کراچی میں ’اومیکرون‘ کیسز میں اضافے کے باوجود اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہ

سندھ میں کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت نے ایس او پیز پر عمل درآمد میں سختی برتنے اور تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھتے ہوئے اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ہسپتالوں میں صحت سے متعلق سہولیات کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کا سروے کیا جائے گا تاکہ ہسپتالوں کی گنجائش جائزہ اور درکار سہولیات کا جائزہ لیا جاسکے۔

ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کی تنبیہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے تاہم جو سرکاری افسران ماسک نہیں پہنے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اجلاس میں ماسک نہ پہننے والے افسران کے خلاف جرمانے کے طور پر ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تمام شادی ہالز، مارکیٹوں، عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا۔

علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبو میں دینے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مارکیٹوں میں صرف ان افراد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جو ویکسین لگوا چکے ہیں، مارکیٹ انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ خریداروں کے ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کریں۔

حکومت نے صوبے بھر میں ویکسی نیشن مہم تیز کرنے کے ساتھ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اجلاس میں ریسٹورینٹ کی نگرانی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جو ریسٹورانٹس کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے انکے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں اضافہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا نتیجہ ہے، عوام تعاون کریں گے تو کورونا کی اس لہر پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ روز بعد دوبارہ ٹاسک فورس اجلاس ہوگا جس میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر این سی او سی نے 18 سال سے زائد عمر کے وہ افراد جو ویکسین کی مکمل خوراک حاصل کر چکے ہیں انہیں بوسٹر شاٹس لگوانے کی ہدایت دی ہے۔

error: