کراچی سے گرفتار سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو رینجرز نے رہا کر دیا

پاکستان رینجرز سندھ نے تصدیق کی ہے کہ کراچی سے گرفتار کیے گئے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور صحافی ارسلان خان، جن کے گزشتہ روز لاپتا ہونے کی اطلاع تھی انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

ترجمان رینجرز کی جانب سےجاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رینجرز نے کراچی کے علاقے کلفٹن سے محمد ارسلان خان عرف 'اے کے 47' کو ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ روابط کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے مذکورہ دہشت گرد گروپ سے مبینہ مالی معاونت لینے اور روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

ترجمان رینجرز نے بتایا کہ واضح وائٹ کالر جرم کی بنا پر مکمل تحقیقات کی غرض سے کیس متعلقہ حکام کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

سندھ رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم کو مستقبل میں ہونے والی تفتیش میں تعاون کرنے کی تنبیہ کر کے رہا کردیا گیا۔

بعد ازاں ارسلان خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اپنی رہائی کی تصدیق کی۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ میں محفوظ اور صحیح سلامت گھر واپس آ گیا ہوں، آزمائش کی گھڑی میں جس طرح لوگوں نے میرے خاندان کو سپورٹ کیا، میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر متحرک نوجوان محمد ارسلان خان گزشتہ روز کلفٹن میں واقع اپنی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر لاپتا ہوگئے تھے جبکہ ان کے دوستوں کا دعویٰ تھا کہ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہے۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر پر ’اے کے 47‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ارسلان خان ماضی میں بطور صحافی جیو نیوز، اب تک، بزنس پلس اور اے پلس سمیت متعدد ٹی وی چینلز میں کام کر چکے ہیں۔

اس وقت وہ فری لانس صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، وہ ٹوئٹر پر بہت متحرک رہتے ہیں جب کہ ایک سماجی تنظیم ’کراچی بچاؤ تحریک‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

بعد ازاں ان کی اہلیہ عائشہ نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ 14 سے 15 مسلح رینجرز اہلکار جمعہ کی رات 4:30 بجے ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ارسلان خان کو لے گئے۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ ارسلان کو سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔

ویڈیو میں انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا تھا کہ وہ اس کیس کو دیکھیں اور ان کے شوہر کی بازیابی میں مدد کریں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ نے بھی اپنے ایک بیان میں ارسلان خان کی مبینہ گمشدگی پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں لوگوں کو اپنے پیاروں سے دور کر کے اختلاف رائے پر سزا دینے کے اس گھناؤنے عمل کو ختم کرنا چاہیے۔

کراچی بچاؤ تحریک، جو کہ کئی سیاسی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اتحاد ہے، نے بھی اپنے رکن کے ’اغوا‘ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور گمشدگی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی سوشل میڈیا کارکن ارسلان خان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں مبینہ گرفتاری کی شدید مذمت کی تھی اور ارسلان کی گرفتاری کو آزادی اظہار رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

ارسلان خان کی مبینہ گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کے لیے، صحافیوں سماجی اور سیاسی کارکنان نے ٹوئٹر پر آواز بلند کی تھی۔

error: