کتاب سے مخطوطے تک!

بہت سے دوستوں کو علم نہیں ہے کہ میں بہت پڑھا لکھا عالم فاضل شخص ہوں، مجھ ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری پہچان اِس دنیا سے ’’پردہ کرنے‘‘ کے بعد ہوتی ہے، آپ کسی دن میری لائبریری میں تشریف لائیں، 14الماریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں، الماریوں سے نیچے کتابوں کے ’’ڈربے‘‘ بھی ہیں جہاں سے ’’غٹرغوں غٹرغوں‘‘ کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں، یہ کتابیں دراصلفریاد کر رہی ہوتی ہیں کہ ہمیں اس قید سے رہائی دو یا کسی دن ڈربوں کا دروازہ ہی کھول دو تاکہ کچھ ہوا آئے، ہم دم گھنٹے سے نہ مر جائیں، الماریوں کی شیلفوں میں جو کتابیں پڑی ہیں وہ بھی مجھے التجا بھری نظروں سے دیکھتی رہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر ہمیں ’’گھر بٹھا‘‘ لیا ہے تو کبھی ہمیں الٹ پلٹ بھی لو، شیلفوں کو تم نے تالے لگائے ہوئے ہیں اور آپ یقین جانیں ان کے شکوے بےجا ہیں، میں روزانہ اپنی لائبریری میں کافی وقت گزارتا ہوں، شیلفوں میں پڑی کتابوں سے ہیلو ہائے کرتا ہوں، انہیں محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہوں، ایک دن مجھے ایک کتاب کی آواز آئی، وہ کہہ رہی تھی، ہمیں نہیں پڑھنا تو نہ پڑھ مگر ہم پر جمی گرد تو جھاڑ دو، میں نے اسے باآواز بلند جواب دیا، اتنی ’’بلند آوازی‘‘ سے کہ دوسری کتابیں بھی سن لیں، میں نے کہا ’’میری پیاری کتابو! تم سمجھتی ہو میں تمہیں تمہارا مقام نہیں دے رہا، حالانکہ میں تمہارا مرتبہ بلند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تم اسی طرح پڑے پڑے گل سٹر جائو اور یوں ایک دن مخطوطے کی شکل اختیار کرلو، مجھے انہیں یہ بھی بتانا پڑا کہ ترو تازہ کتاب مخطوطے کی شکل اختیار کرکے ہی گل وگلزار ہوتی ہے، موجودہ صورت میں تمہیں کوئی منہ بھی نہیں لگائے گا مگر مخطوطہ بنتے ہی تمہیں محققین تلاش کرتے پھریں گے، پھر تم پر پی ایچ ڈی ہوں گی، مقالہ در مقالہ لکھے جائیں گے اور یوں تمہیں ابدی مقام مل جائے گا!

تاہم ان سطور کا مطلب یہ نہیں کہ میں کتابوں کے ہجوم میں وقت گزار کر اور انہیں دیکھ دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں، بلکہ کبھی کبھار قرعۂ فال کسی ایک آدھ کتاب کے نام نکل آتا ہے اور میں اسے شیلف میں سے نکال کر جلدی سے دوبارہ شیلف کو تالا لگا دیتا ہوں کیونکہ موقع سے فائدہ اٹھا کر باقی کتابیں بھی اس عقوبت خانے سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ یہ عقوبت خانہ نہیں، ان کی آخری آرام گاہ ہے، جہاں سکون سے وہ اپنی زندگی کے دن گزار رہی ہیں اور بالآخر ایک دن انہیں مخطوطہ کا مقام حاصل ہو جانا ہے، ابھی گزشتہ دنوں میری نظر صابر ظفر کے نئے شعری مجموعے ’’کھیتوں کی ریکھائوں‘‘ پر پڑی، صابر ظفر میرا بہت پرانا دوست ہے، اس نے ساری عمر شاعری کی ہے اور یہ کتاب اس کی 45ویں کتاب ہے، میں نے ازراہِ بندہ پروری کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا اور پہلے سے آخری صفحے تک حیران ہی ہوتا چلا گیا، یہ شعری مجموعہ کھیتوں، کسانوں اور دیہاتی زندگی کے بارے میں ہے اور شاید اردو شاعری میں اس نوعیت کا پہلا مجموعہ ہے، اتنا عجیب موضوع اور اس پر اتنی مضمون آفرینی اور اتنی شعریت، بلّے بلّے صابر ظفر!

ہم وہ زمین زادگان، جن سے زمیں چھینی گئی

دیکھیں وہ بے دخلیاں، فصلِ یقیں چھینی گئی

دانوں بھری بوریاں لے کے ہوئے جو رواں

کوئی کہیں چھن گئی، کوئی کہیں چھینی گئی

اسی طرح ایک دن اچانک ایک مصنف کے نام پر میری نظر پڑی ’’محبوب صابر‘‘ ... میں سوچ میں پڑ گیا کہ کہیں یہ وہ شاعر تو نہیں جسے میں نے عین عالمِ شباب میں دیکھا تھا اور اسے میرے سمیت سب گوگی، گوگی کہتے تھے، شیلف میں سے کتاب نکالی تو یہ وہی گوگی نکلا جو بہت پڑھا لکھا، بہت انقلابی، بہت محبت کرنے والا نوجوان تھا، جو اب نوجوان نہیں مگر کم نوجوان بھی نہیں۔ اس نے اپنا شعری مجموعہ ’’برہنہ دھوپ‘‘ کے عنوان سے خود اپنی نگرانی میں شائع کیا تھا، چنانچہ اتنا دیدۂ زیب کہ بس دیکھتے ہی جائیں مگر یہ مجموعہ ظاہری خوبصورتی ہی نہیں باطنی خوبصورتی کابھی حامل ہے۔

کریں جو گھر کو مقفل تو کیوں کریں محبوب

متاعِ جان اثاثہ ہے، وہ بھی اپنا نہیں

........

یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ صدا دوں اس کو

اور یہ بس میں نہیں ہے کہ بھلا دوں اس کو

اس کو خیرات کروں اپنی بصارت کا طلسم

اور پھر شہر تمنا بھی دکھا دوں اس کو

........

میں جس شاعر گوگی کو جانتا تھا وہ اپنے اس مجموعے میں بہت آگے کی منزلیں طے کر چکا ہے۔ ویل ڈن بہت سوہنے گوگی....!

میرے خیال میں ابھی تک آپ سب کویقین آگیا ہوگا کہ میں ایک پڑھا لکھا عالم فاضل شخص ہوں، اگر میں ڈھیروں کتابوں کو مقفل رکھتا ہوں اور ان پر پڑی برسوں کی گرد بھی صاف نہیں کرتا تو یہ بھی کتابوں سے میری محبت کے سبب ہے، میں وقت کے ساتھ ساتھ ان کا مقام اور مرتبہ بڑھانا چاہتا ہوں۔ یہ کتابیں گل سڑ کر جب ایک دن مخطوطوں کی شکل اختیار کریں گی تو اس وقت مجھے اپنا سب سے بڑا محسن گردانیں گی۔ میں یہ کالم اپنی ہزاروں کتابوں کے گورستان میں بیٹھا لکھ رہا ہوں مگر لگتا ہے انہوں نے میرے کالم کی آخری لائنیں پڑھ لی ہیں کیونکہ مجھے شیلفوں میں بہت شور سنائی دے رہا ہے، شاید کیا یقیناً یہاں درج کرتا مگر یہ نادان کتابیں میرے حوالے سے نازیبا قسم کے نعرے لگا رہی ہیں... اب تو میں انہیں مخطوطہ بنا کر ہی چھوڑوں گا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: