کراچی کو 2050 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کیلئے حکومت، کے الیکٹرک میں معاہدے کا امکان

اسلام آباد: اربوں روپے کی ماضی کی ادائیگیوں اور وصولیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت اور کے الیکٹرک نے کراچی کو 2 ہزار 50 میگاواٹ کی فراہمی کے لیے بجلی کی خریداری کے ایک نئے معاہدے (پی پی اے) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اس کے تحت حکومت ٹیرف سبسڈی کی بروقت ادائیگی کرے گی اور کے الیکٹرک اسٹینڈ بائی کریڈٹ (ایس بی ایل سی) کے ذریعے اپنے بجلی کے بلوں کو کلیئر کرے گا۔

اس حوالے سے حکومت نے وزارت خزانہ کے ذریعہ سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر پر مارکیٹ پر مبنی مارک اپ کی ادائیگی کے لیے علیحدہ معاہدے پر دستخط کرنے کا عہد کیا ہے۔

کے الیکٹرک اسکرو اکاؤنٹ کے تعاون سے ایس بی ایل سی فراہم کرے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے الیکٹرک کو بجلی کی فراہمی کی وجہ سے ماہانہ بلوں کے لیے خودکار نظام کے تحت ادائیگی حاصل کرے گی۔

پرانی ادائیگیوں اور وصولیوں کو ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے ساتھ سبسڈی کی ادائیگیوں کو سی پی پی اے سے جوڑنے کے لیے کے الیکٹرک کا اہم مطالبہ 5 مئی کو تشکیل دی جانے والی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں حل نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ادائیگی کے طریقہ کار اور کراچی کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے ان معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے دونوں فریقین رضامند ہوئے وہیں ‘کے ای وزارت خزانہ کی جانب سے سبسڈی کی بنیادی رقم کی ادائیگی کے بغیر ایس بی ایل سی اور ایسکرو اکاؤنٹ کیسے فراہم کرے گا’ توقع کی جارہی ہے کہ پیر اور اس کے بعد معاہدہ کیا جائے گا۔

اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس بی ایل سی یا سبسڈی کی ادائیگی کے لیے لیکویڈیٹی اہم چیلنج رہے گی لہذا اس کا حل درکار ہے یا کے ای کو بینکوں سے قرض لینا پڑے گا۔

کے ای سبسڈی کی بروقت ادائیگی کے لیے حکومت کی گارنٹی بھی چاہتا تھا۔

موجودہ نرخوں پر کے ای کی جانب سے قابل ادا ماہانہ بجلی کا بل تقریباً 13 ارب روپے ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ماہانہ ٹیرف سبسڈی تقریباً 8 سے 9 ارب روپے ہے۔

کسی بھی معاہدے پر کام کرنے کے لیے مزید ملاقاتوں کی ضرورت ہوگی۔

گورنر ہاؤس کراچی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر توانائی حماد اظہر، معاون خصوصی برائے بجلی اور پٹرولیم تابش گوہر، سیکریٹری خزانہ اور بجلی اور کے الیکٹرک کے سربراہ مونس علوی کی سربراہی میں ان کی ٹیم نے شرکت کی۔

اسد عمر نے ڈان کو اس بات کی تصدیق کی کہ ماضی کی ادائیگی اور وصولیوں کے تنازع کو آپس میں غیر منسلک کردیا گیا ہے، یہ قدم ضروری تھا جس کے بغیر قومی گرڈ سے کراچی کو تقریبا 2 ہزار 50 میگاواٹ بجلی کی فراہمی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا ‘کے ای کی نجکاری کی گئی تھی کراچی یا اس شہر کے لوگوں کی نہیں’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کے ای کو 650 میگاواٹ کی فراہمی بغیر کسی قانونی معاہدے کے برسوں سے جاری ہے اور اب اس میں تقریبا 1400 میگاواٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔

وزیر توانائی حماد اظہر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ حکومت اور کے الیکٹرک نے اضافی بجلی کی فراہمی، ادائیگی کے طریقہ کار اور سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے اپنے بیشتر دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے اصولوں پر اتفاق کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تیزی سے ایک نئے پی پی اے کی طرف بڑھ رہے ہیں’۔

دوسری جانب کے ای نے کہا کہ اس کی قیادت نے بین الوزارتی کمیٹی کے ممبران اور سینئر سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کی اور اس کو درپیش چیلنجز کی وضاحت کی اور جاری منصوبوں کی پیشرفت سے متعلق اپڈٰیٹ دی۔

اجلاس کے دوران حکومت پاکستان کے نمائندوں نے کراچی کی عوام سے اپنی وابستگی کی تصدیق کی اور اشارہ دیا کہ پی پی اے پر جلد دستخط ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: