کراچی میں بارش اور ’حکومتی اہلکار شہر میں گھومتے رہے مگر انھیں چلو بھر پانی نہیں ملا‘

’روزِ آخرت کراچی والوں کا حساب نہیں ہو گا کیونکہ وہ پہلے ہی دوزخ میں رہ رہے ہیں۔‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے رہائشی ایسی ہی درد بھری ٹویٹس کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ کراچی میں حالیہ بارشوں سے آنے والے سیلاب کی خبر تو سبھی کو ہے مگر کیا حالات واقعی اتنے خراب ہیں کہ اس شہر کا موازنہ جہنم سے کیا جانے لگا ہے؟

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی بے شمار ویڈیوز اور تصاویر سے تو بظاہر ایسا ہی نظر آتا ہے۔۔۔ کوئی اپنے گھر گھس آنے والے بن بلائے پانی کے سیلاب کو نکال رہا ہے تو کوئی سڑک پر گرنے والے درخت ہٹا رہا ہے اور کوئی گہرے پانی میں ڈوبی گاڑیوں اور رکشوں پر بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔

اب سوشل میڈیا پر بھی شہر کی حالت زار سے متعلق بحث چھڑ گئی ہے اور لوگ اپنے اپنے علاقوں میں کھڑے پانی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے شہر کی انتظامیہ پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس بحث میں عام لوگوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے رہنما، سماجی کارکن اور اداکار بھی کسی نہ کسی کو اس تباہی کا ذمہ دار ٹھراتے نظر آتے ہیں۔

ڈیزائنر عاصم جوفا نے لکھا: ’ہر سال بارش ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کراچی کو انفراسٹرکچر کی بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ آغا خان جیسے ہسپتال بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ خدا ہم سب کی مدد کرے۔‘

سماجی کارکن نازش بروہی بھی ان سے اتفاق کرتی ہوئے کہتی ہیں کہ یہ صرف گٹروں کی صفائی کرنے سے ٹھیک نہیں ہو جائے گا۔

وہ مزید کہتی ہیں ’کراچی میں سیلاب کا مسئلہ حل کرنے کا مطلب ہے بڑے پیمانے پر نقل مکانی، گھروں اور دکانوں کو گرانا، معاوضوں کی ادائیگی، آبی گزرگاہوں کی بحالی، پراپرٹی کی غیر رسمی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانا۔ سیاسی اور معاشی اخراجات اور یہ سب اتفاق رائے کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔‘

جبکہ میر محد نامی صارف نے لکھا: ’پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے شہر کو تباہ کر دیا۔‘

قومی وطن پارٹی کے چیئیرمین آفتاب شیرپاؤ نے لکھا کہ اس عظیم تاریخی شہر کو بچانے کے لیے اور مستقبل کے لے مشترکہ طور پر طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

ملیحہ ہاشمی نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’اب بہت ہو گیا، یا تو کراچی کے لیے کچھ کیا جائے یا پیپلز پارٹی حکومت چھوڑ دے۔‘

ڈیجیٹل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد نے لکھا: ’سب سندھ کے لیے دعا کریں۔ لوگوں کے مال و جان داؤ پر لگے ہیں۔‘

لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹر سعید غنی رات گئے کراچی کی چند مشہور شاہراؤں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ’سب اچھا‘ کا راگ الاپتے ہوئے نظر آئے۔

اس پر مہوش اعجاز نے سعید غنی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’آپ ان علاقوں میں کیوں نہیں جاتے جو ابھی تک بارش اور گٹر کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’کیونکہ آپ کو کراچی شہر کے لوگوں کے لیے کچھ اچھا کرنے کی پرواہ نہیں۔ آپ کو صرف اپنی سیاست کی فکر ہے۔‘

فواد رحمان نامی صارف نے بھی سینٹر سعید غنی کو آڑے ہاتھوں لیا اور لکھا: ’سعید غنی صاحب پوری رات کراچی میں گھومتے پھرتے رہے مگر کہیں پر ان کو چلو بھر پانی نہیں ملا۔‘

صحافی وجاہت کاظمی نے لکھا: ’اگر کراچی میں بارش کچھ اور گھنٹے جاری رہی تو ریسکیو کے کام کے لیے ہمیں پاکستان نیوی کی ضرورت ہو گی۔ یہ کوئی مذاق نہیں۔‘

طوبی کبریا نامی صارف نے بارش سے ہونے والے نقصانات بیان کرنے کے لیے ایک شعر اور روتی ہوئی ایموجی کا سہارا لیا اور لکھا: ’میں ڈوب رہا ہوں مگر ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں۔ شکریہ سندھ حکومت۔‘

عماد خلیل نامی ایک صارف نے پشاور کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’دو روز سے کراچی میں بارش کے پانی کی وجہ سے تمام بندوقوں کا رخ پیپلز پارٹی کی جانب ہے۔ یہ پشاور یونیورسٹی روڈ کی آج بارش کے 30 منٹ بعد کی ویڈیو ہے۔ پشاور کی تکالیف کی کوئی بات نہیں کرتا۔‘