Site icon Dunya Pakistan

کراچی کی بِپتا

آفت زدہ کراچی اپنے وزیر اعظم کا منتظر ہے۔ کورونا کی شدت کے دنوں میں بھی کراچی والوں کو گلہ تھا کہ جنابِ وزیر اعظم باقی تینوں صوبوں میں جا رہے ہیں لیکن ان کے لیے وقت نہیں نکال پائے۔ 2013 ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک ہی نشست پی ٹی آئی جیت پائی تھی(یہ خوش نصیب ڈاکٹر عارف علوی تھے) اور صرف پانچ سال بعد یہاں سے قومی اسمبلی کی 16نشستیں اس کے کھاتے میں لکھی گئیں۔ کورونا کے بعد کراچی اپنی تاریخ کی بد ترین اربن فلڈنگ کا شکار ہے جس میں تمیزِ بندہ و آقا مٹ گئی ہے کہ امراا ور رؤسا کی بستیوں میں بھی عذاب کی شدت اور آفت کی کیفیت کم نہیں۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ جمعرات کی شب شکایت کررہے تھے‘ وزیر اعظم کی آمد کے لیے جمعرات کا کہا گیا‘ پھر جمعہ کی خبر آئی اور اب بات ہفتے پر جا پڑی ہے۔ نواب زادہ صاحب یاد آئے ‘ زندہ ہوتے تو یہ شعر پڑھتے ؎
ہم انتظار کریں گے تیرا قیامت تک
خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے
عربی کا مقولہ ہے(ترجمہ) انتظار موت سے بھی شدید تر ہوتا ہے لیکن منفرد لب و لہجے کے شاعر رسا چغتائی نے یہاں بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی ؎
تیری آمد کا انتظار رہا/ عمر بھر موسمِ بہار رہا
انتظار کے حوالے سے کچھ مقولے اور محاورے بھی ہیں‘ مثلاً ''دیر آید‘ درست آید‘‘ یا ''ہوئی تاخیرتو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا‘‘ تو کیوں نہ ہم بھی حسنِ ظن سے کام لیں ‘ ہو سکتا ہے آفت زدہ کراچی کے لیے ریلیف پیکیج کو حتمی شکل دینے‘ اس کی نوک پلک سنوارنے میں کچھ وقت لگ گیا ہو جسے ''کراچی ٹرانسفارمیشن پلان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اگر چہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کسی ''خوش فہمی‘‘ کا شکار نہیں۔ ان کا کہنا تھا‘ کچھ بھی نہیں ہو گا‘ وہ آئیں گے‘ انہیںپریزنٹیشن دی جائے گی‘ خوش کن پیکیج کا اعلان ہو گا اور وہ واپس چلیں جائیں گے۔ اس پیکیج کا بھی وہی ہو گا جو اِن کے 162ارب روپے والے پیکیج کا ہو چکا۔ انہیں وزیر اعظم کی آمد میں تاخیر کا بھی گلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا‘ وزیر اعظم انہی دنوں لاہور ہو آئے لیکن کراچی نہ آسکے‘ اشارہ جنابِ وزیر اعظم کے یکم ستمبر کے دورۂ لاہور کی طرف تھا۔ وہ سہ پہر تین بجے نشریف لائے۔ ایک میٹنگ میں انہیں راوی کنارے ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل نئے شہر کے منصوبے ''راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ‘‘ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کیلئے ان کی ہدایت تھی کہ اس منصوبے پر عملی پیش رفت کو روزانہ مانیٹر کریں اور انہیں لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھیں۔ وزیر اعظم کے دورے کے ساتھ بیوروکریسی اور پولیس میں وسیع پیمانے پر اعلیٰ سطحی تبادلوں اور تعیناتیوں کی روایت اس بار بھی بر قرار رہی۔ وزیر اعظم ابھی اسلام آباد واپسی کے راستے ہی میں تھے کہ پنجاب میں پولیس افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری ہو گئے۔ بعض ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (DPOs)کے علاوہ راولپنڈی‘ ساہیوال اور ڈیرہ غازی خاں کے ریجنل پولیس آفیسرز (RPOs) بھی تبادلوں کی زد میں تھے۔ سب سے ''دلچسپ‘‘ معاملہ کیپٹل سٹی پولیس لاہور کا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ذوالفقار حمید کی جگہ عمر شیخ (DIG,SPU) کے تقرر کو آئی جی شعیب دستگیر کی تائید حاصل نہیں ۔
