کرونا وائرس اور مکران

" ظریف بلوچ "
چائنا کے شہر ”وہان“ میں تین ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد اب کرونا ایران اور اٹلی میں انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔ کیون کہ اٹلی اور ایران میں روزانہ سیکڑوں افراد کرونا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زندگی کٰ بازی ہار رہے ہیں۔ وہان سے یہ وائرس اب مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ اور جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہونے کی وجہ کاروبارِ حصص میں مندی کا رجحان برقرار ہے، اور پاکستان سمیت کئی متاثرہ ممالک میں اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان کے باعث سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔
عالمی لیڈروں، سائنس دانوں اور ماہرین صحت اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شہری زیادہ تر وقت گھروں میں رہ کر اس وبا کے پھیلاؤ کے سبب نہ بنیں۔
ایران سے کرونا وائرس پاکستان میں داخل
مملکتِ خدادا پاکستان میں یہ وائرس ایران جانے والے زائرین اپنے ساتھ لے کر آئے، کیونکہ پاکستان سے ہزاروں زائرین ایران میں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے ہمسایہ ملک ایران کا رخ کرتے ہیں۔ یہ زائرین قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بذریعہ روڑ ”تفتان“ کے بارڈر سے ایران میں داخل ہوتے ہیں اور سیکڑوں زائرین کراچی سے ہوائی سفر کرتے ہوئے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
چائنا سے یہ جان لیوا وائرس ایران کے شہر ”قم“ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اس وائرس سے بچاؤ کے لیے زیارتوں، مزاروں اور درگاہوں کا رخ کیا جس سے وائرس ایک انسان سے دوسرے اور پھر سیکڑوں سے ہزاروں میں منتقل ہوتا چلا گیا۔ جب یہ وائرس ایران کے شہر ”قم“ اور دوسرے شہروں میں پھیل رہا تھا تو ہزاروں پاکستانی زائرین ایرانی حدود میں موجود تھے۔
پاکستان نے اپنے زائرین کی واپسی کے لیے ”تفتان“ بارڈر کو استعمال کیا۔ جہاں ”تفتان“ میں زائرین کو قرنطینہ کے نام پر دو ہفتوں تک روکا گیا اور پھر حکومتِ بلوچستان نے زائرین کو اپنے اپنے صوبوں میں جانے کی اجازت دی اور ان زائرین کو بسوں کے ذریعے اپنے اپنے علاقوں میں منتقل کیا گیا۔
سندھ حکومت نے الزام لگایا تھا کہ تفتان میں ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے کرونا وائرس مذید پھیل گیا۔ اس وقت پاکستان میں کرونا کے ایک ہزار کے قریب مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں، اور دس کے قریب اموات ہوئی ہیں۔ تادم تحریر ایک درجن سے زائد مریض صحت یاب ہو کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔
ایران سے متصل تفتان اور مکران بارڈرز
مکران تین اضلاع گوادر، تربت اور پنجگور پر مشتمل صوبہ بلوچستان کا ایک ڈویژن ہے۔ مکران کی آبادی 17 لاکھ سے زائد ہے اور مکران کے تینوں اضلاع کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں۔ مکران کے زیادہ تر لوگ ایران بارڈر سے روزی روٹی کماتے ہیں۔ مکران میں ایرانی فیول استعمال ہوتا ہے، جو سرکاری زبان میں ایران سے اسمگل ہو کر آتا ہے۔ ایرانی فیول لانے کے لیے زیادہ تر ”زمباد“ گاڑیاں ایران سے جڑے سرحدی علاقوں میں فیول مکران اور بلوچستان کے دیگر قریبی علاقوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔جب کہ سرکاری طور پر زیادہ تر لوگ تفتان بارڈرز سے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
کرونا وائرس کے بعد کی صورت حال
ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد ایرانی بارڈر کی بندش عمل میں لائی گئی، تفتان سمیت مکران سے جڑے ہوئے بارڈرز بند کر دیے گئے۔ مگر بارڈرز کی بندش سے پہلے ایران جانے والے زائرین کرونا وائرس اپنے ساتھ بلوچستان لے آئے۔ مگر بعض آزاد ذرائع اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بارڈرز اور ائیرپورٹ میں اسکریننگ کا مربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے کرونا وائرس کے مریض بڑی تعداد میں تفتان بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مکران کے بارڈرز میں کرونا کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔
مکران میں صحتِ عامہ کی صورت حال
مکران کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں بخار اور ملیریا کے تشحیص نہیں ہوتی ہے، جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے جانے والوں کا صرف چیک اپ کیا جاتا ہے۔ سرنج اور میڈیسن کے لیے مریضوں کو بازار میں موجود کلینکوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
تادم تحریر کرونا کی تشخیص کے لیے مکران میں کوئی طبی سنٹر موجود نہیں ہے۔ صحت عامہ کی سہولت کے حوالے سے پنجگور اور گوادر سے تربت کافی بہتر ہے کہ وہاں کے پرائیوٹ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈلیوری کی صورت میں آپریشن کی سہولت دستیاب ہے، اور معمولی بیماریوں کے تشخیص کے بھی ٹیسٹ ہوتے ہیں۔
لاک ڈاؤن
کرونا کی وبا سے بچاؤ کے لیے حکومتِ وقت کے اس اقدام کو ضرو سراہا جا رہا ہے، کیوں کہ شہروں کو لاک ڈاؤن کر کے اس وبا کو پھیلنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ لاک ڈاؤن سے روزانہ اجرت کے تحت کام کرنے والے مزدور ضرور پریشان ہوں گے۔ مگر اس کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے۔
حکومتِ وقت اور مخیر حضرات اس موقع پر مزدور طبقے کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں۔ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ پکنک اور پبلک مقامات پر جا کر رش کرنے سے گریز کریں۔
پسنی میں لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کا رش دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن کو عید کی چھٹیاں سمجھ کر خوب انجوائے کر رہے ہیں۔ البتہ مکران کے دیگر شہروں کا مجھے خاص علم نہیں کہ وہاں لاک ڈاؤن کے بعد کیا صورت حال ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *