کراچی میں تجاوزات کا معاملہ: ’پی ای سی ایچ ایس والے انہیں زمین الاٹ کرتے ہیں جو مُٹھی گرم کرتے ہیں‘

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں تجاوزات کے معاملے میں ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پی ای سی ایچ ایس والے ان لوگوں کو زمین الاٹ کرتے ہیں جو مُٹھی گرم کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد اور قاضی محمد امین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مختلف کیسز پر سماعت کی۔

کڈنی ہل پارک کی زمین پر تجاوزات کے خاتمے سے متعلق سماعت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے گھر ابھی تک گرا دیے گئے ہیں۔

متاثرہ خاتون کے وکیل انور منصور خان نے بتایا کہ ابھی تک صرف تین گھر گرائے ہیں اور ابھی باقی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمشنر کراچی کہاں ہیں، ابھی تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔

انور منصور خان نے بتایا کہ 13 گھر اور راول مسجد گرانے کا حکم دیا تھا، اس میں سے صرف 4 گرائے گئے ہیں، باقی لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

کمشنر کراچی نے بتایا کہ کمشنر کراچی کے دفتر کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی گئی تھی کہ گرا دیے، میں دیکھتا ہوں جو ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کا بالکل اندازہ نہیں ہے، پرانے والے کمشنر نے رپورٹ جمع کرائی تھی کہ گرا دیے ہیں۔

امبر علی بھائی نے استدعا کی کہ ہل پارک کی زمین کی پیمائش جدید طریقے سے کرائی جائے، ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے پتا کرایا جائے کہ کس نے کتنا ہل پارک کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے گھر نہیں بنائے ہیں اپنے گھروں کی دیواریں آگے بڑھا رکھی ہیں، پورے گھر پارک کی زمین پر نہیں ہیں کچھ زمین پارک کی لے لی گئی ہے، پی ای سی ایچ ایس والوں سے ان گھروں کا اصل لے آؤٹ پلان منگوایا جائے۔

وکیل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نے کمیونٹی سینٹر کی جگہ پر شادی ہال بنا دیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں بہت گڑبڑ کی ہوئی ہے، پی ای سی ایچ ایس والے پتہ نہیں کیسے زمین الاٹ کر رہے ہیں، ان لوگوں کو زمین الاٹ کرتے ہیں جو مُٹھی گرم کرتے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ سیکریٹری پی ای سی ایچ ایس صاحب، کتنی زمین الاٹ کی ہے ابھی تک آپ نے، جس پر سیکریٹری نے کہا کہ میں نے ابھی تک کوئی زمین الاٹ نہیں کی ہے۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ لیں پھر یہ نہ ہو کہ اپنی جیب سے پیسے بھرنے پڑیں، اب چئیرمین اور سیکریٹری پی ای سی ایچ ایس کے خلاف ایف آئی آرز ہوجائیں گی۔

انہوں نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کو اسلام آباد میں 4 جنوری کو سنیں گے اور ساتھ ہی کمشنر کراچی اور کے ایم سی سے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

کس قانون کے تحت پارک کی زمین الاٹ کی گئی ہے، چیف جسٹس

گٹر باغیچہ سے متعلق کیس کی سماعت میں کے ایم سی آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے چئیرمین، سماجی کارکن امبر علی بھائی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیئرمین کے ایم سی آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ میرے وکیل 4 جنوری تک چھٹی پر ہیں، آپ نے ہی چھٹی دی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو وکیل ہی وہ ملا تھا جو چھٹی پر ہے، جس پر چیئرمین سوسائٹی نے کہا کہ گزشتہ 25 سال سے ابرار حسن ہی ہمارے وکیل ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ کو اس طرح فرار نہیں ہونے دیں گے، اپنا کیس چلائیں۔

چئیرمین سوسائٹی نے عدالت کو بتایا کہ سندھ لوکل کونسل رولز کے تحت زمین الاٹ کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کتنی زمین ملی ہے کہاں لکھا ہے، جس پر سوسائٹی چیئرمین نے بتایا کہ سب لکھا ہوا ہے، اس میں 200 ایکڑ زمین ملی تھی۔

جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کن رولز کے تحت زمین الاٹ کی گئی تھی، اس پر چیئرمین سوسائٹی نے کہا کہ میرے وکیل صاحب عدالت کو بہتر بتا سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ تو لے آتے نا وکیل کو، عدالت آپ کا انتظار نہیں کرے گی، چیئرمین سوسائٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ مختصر تاریخ دے دیں اور اسلام آباد میں سماعت رکھ لیں۔

امبر علی بھائی نے کہا کہ 25 سال سے معاملہ ملتوی ہو رہا ہے، میں اسلام آباد نہیں آسکتی ہوں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ میونسپلٹی کی زمین کیسے الاٹ کی جاسکتی ہے، ایڈووکیٹ جنرل صاحب دیکھیں کس رول کے تحت زمین دی گئی ہے۔

جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ رول دس کے تحت دفتر میں بیٹھ کر بس الاٹ کر دیں، ایسے تو کچھ نہیں بچے گا، ویسے بھی کچھ بچا نہیں ہے۔

امبر علی بھائی نے بتایا کہ ہم نے 1929 کا نقشہ لگایا ہے گٹر باغیچہ پر ٹریٹمنٹ پلانٹ تھا۔

چیئرمین سوسائٹی نے کہا کہ میرا گھر مجھ سے چھن رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کونسا گھر ہے، وہاں کون چھین رہا ہے، غلط بیانی نہ کریں، کونسا گھر ہے آپ وہاں پر یہ بتائیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت پارک کی زمین الاٹ کی گئی ہے یہ بتائیں، اس پر چیئرمین سوسائٹی نے دوبارہ کہا کہ میرے وکیل ہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم سماعت ملتوی کریں گے تو اگلے ہفتے اسلام آباد میں سنیں گے۔

عدالت نے چیئرمین کے ایم سی آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کی درخواست پر سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی اور سماجی کارکن امبر علی بھائی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی۔

پارک کی جگہ پر مسجد بنادی گئی ہے، جسٹس گلزار احمد

طارق روڈ پر پارک کی جگہ پر مسجد کی تعمیر سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مدینہ مسجد کی طرف سے کوئی آیا ہے، کیا مدینہ مسجد سے اوقاف کا کوئی تعلق ہے، جس پر سیکریٹری اوقاف نے نفی میں جواب دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارک کی جگہ پر مسجد بنادی گئی ہے۔

جسٹس قاضی امین نے سیکریٹری اوقاف سے کہا کہ آپ جاکر معلوم کریں کہ کیسے مسجد بنادی گئی ہے۔

ضلعی کمشنر (ڈی سی) شرقی طلب کیے جانے پر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ آج مسجد والوں کو بلایا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے کچھ کرنا ہے یا ہم نے ہی سب کچھ کرنا ہے، آپ ڈی سی ہیں کچھ تو کریں، کیا صرف تنخواہ لینے کے لیے ڈی سی بنے ہوئے ہیں۔

ڈی سی شرقی نے کہا کہ میں انتطامی کام دیکھتا ہوں، جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا کام کرتے ہیں، کاغذ ادھر کیا ادھر کیا، کام کیا کرتے ہیں۔