کرمنل ریکارڈ رکھنے والے پنجاب کے تمام ایس ایچ اوز کو معطل کرنے کا حکم

لاہور: پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے متعدد گریڈ کے افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جن کے خلاف کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آئی جی پنجابنے ہدایت کی کہ اس حکم کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے تمام اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو اپنے عہدوں سے ہٹائیں۔

انہوں نے سینئر فیلڈ اسٹاف کو اگلے مرحلے میں ان تمام ایس ایچ اوز کو ہٹانے کی بھی ہدایت کی جن کو ملازمت کے دوران تین یا اس سے زائد مرتبہ محکمہ سزائیں دے چکا ہے۔

آئی جی پی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کانسٹیبل سے لے کر 21 گریڈ تک کے تمام پولیس افسران کو ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہونے پر ملازمت سے معطل کردیا جائے گا۔‎

پولیس قواعد کے تحت ایک علاقے اور ضلع کے سربراہ کو اختیار ہے کہ انسپکٹر کے عہدے تک کے عہدیداروں کو معطل کرسکے جبکہ ایک آئی جی پی نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کے معاملے میں احکامات جاری کیے۔

سینئر رینک کے افسران کی معطلی کے لیے کیس اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو بھیج دیا گیا۔

اجلاس کے دوران انعام غنی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کانسٹیبل اور اس سے اوپر کے عہدے سے تعلق رکھنے والے عہدیدار کو اس وقت تک تعینات نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ انکوائری میں یا کسی عدالت کے ذریعہ کلیئر نہیں ہوجاتے۔

عہدیدار نے بتایا کہ آئی جی پی نے ایس ایچ اوز کے بارے میں فیصلہ اس وقت لیا جب پولیس کے ہیومن ریسورس منیجمنٹ سسٹم (ایچ آر ایم ایس) نے ان میں سے بہت سے لوگوں کی شناخت کی جو پنجاب میں خدمات سرانجام دینے کے دوران مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے اور بدنام ہونے کے ساتھ ساتھ داغدار سروس پروفائل رکھتے ہیں۔

انہوں نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ بدنام 34 ایس ایچ اوز کو ہٹائیں، اگرچہ بہت سارے سینئر افسران نے اس اقدام کی مخالفت کی لیکن آئی جی پی نے انہیں اپنے فیصلے پراس کی اصل روح کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایس ایچ او کو ایک بھی مجرمانہ مقدمے کا سامنا ہو تو اسے پنجاب میں خدمات انجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی، آئی جی پی کے احکامات کے مطابق ان کے حکم کے 24 گھنٹوں کے اندر اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *