترین معیار پانا عملا ً اسی صورت میں ممکن ہے اگرہم روح کے لافانی اور دائمی ہونے پر یقین رکھ لیں۔ (حوالہ:تاریخ فلسفہ، اے سی گریلنگ، صفحہ 267)۔

میں اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ انہیں فلسفے جیسے خشک موضوع پر بور کیا، جس معاشرے میں دلیل کا جواب گالی سے دیا جاتا ہو اُس معاشرے میں کانٹ کی تنقید عقل محض کے متعلق لکھنا محض وقت کا ضیاع ہے، مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کا وقت ضائع کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *