کراچی میں پانچ سالہ بچی ’ساری رات والدہ کی لاش کے نیچے دبی رہی‘

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی پولیس کے مطابق ایک پانچ سالہ بچی ساری رات اپنی والدہ کی لاش کے نیچے دبی رہی جسے پیر کی صبح نکالا گیا اور فلاحی سینٹر منتقل کیا گیا۔

صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا کہ منگھو پیر تھانے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے اور ایک شہری بتاتا ہے کہ ویرانے میں لاش موجود ہے۔ اے ایس آئی سبحان علی شاہ سپاہیوں کے ساتھ جائے وقوعہ پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ زمین پر ایک خاتون منھ کے بل موجود ہیں اور سر سے نکلنے والا خون زمین پر پھیلا ہوا ہے۔

اس خاتون نے سیاہ رنگ کے کپڑے اور اس پر سیاہ رنگ کا ہی برقعہ پہنا ہوا تھا۔ لاش کے نیچے تقریباً پانچ سال کی بچی بھی موجود تھی۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک گولی کا خول اور ایک زندہ راؤنڈ ملا ہے۔

ایک ویڈیو میں اس بچی کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’میں ماما کے نیچی دب گئی تھی۔‘ بچی کی نانی، جو اسے لینے فلاحی ادارے پہنچی تھیں، نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو شوہر کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔

شناخت سم کارڈ کی مدد سے

28 سے 30 سالہ عمر کی ممتاز کی لاش عباسی شہید ہسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سیدہ سمیعہ کے مطابق عورت کے سر میں ایک ہی گہری چوٹ کا نشان ہے اور کسی جنسی زیادتی کا ثبوت نہیں ملا جبکہ بچی پر بھی معمولی چوٹوں کے نشانات ہیں۔

پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو چھیپا ویلفیئر کے سرد خانے منتقل کردیا گیا جبکہ بچی کو ایک فلاحی ادارے میں بھیج دیا گیا۔

جائے وقوعہ سے پولیس کو شناخت کا کوئی کارڈ وغیرہ دستیاب نہیں ہوا۔

ایس ایس پی ویسٹ ڈاکٹر فاروق رضا کے مطابق مقتولہ کی بائیو میٹرک سے شناخت نہیں ہو پا رہی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا نادرا میں ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ’خاتون کے بیگ میں ایک سم کارڈ موجود تھا جس سے کالز کی گئیں اور ایک نمبر پر خاتون نے اپنا نام نجمہ بتایا اور کہا کہ یہ اس کی بیٹی ممتاز کا نمبر ہے۔

’اس کے بعد مقتولہ کی شناخت ممتاز بیگم اور بیٹی کی شناخت کی گئی جو گلشن اقبال موتی محل کے رہائشی تھے۔‘

کراچی، پولیس، بچی

’میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں تھے‘

ممتاز کی والدہ نجمہ تقریباً چوبیس گھنٹے کے بعد اپنی نواسی کو لینے پہنچیں جہاں انھوں نے بتایا کہ اتوار کی رات آٹھ بجے کے قریب ان کی بیٹی ممتاز یہ کہہ کر نکلی تھی کہ ان کو کوئی کام ہے جس کے بعد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق ممتاز بیگم کا ایک بیٹا بھی ہے جس کو وہ گھر چھوڑ کر گئی تھی۔

ان کا الزام ہے کہ ان کا داماد نشہ کرتا تھا اور میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ دو روز قبل بھی نیپا کے قریب دونوں کی ہاتھا پائی ہوئی اور تشدد میں ان کی بیٹی کے کپڑے پھٹ گئے اور شوہر ان کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ ’اس کی چیخ و پکار پر لوگ جمع ہوگئے جس کے بعد وہ بھاگ گیا اور اس نے کہا کہ ’ممتاز، دیکھنا اب میں تمھارے ساتھ کیا کرتا ہوں‘۔‘

ممتاز کے چچا نظیر احمد کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی کے تعلقات ایک ڈیڑھ سال سے خراب تھے مگر اس سے قبل دونوں ٹھیک چل رہے تھے۔ ’وہ شوہر کو نشئی دوستوں کو گھر آنے سے روکتی تھی۔‘

پولیس کو بھی مقتولہ کے شوہر پر شبہ ہے تاہم ایس ایس پی انویسٹی گیشن راؤ عارف کا کہنا ہے کہ انھوں نے والدہ کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ ’سی ڈی آر ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے تاہم اس وقت کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.