کراچی میں تجاوزات کا معاملہ: سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ پیش

سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس میں حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو فوری طور پر عدالت طلب کرنے پر وہ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوگئے۔

عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شہر میں تجاوزات کے خاتمے و دیگر معاملات پر سماعت کی، اس دوراں مختلف سرکاری عہدیداران پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران تجاوزات کے خاتمے سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے حکم پر کتنا عمل درآمد ہوا؟، ہم نے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی تھی کہ عمل درآمد اور نگرانی کریں۔

ساتھ ہی چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کہاں ہے وزیراعلیٰ سندھ کی رپورٹ؟ انہوں نے ہمارا حکم پڑھا ہے؟، ساتھ ہی انہیں ہدایت کی کہ وزیر اعلی کو بلائیں اور کہیں رپورٹ لے کر آئیں۔‎

چیف جسٹس نے عدالت ایڈووکیٹ جنرل کے نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کہاں ہیں؟ ان کو نہیں معلوم کہ کتنا اہم تھا یہ کیس۔

انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے حکم جاری کیا تھا لیکن اب تک عمل نہیں ہوا، کیا توہین عدالت کی کارروائی شروع کردیں۔

’کمشنر کو کیا معلوم ہوگا، 2، 2 ماہ میں تو کمشنر لگاتے ہیں‘

اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کمشنر کراچی سے پوچھ لیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمشنر کراچی کو کیا معلوم ہوگا، 2 دو مہینے کے لیے آپ کمشنر لگاتے ہیں، ہمیں وزیراعلیٰ بتائیں گے کہ کتنا عمل ہوا، یہ بچارے افسران کیا بتائیں گے۔

عدالتی ریمارکس کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بتا دیتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو رہنے دیں وزیراعلیٰ سندھ کو بلوا لیں۔

کمشنر کراچی کی سرزنش

دوران سماعت عدالت عظمیٰ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے کمشنر کراچی پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ بتائیں عدالتی احکامات پر کتنا عمل درآمد ہوا؟ جس پر کمشنر نے جواب دیا کہ میری ابھی تعیناتی ہوئی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تیاری کرکے آنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان لوگوں کو تو خود کچھ معلوم نہیں، شہر میں کیا ہو رہا ہے اور شہر کی کیا ضروریات ہوتی ہیں۔

عدالتی ریمارکس پر کمشنر کراچی نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کردی گئی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے آگے کسی اور کو کہہ دیا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیا صرف سیٹ گرم کرنے کے لیے بٹھایا گیا ہے؟ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے، کیا کرنا ہے؟ آپ کچھ نہیں جانتے، ادھر ادھر کی باتیں مت کریں، آپ نے مئی 2019 کا حکم پڑھا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پتا نہیں کیوں ان لوگوں کو ہمارے سامنے پیش ہونے کے لیے بھیج دیتے ہیں، ان کو کیا معلوم شہر والوں کی کیا ضروریات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ وزیراعلیٰ کو بلائیں ہم ان سے پوچھ لیتے ہیں، ساتھ ہی عدالت نے مراد علی شاہ کو فوری طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران کڈنی ہل پارک کی صورتحال سے متعلق چیف جسٹس نے کمشنر کراچی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نئی مسجد کی تعمیرات کا کام ہورہا تھا، جسے روکوا دیا ہے اور رپورٹ جمع کرادی ہے، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کہاں ہے رپورٹ؟ آپ خود گئے تھے وہاں پر؟

چیف جسٹس نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق کمشنر سے مکالمہ کیا کہ اب آپ پر چارج فریم کرکے آپ کو سن لیتے ہیں، آپ کو جیل بھیج دیں گے، آپ کو پتا ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں۔

’غیر قانونی تعمیرات کرنے والے 90 فیصد لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں‘

عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں، غیر قانونی تعمیرات کرنے والے 90 فیصد لوگ شہر چھوڑ کر جاچکے ہیں، اب کس کو پکڑیں گے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بڑے مافیاز ہیں، ایک ایک پلاٹ کئی کئی لوگوں کو الاٹ ہوئے، رفاہی پلاٹوں پر بھی تعمیرات ہوئیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں، ایک دن یہ شہر زمین بوس ہوجائے گا اور ایک کروڑ 40 لاکھ لوگ اس دنیا سے چلے جائیں گے۔

عدالت میں سماعت کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈی جی بھی موجود تھے۔

‘شہر کی حالت پر فاتحہ پڑھ لیں‘

شہر کی حالت سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے عدالت نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو مولوی ہیں، ابھی سے فاتحہ پڑھ لیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کی انکوائری کررہا ہوں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اب کچھ نہیں کرسکتے، کام کرنے والے ملک چھوڑ کر چلے گئے، آپ کو لوگ بیچ کرکھا گئے ہوں گے، آپ کے جعلی دستخط چل رہے ہوں گے، آج میڈیا سے پتا چلا ہے وزیر نے آپ کو بلڈنگ لینڈ منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پتا ہے اگر وزیر کا حکم نہیں مانا تو آپ زیادہ دیر تک عہدے ہر نہیں رہ سکتے۔

عدالتی ریمارکس کے بعد ڈی جی ایس بی سی اے نے جواب دیا کہ اب رفاہی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دے رہے، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے آپ بڑے معصوم لگ رہے ہیں۔

’بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والوں کے ساتھ پورا مافیا ہے‘

دوران سماعت چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ آپ لیاری سے لے کر ہائی وے تک کہاں، کہاں غیر قانونی تعمیرات گرائیں گے، کیا آپ نے بحریہ ٹاؤن دیکھا ہے، بحریہ ٹاؤن کو پورا ایک نیا شہر بنادیا گیا ہے، آپ سے بحریہ ٹاؤن میں کتنے گھروں کی اجازت لی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے غیر قانونی تعمیرات گرانے سے غریب لوگوں کے گھر جائیں گے، ان غریب لوگوں نے بھی پیسے دیے ہوں گے،اس پر ڈی جی نے کہا کہ پہلے معاملے کی انکوائری ہوگی، اس معاملے میں سندھ حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا، کس کمزور حمایت کا آپ نے ذکر کردیا، آپ کے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والوں کے ساتھ پورا مافیا ہے، آئی آئی چندریگر روڈ، بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ) اور اطراف کی گلیوں تک بھی غیر قانونی عمارتیں قائم ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیس 4 سال سے چلارہے ہیں، اب تک کچھ نہیں ہوا، ایک منزلہ عمارت کی اجازت پر کثیرالمنزلہ عمارت کھڑی کی جاری ہیں۔