کتاب سے بہترکوئی جلیس نہیں

تابندہ عرب شاعرامراء القیس نے ڈیڑھ ہزارسال پہلے یہ بات کہی تھی مگرآج بھی حرف بہ حرف سچ محسوس ہوتی ہے،عالمی صداقت لگتی ہے کہ کتاب سے برترکوئی انسان کاساتھی نہیں ہے۔بڑے شہروں میں بسنے والے نامورمصنفین کاچرچاتوہمیشہ ہمارے ذرائع ابلاغ میں رہتاہے مگرمضافات میں قیام پذیربڑے اچھے اورمعتبرلکھاری بھی بعض اوقات نظراندازکردیے جاتے ہیں۔آج میں آپ سے دوکتابوں کاتذکرہ کرناچاہتاہوں جوحال میں ہی شائع ہوئی ہیں اوران کے خالق جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔رمضان المبارک کی نسبت سے ایک تونعتیہ مجموعہ ہے جس کو حاصل پورمیں مقیم نامورادیب اور شاعرمحمدامین ساجدسعیدی نے تخلیق کیاہے،دوسری کتاب خانیوال سے تعلق رکھنے والے ہمارے شاعردوست فہیم ضیاء کی شائع ہوئی ہے،مصنف تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں اورآج کل مسقط عمان میں مقیم ہیں۔پہلے میں مدحت شاہ کونین کا تذکرہ کرنا چاہتاہوں،چونکہ ادب کا تقاضابھی یہی ہے۔
حضورپاک ؐکی نعت کہنابڑی سعادت کی بات ہے۔مسلسل نعت کہنا اورنعت گوئی کو طرزِحیات بنالیناخوش بختی کی بات ہے۔محمدامین ساجد سعیدی بڑے نصیب والے ہیں کہ دوجہاں کے سردار کی شان میں نعتیں کہتے کہتے ان کا ایک نعتیہ مجموعہ بن گیا۔سرکاردو عالم ؐ سے محبت ان کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔اس لئے نعت گوئی کا سفرایک مجموعے کی اشاعت پر بھی تمام نہیں ہوا،بالکل اورزیادہ جوش و جذبے کے ساتھ جاری رہا۔اس عشقَ رسولؐ کے بابرکت سفرکاآئینہ دار ان کا تازہ نعتیہ مجموعہ”مدحت شاہِ کونین“ہے۔نبی اکرم ؐ سے نسبت بلا شبہ ہر مسلمان کے لئے قابلِ فخربات ہے،اس نسبت کو اعزازسمجھتے ہوئے اس کا شعری اظہارمیرے نزدیک عبادت ہے۔محمدامین ساجد سعیدی کے تازہ نعتیہ مجموعے کامطالعہ کرتے ہوئے مجھے عبادت کا احساس ہوتاہے۔عقیدت میں گوندھے ہوئے الفاظ کمال مہارت سے نعت کے شعری پیکر میں ڈھالے گئے ہیں۔ان نعتوں میں ایسا جادوئی ردھم ہے کہ بے ساختہ ترنم میں پڑھنے کو جی چاہتاہے۔جیسا کہ پہلے عرض کیا،سرکار دوعالمؐ سے محبت تو ہر کلمہ گو کے دل میں موجزن ہے،سبھی مسلمانوں کا قیمتی اثاثہ ہے مگر اس محبت کاخوبصورت نعتیہ اظہارہر کسی کے بس کی بات نہیں،سچ پوچھیں تو ہر کسی کا نصیب بھی نہیں ہوتا۔
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے،یہ بڑے نصیب کی بات ہے
نعت گوئی بحضور رسول مقبول کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی تاریخ ہے۔حضوراکرمؐ کے صحابی حسان بن ثابتؓ سے لے کر بڑے جلیل القدراولیاء اور درویش ہیں جن کے حصے میں یہ سعادت آئی۔سعیدی صاحب کا نام پڑھتے ہوئے مجھے شیخ سعدی کی نعت باربار یاد آتی ہے۔ایک فارسی بولنے والا آدمی جس کی عربی زبان میں لکھی نعت جیسی کوئی اہل زبان بھی شاید نہیں لکھ پایا۔یہ معجزہ خوش بختی ہے۔
مدحت شاہ کونین ؐ میں محمد امین ساجد سعیدی نے جہاں اردوزبان کی روایتی نعت کہی وہاں کچھ نئے انداز بھی نظرآتے ہیں۔نعتیہ ماھیے میں نے پہلی مرتبہ پڑھے ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بے حد پسند بھی آئے ہیں۔نعتیہ قطعات بھی کمال عشق کا پتہ دیتے ہیں اورخوبصورت طرزبیان