کراچی میں اس آفت کو دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا۔ ریلیف پیکیج کی تیاری کیلئے وقت چاہیے تھا تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس دوران جنابِ وزیر اعظم مصیبت زدگان کی اشک شوئی اور دل جوئی کیلئے ہی کراچی کا چکر لگا آتے۔ علامتی اقدامات کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ 1992ء کے سیلاب میں جہلم بھی متاثرہ شہروں میں شامل تھا۔ ٹی وی پر تصویر آئی ‘وزیر اعظم ایک زیرِ تعمیر دیوار پر اپنے ہاتھوں سے ''گارے‘‘ کاتودا رکھ رہے تھے‘ ظاہر ہے‘متاثرہ مکان کی مرمت اور تعمیرِ نو کا کام تو معمار اور مزدورں نے ہی کرنا تھا ‘ وزیر اعظم کی علامتی ''شرکت‘‘ کی اپنی اہمیت اور افادیت تھی۔ اگست 2010 کے سیلاب میں جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہواتھا۔ اگست کی پہلی‘ دوسری تاریخ تھی۔ میاں نواز شریف مری میں تھے۔ عطا الحق قاسمی کے ساتھ میں بھی مری میںتھا۔ ڈاک خانہ کے پاس سہیل وڑائچ بھی مل گئے۔ میاں صاحب سے ملاقات کیلئے ہم گورنمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے مسلسل رابطے میں تھے ۔ شہباز شریف کیلئے ان کی ہدایت تھی کہ لاہور واپس جانے کے بجائے بحالی کے کاموں کی نگرانی کیلئے یہیں رک جائیں؛چنانچہ خادم پنجاب نے یہیں اپنا کیمپ آفس بنا لیا۔ متعلقہ سرکاری حکام کے علاوہ وہ علاقے کے ارکانِ اسمبلی کو بھی روزانہ کا ٹاسک دیتے اور اگلے روز باقاعدہ رپورٹ طلب کرتے ۔ وہ خود بھی متاثرہ علاقوںمیں پہنچنے کی کوشش کرتے ۔
اگست 1973ء پاکستان میں بدترین سیلاب کا مہینہ تھا ۔ ادھر آئین نا فذ ہوا‘ بھٹو وزیر اعظم بن گئے اور منصبِ صدارت پر فضل الٰہی چودھری براجمان ہوئے ‘ ادھر سیلابوں نے آلیا۔ بھٹو صاحب سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر نکلے‘ ان کا کہنا تھا‘ وہ سیلاب کے ساتھ ساتھ چلیں گے اور اسے بحیرئہ عرب میں غرق کر کے ہی دم لیں گے۔ اور یہی ہوا۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر (اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف) شہباز شریف بازی لے گئے اور جناب وزیر اعظم سے پہلے کراچی کا چکر لگا آئے۔ شہر ِقائد کو 1970ء تک مسلم لیگ اور مسلم لیگیوں کا شہر سمجھاجاتا تھا۔ مہاجروں کا فطری انتخاب مسلم لیگ ہی تھی۔ ایوب خاں کی کنونشن مسلم لیگ کی بجائے وہ خواجہ ناظم الدین (اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح) کی مسلم لیگ کے متوالے تھے‘ جنوری 1965ء کے صدارتی انتخابات میں سرکاری مشینری کی بد ترین دھاندلی کے باوجود یہاں مادرِ ملت کو شکست نہ دی جا سکی جس کے بعد فیلڈ مارشل کے صاحبزادے گوہر ایوب کی زیر قیادت ایک جلوس سے مادرِ ملت کے حامی مہاجروں پر فائرنگ کر دی‘ کراچی میں پختون مہاجر تقسیم کی جڑیںگہری ہو گئی تھیں۔
1970میں بھٹو کے طوفان میں بھی کراچی میں پیپلز پارٹی صرف 2 سیٹیں جیت سکی(نبیل گبول کے چچا عبدالستار گبول اور حفیظ پیرزادہ) باقی 5نشستوں میں سے 2جماعت اسلامی (پروفیسر غفور احمد اور محمود اعظم فاروقی) 2جمعیت علمائے پاکستان(مولانا نورانی اور مولانا اظہری) اور ایک پر مسلم لیگی رہنمامولانا ظفر احمد انصاری (جماعت اسلامی کی حمایت کے ساتھ) آزاد امیدوار کے طور پر جیتے۔ پھر کراچی کے مہاجر ایم کیو ایم کے اسیر ہو گئے۔ نواز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ نے کراچی میں اپنے لئے قابلِ لحاظ پولیٹیکل سپیس پیدا کر لی تھی۔ 1993ء میں اس نے یہاں قومی اسمبلی کی تین نشستیں جیت لیں(حلیم صدیقی‘ اعجاز شفیع اور ابو بکر شیخانی)۔ دوست محمد فیضی اور زہیر اکرم ندیم بھی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اندرونِ سندھ مسلم لیگ کیلئے امکانات ایک الگ موضوع ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں شہباز شریف بھی کراچی سے قومی اسمبلی کے امید وار تھے۔ رزلٹ کا اعلان ہوا تو فیصل واوڈا تقریباً700ووٹوں کی سبقت سے کامیاب قرار پائے ۔ کراچی کے انتخابات پر مصطفیٰ کمال کا تبصرہ دلچسپ تھا‘ یہاں الیکشن کی حقیقت جاننا ہے تو صرف 2سیٹوں کا فرانزک کرا لیا جائے۔ ایک فیصل واوڈا والی سیٹ اور دوسری عامر لیاقت کی سیٹ‘ جہاں فاروق ستار شکست خوردہ قرار پائے تھے۔
شہباز شریف 2ستمبر کی صبح لاہور سے روانہ ہوئے اور اگلے سہ پہر واپس آئے۔ کراچی میں ان کا یہ ڈیڑھ دن بہت مصروف تھا۔ بلاول ہاؤس میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے مذکرات ایک اہم سیاسی پیش رفت تھی۔ فیصل ایدھی سے ملاقات کے علاوہ انہوں نے بیشتر وقت آفت زدہ شہر کے باسیوں کے درمیان گزارا۔ وہ جہاں بھی گئے‘ لوگ اپنی بپتا سنانے اور مشکل کی گھڑی میں خبر گیری پر شکریہ ادا کرنے ان کی گاڑی کے گرد جمع ہو جاتے۔

Exit mobile version