کرسمس، کورونا اور تنہائی

سال 2020کا یہ میرا آخری کالم ہے۔یوں تو سال 2020 کب اور کیسے گزر ا،اس کا اندازہ لگانا تو دور، اس کے بارے میں سوچ کر بھی ہم مایوس اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے لوگوں کی موت اور اس کے وائرس سے جھیلنے والے لوگوں کی کہانیاں سن سن کر اب بھی دنیا میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔امیر ترین ممالک دولت کی زور پر ویکسین بنانے میں کامیاب تو ہوگئے لیکن اب بھی اس بات کا خوف دل و ذہن سے نہیں جارہا ہے کہ آخر کورونا سے ہمیں کب نجات ملے گی۔

ا ب تک میں نے ہر ممکن یہ کوشش کی ہے کہ میں ہر موضوع پر کالم لکھوں اور مجھے اس بات کا یقین بھی ہے کہ میرے کالم پڑھنے والوں کو ہر ہفتے ایک نئے مو ضوع کو جاننے اور پڑھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ میرے مضامین کے ذریعہ لوگوں کے معلومات اور علم میں اضافہ ہوتا رہے اور اس کا ثبوت میرے چاہنے والوں کے فون، ای میل اور فیس بُک کے ذریعہ ان کے مفید مشورے اور حوصلہ افزائی سے ہوتا رہتا ہے۔

سچ پوچھیے تو پچھلے دس برسوں سے کالم لکھنے کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھرمیں ہمارے قارئین اور شائقین ہیں۔ جن کی حوصلہ افزائی اور پیار نے مجھ میں ایسا جذبہ پیدا کر رکھا ہے کہ ہم اپنی تمام تر مصروفیت کے باجود ہر ہفتے اپنے پیارے قارئین کے لیے کالم لکھنے سے اب تک تھکے نہیں ہیں۔انہی لوگوں نے مجھے اپنے مشورے اور پیار سے ایک کالم نگار بنایا ہے۔

برطانیہ میں کورونا کی دوسری لہر اور بڑھتے ہوئے کیسز کے مد نظر اس سال کرسمس کا تہوار کافی پھیکا دِکھ رہا ہے۔پہلے تو کچھ امیدیں جاگی تھیں اور ایسا اندازہ لگایا جارہا تھا کہ کرسمس کے موقعہ پر لوگوں کو کچھ راحت ملے گی۔ تاہم اس کے برعکس اچانک وزیراعظم بورس جونسن کے اس اعلان سے لوگوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس بڑھ گیا جب انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد حالت آپے سے باہر ہوچکا ہے اور جس کے لیے انہیں سخت حفاظتی اقدام اٹھانے پڑیں گے۔کئی ممالک نے برطانیہ سے ہوائی سفر بھی معطل کر دیا ہے اور ہسپتالوں میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد بھی کافی بڑھ گئی ہے۔سڑکوں سے گاڑیاں غائب ہیں اور ہر طرف ہو کا عالم ہے۔اللہ ہی جانتا ہے کہ اس وبا سے ہمیں کب نجات ملے گی۔

آج میں نے سوچا کیوں نہ ہم آپ لوگوں سے برطانیہ میں کرسمس کے تہوار، کرونا اور تنہائی کے موضوع پر گفتگو کریں۔میں سب سے پہلے لوگوں کو کرسمس کے تہوار کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آج اسی مو ضوع پر آپ کو بتائیں گے کہ برطانیہ میں کرسمس کے تہوار کیسے مناتے ہیں اور کیوں اس موقعہ پر لگ بھگ لاکھوں لوگ تنہا ئی محسوس کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ تنہائی کسی بھی عمریا حالات میں ہوسکتی ہے۔لیکن اس میں شدّت وقت کے ساتھ ساتھ عمر دررازلوگوں میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ایک مطالعہ کے مطابق تنہائی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاً خراب صحت، ٹرانسپورٹ کی کمی، چلنے پھرنے میں دشواریاں، کم آمدنی،کسی قریبی رشتہ دار کا انتقال ہوجانا، بلا وجہ خوف کھانا اور ریٹائرمینٹ وغیرہ عام ہیں۔ لیکن سال 2020میں کورونا وئرس کے پھیلنے سے دنیا بھر میں زیادہ تر لوگوں نے تنہائی کو محسوس کیا ہے۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور مارے خوف لوگ ایک دوسرے سے ملنے جلنے سے کترا رہے ہیں۔
چند سال قبل بی بی سی ریڈیو کے سروے کے مطابق برطانیہ میں 28% فی صد لوگ کرسمس کے دن تنہا ہوتے ہیں۔ جن میں 7% فی صد نوجوان ہوتے ہیں اور 10%فی صد عمر دراز لوگ ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مرد ہوتے ہیں اور ان لوگوں کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی ہے۔ اس مطالعہ میں 28%فی صد لوگوں نے یہ بھی کہا کہ’وہ کرسمس میں بالکل تنہا ہوجاتے ہیں‘۔ وہیں 33%فی صد معمر لوگوں نے جدید تکنالوجی کو الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی تنہائی کا ایک سبب جدید تکنالوجی ہے جس نے انہیں الگ تھلگ کر دیا ہے۔ جبکہ 85%فی صد لوگوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے جلنے اور آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرنے کو ترجیح دیا ہے۔ 65%فی صد لوگوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ انہیں کرسمس کے موقعہ پر تنہا رہنے والے رشتہ دار، دوست اور پڑوسیوں کی مدد کرنی چاہیے اور کرسمس کے موقعے پر ان سے ملنا جلناچاہیے۔