صاحب شق القمرمحبوب رب یکتا ہیں آپ
محسنِ انسانیت ہیں دنیاو عقبیٰ ہیں آپ
منصبِ معراج سب نبیوں نے پایافرش پر
عرش اعظم پربنے مہمان جو تنہا ہیں آپ
اوریہ قطعہ تو مجھے بہت زیادہ پسندآیا،ذراملاحظہ فرمائیں۔کس خوبصورتی سے انہوں نے اپنا نام قطعہ میں استعمال کیا ہے۔
شافع روزِ جزا ہیں رحمتہ اللعالمین
بے کناروبے بہاہیں رحمتہ اللعالمین
بہترین و مہتریں ساجدامیں میرا یقین
ابتدا ہیں انتہا ہیں رحمتہ اللعالمین
عشق نبی ؐ میں رچی بسی مدحت شاہ کونین کی اشاعت پرمیں محمد امین ساجدسعیدی کو دلی مبارک بادپیش کرتا ہوں۔امید کرتا ہوں کہ اعلیٰ ادبی اوصاف سے مزین نعت گوئی کا ان کایہ سفرجاری رہے گا۔
کلام کروتاکہ پہچانے جاسکو،حضرت علیؓ کایہ فرمان بڑاہی پرازحکمت اورعالمی سچائی کامظہرہے۔بے شک انسان کی پہچان تبھی ممکن ہوتی ہے جب وہ کسی کسی طورپراظہارخیال کرتاہے۔اپنامافی الضمیربیان کرنے کے یوں توکئی طریقے رائج ہیں مگرقرطاس وقلم کو سب سے زیادہ تکریم واعتبارحاصل ہے۔”گیان کے پھول“ میں فہیم ضیاء نے گیان دھیان کی باتیں کی ہیں،جس سے یہ کتاب واقعی علمی گلدستہ محسوس ہوتی ہے۔عقل وخردکی باتیں مضامین کے پیرائے میں جس خوبصورت اندازمیں بیان کی گئی ہیں وہ قابل تحسین اندازہے۔موضوعات کاتنوع اس کتاب کودلچسپ بناتاہے اورحقیقی زندگی کا ترجمان بھی،چونکہ جیون بھی رنگارنگ کے مضامین لئے ہوئے ہے۔زیست بھی یک رنگ نہیں ہے۔اس کتاب میں شامل بہت سارے مضامین اخباری کالموں کی صورت میں اردوروزناموں اورآن لائن اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ویسے تواخباری کالموں کوایک دن کاادب کہاجاتاہے مگرکتاب کی صورت میں یکجاکردیاجائے تویہ ایک دن کا ادب مستقل ادبی تاریخ اورسخن وروں کے لئے محفوظ ادب کاحصہ بن جاتا ہے،جس سے سخن شناس ہمیشہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔سیاست دوراں سے لے کرحالت حاضرہ تک کون ساایسا موضوع ہے جس پرفہیم ضیاء نے خامہ فرسائی نہ کی ہو،اعلیٰ ادب ذوق،بہترین تعلیم وتربیت اورتدریس کے شعبے سے تعلق کے سبب ہرموضوع کے ساتھ پوراپوراانصاف کیا ہے۔بعض تعزیت نامے پڑھ کر میں اداس ہو گیا،چونکہ ان احباب میں سے چند کو میں ذاتی طورپرجانتاتھا،بلکہ دوستی اورقلبی لگاؤتھا۔باالخصوص مظہربخاری اورفرتاش سیدتومیرے قریبی دوست تھے۔سیاست اورسماج پرتحریرکردہ مضامین سے آپ کانظریاتی اختلاف ممکن ہوسکتاہے مگرآپ یہ ضرورتسلیم کریں گے کہ مصنف کو سلیقے سے اپنی بات کہنے کا ڈھنگ آتاہے۔استدلال کاطورطریقہ بڑادلکش ہے۔
اردوزبان میں خاکہ نگاری ایک خالصتاًادبی موضوع سمجھاجاتاہے۔فہیم ضیاء نے گیان کے پھول میں جو شخصی خاکے پیش کئے ہیں وہ اد ب عالیہ کاحصہ ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی رنگ لئے ہوئے ہیں۔بہت خوبصورت اوررواں نثرکے بہترین نمونے ان مضامین کی زبن سلیس اورسادہ ہونے کے باوجودانتہائی دلکش ہے۔گیان کے پھول میں آپ کو ہر صفحے پرگیان کی باتیں بکھری ملیں گی،علم وحکمت اور دانش کے پھول کھلے ہوئے نظرآئیں گے مگرکبھی بھی خانہ پری محسوس نہیں ہوگی۔میں گیان کے پھول کی اشاعت پرفہیم ضیاء کودلی مبارکبادپیش کرتاہوں اوران کی مزید ادبی وصحافتی کامیابیوں کے لئے دعاگوہوں۔