(Campaign to End Lonelines) ’کمپین ٹو اینڈ لونلی نیس‘ گروپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ یہ سروے ایک چونکا دینے والی بات ہے لیکن ہمیں اس سروے سے حیرانی سے زیادہ پریشانی ہورہی ہے۔Lonelines) (Campaign to End کمپین ٹو اینڈ لونلی نیس کی ڈائریکٹر لورا فرگسن نے کہا کہ تنہائی صرف کرسمس کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تو لوگوں کو پورے سال رہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کبھی کبھی یہ تنہائی مسلسل نہیں ہوتی ہے اور یہ اس بات پر بھی منحصر کرتا ہے کہ آپ کس وقت اور کس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

برطانیہ میں ہر سال کرسمس کے موقع پر لاکھوں لوگ تنہا ہوجاتے ہیں جس کی کئی وجہ ہوتی ہیں۔ لیکن اس سال کورونا وائرس نے بھی لوگوں کو مزید تنہا کر دیا ہے۔ یوں تو کرسمس کے موقعہ پر زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ مل کر سمس مناتے ہیں۔ جو کہ اس سال ایک ناممکن بات نظر آرہی ہے۔ کیونکہ حکومت کے لاک ڈاؤن کے بعد ٹئیر ون، ٹو، تھری اور فورسسٹم کے تحت اب بھی بہت ساری چیزوں پر پابندیاں عائد ہیں۔اس کے علاوہ کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ ہر کسی کو کسی سے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ کہیں کورونا کا وائرس ان میں نہ داخل ہوجائے۔ تاہم زیادہ تر لوگ اپنی حفاظت کے لیے’فیس ماسک‘سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔

لاکھوں لوگ جو ہسپتال میں بھرتی ہیں یا کسی بیماری میں مبتلاہیں وہ بھی کرسمس میں کافی تنہاہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ زیادہ تر لوگ جو کسی بیماری میں مبتلا ہیں ان کا ماننا ہے کہ انہیں تنہائی نے گھیر رکھاہے۔بہت سارے لوگ جو اسپتال میں ہوتے ہیں انہیں وزیٹنگ وقت کے بعد اپنی تنہائی کا کافی احساس ہوتا ہے۔اس وقت انہیں اسپتال میں سوائے اسٹاف کے آنے جانے کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہیں دیتااور وہ گھنٹوں دیواروں یا چھت کو دیکھا کرتے ہیں۔ ایسے کئی لوگ ہیں جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ وہ صرف اپنی بیماری سے ہی نہیں بلکہ تنہائی سے بھی لڑ رہے ہیں۔وہی بہت سارے لوگ کینسر کی وجہ سے اپنے آپ کو کافی تنہا محسوس کر تے ہیں۔
یہ لوگ اپنی بیماری کی وجہ سے الگ تھلگ ہوجاتے ہیں اور جس کی وجہ سے ان کا رابطہ لوگوں سے کم ہوجاتا ہے۔بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جن کا زیادہ تر وقت کام پر گزرتا ہیں جس سے وہ دیگر کام یا تفریح کی طرف دھیان نہیں دے پاتے ہیں۔ اس طرح ایسے لوگوں کا زیادہ وقت تنہا گھر پر گزرتا ہے۔

برطانیہ میں تنہائی کے اس مسئلے پر حکومت نے بھی کئی بار بیانات دئیے ہیں اور تنہائی سے گھرے لوگوں کے بارے میں اسے ’قومی شرمندگی‘ بھی کہا ہے۔ حکومت نے اس مسئلہ پر اپنے دُکھ کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے وہ معاشرہ میں ایسے لوگوں کی مدد کریں جو کسی وجہ سے تنہا ہیں۔ اس سلسلے میں تنہائی سے گھرے لوگوں کے لئے کئی پراجیکٹ زور شور سے امداد بھی پہنچا رہے ہیں۔ بہت سارے چیریٹی اپنے رضا کاروں کے ذریعہ تنہا لوگوں کے لیے اپنے امداد پہنچاتے ہیں جو کہ ایک قابلِ ستائش بات ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ برطانیہ میں کرسمس کا تہوار لوگ مذہبی اعتبار سے کم بلکہ روایتی اعتبار سے زیادہ مناتے ہیں۔د سمبر کے مہینے میں دکانوں میں خرید و فروخت کافی بڑھ جاتی ہے۔ ان دکانوں میں (John Lewis,Selfridges,Harrods)، جون لوویس،سیلف ریجیز اور ہیروڈس معروف نام ہیں جہاں بھاری تعداد میں لوگ شاپنگ کرتے ہیں۔تاہم برطانیہ میں آن لائن شاپنگ کے رحجان سے شاپنگ سینٹر کی بھیڑ میں اس بار کمی پائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے بھی زیادہ تر لوگ دکانوں میں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

کرسمس کے دن گھروں میں زیادہ تر لوگتَرکی (جو مرغ کی نسل سے بڑا ہوتا ہے) پکاتے ہیں۔ اس کے ساتھ کئی قسم کی سبزیاں بھی ہوتی ہیں اور ساتھ میں شراب کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اُس دن لوگ نئے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ٹیلی ویژن پر مزاحیہ پروگرام یا فلم دیکھتے ہیں۔ اس دن پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہوتا ہے لیکن ائیر پورٹ کھلا رہتا ہے جہاں سے لاکھوں لوگ اپنے منزل و مقصود کے لئے پرواز کرتے ہیں۔

کرسمس میں لوگ اپنے گھروں کو رنگ برنگے بتیوں سے سجاتے ہیں اور کئی علاقوں میں گھروں کی بہترین سجاوٹ کے لئے انہیں انعام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ گھروں میں کرسمس ٹری بھی لگا یا جاتا ہے جو کہ کرسمس تہوار کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔اس موقعہ پر بہت سارے لوگ فادر کرسمس کی بھیس میں بچوں کو تفریح کا سامان پیش کرتے ہیں اور مقامی چیریٹی کے لئے پیسہ بھی اکھٹا کرتے ہیں۔پورے دسمبر کے مہینے میں چیریٹی گروپ کیرول(کرسمس کے گیت) گا کر چیریٹی کے لئے پیسہ جمع کرتے ہیں۔ کرسمس کے دوسرے روز باکسنگ ڈے ہوتا ہے جس دن لوگ تحفہ کو کرسمس ٹری کے قریب رکھ دیتے ہیں جسے بچے صبح اٹھ کر کھولتے ہیں۔ اس دن زیادہ تر دکانوں میں باکسنگ ڈے سیل بھی لگتا ہے جہاں لوگ سستے داموں میں سامان خریدنے کے لئے جاتے ہیں۔
میں نے کئی برسوں تک کرسمس کے دن بے گھر لوگوں کے ڈے سینٹر میں جا کر ان کی دیکھ بھال اور ان سے بات چیت کر کے ان کی
تنہائی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے میں نے اپنی انسان دوستی کا نمونہ تو پیش کیا ہے لیکن مجھے ہمیشہ کسی بھی تہوار پر انسان کی تنہائی اور بے بسی کا دُکھ کچھ پل کے لئے مایوس اور افسردہ بھی کردیتی ہے۔تاہم اس سال کرونا نے میری ہمت کو بھی پست کر دیا ہے جس کا ہمیں سخت افسوس ہے۔اس سال کرونا کی وجہ سے زیادہ تر تہوار برطانیہ میں روایتی طور پر نہیں منائے گئے ہیں۔جس سے تمام مذاہب کے لوگوں میں مایوسی ہے۔

میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ معاشرے میں جس تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور جس سے لوگوں میں جہاں طرز ِزندگی میں بدلاؤ آیا ہے وہیں اس کے ساتھ معاشرے میں تنہائی کا بھی احساس بڑھا ہے۔ روز مرہ کے کام و کاج کا دباؤ اور دیگر حالات نے جہاں انسان کی زندگی کو مصروف کر رکھا ہے تو وہیں کرسمس جیسے تہوار نے لاکھوں لوگوں کوتنہا ئی کا احساس بھی دلاتا ہے۔ہمیں ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ میں آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آنے والا سال ہم سب کے لئے نیک ہو اور کورونا سے پاک ہو اورخوشیوں سے بھرا ہو۔ نیا سال مبارک ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.