کرینہ کپور اور سیف علی خان کے دوسرے بیٹے کا نام ’جیہ‘ ہے یا ’جہانگیر‘، سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ

انگریزی کے معروف شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ 'نام میں کیا رکھا ہے؟'

لیکن اگر یہ نام کرینہ کپور اور سیف علی خان کے بچوں کے ہوں تو ان میں بظاہر بہت کچھ رکھا ہے۔

اردو کے ایک شاعر حفیظ میرٹھی نے بچوں کے نام رکھنے کے تعلق سے ایک شعر کہا ہے جو شیکسپیئر کے نظریے سے متصادم ہے:

اس سے ذہنوں کی بلندی کا پتا چلتا ہے

نام ذرّوں کے تم اپنے مہ و اختر رکھنا

ناموں کے حوالے سے یہ نظریات یہاں برسبیل تذکرہ نہیں ہیں بلکہ بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان اور کرینہ کپور خان کے اپنے بچوں کے نام رکھنے پر سوشل میڈیا پر جو رد عمل سامنے آ رہے ہیں یہ اس تناظر میں ہیں۔

آپ میں سے بہت سے لوگ شاید اس بات سے واقف ہوں کہ جب سیف علی خان اور کرینہ کپور کی شادی ہوئی تھی تو کچھ حلقوں میں اس جوڑی پسند نہیں کیا گیا تھا اور جب ان کے یہاں پہلے بیٹے کی ولادت ہوئی اور اس کا نام تیمور علی خان رکھا گیا تو معروف جنگجو امیر تیمور کے نام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر معصوم بچہ بھی کافی ٹرول ہوا۔

کرینہ کپور اور سیف علی خان

رواں سال فروری میں کرینہ کپور اور سیف علی خان کے ہاں دوسرے بچے کی ولادت ہوئی جس کے بعد لوگوں نے اس کے نام کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع کر دیں تاہم جوڑے نے اپنے نوزائیدہ بچے کا نام ظاہر نہیں کیا۔

پانچ ماہ بعد بچے کے نانا یعنی اداکار رندھیر کپور نے جولائی میں میڈیا کو اس کا نام 'جیہ' (جے ای ایچ) بتایا تو بہت سے لوگ اس نام کے معانی و مطالب تلاش کرنے میں لگ گئے اور اس طرح کے جملے سوشل میڈیا پر نظر آئے کہ 'جیہ یا Jeh کیا نام ہوا، کیا اس کا مطلب جہانگیر ہے؟' یا ’اس کا مطلب ہے جہاد، چلو ایک اور جہادی پیدا ہو گیا، دھرتی پر بوجھ۔‘

بہر حال گذشتہ دنوں جب کرینہ کپور کی نئی کتاب 'پریگنینسی بائبل: دی الٹیمیٹ مینوئل فار مدرز ٹو بی' سامنے آئی تو اس میں بالی وڈ ہنگامہ کی ویب سائٹ کے مطابق ایک تصویر کی کیپشن میں 'جہ' کی جگہ بچے کا نام ’جہانگیر‘ لکھا ہوا تھا۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکرینہ کپور کے دوسرے بچے کی ولادت اس سال فروری میں ہوئی تھی

گذشتہ روز کرینہ نے فلم ساز اور ہدایت کار کرن جوہر کے ساتھ اس کے کتاب کے سلسلے میں انسٹاگرام پر باتیں کیں لیکن اس میں بھی انھوں نے اپنے بیٹے کو مسلسل 'جہ علی خان' ہی کہا۔

بہر حال اس مخفف کی تشریح کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل تو آنا ہی تھا، سو لوگوں نے اپنے اپنے حساب سے تبصرہ کرنا شروع کر دیا۔

جہاں کسی نے انھیں مبارکباد دی اور بچے کی لمبی عمر کی دعائيں دی تو کسی نے لکھا کہ بھکت (ہندوتوا کے نظریات کے حامل یا) اس نام کے سامنے آنے سے مایوس ہوئے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے لکھا 'یہ سیف اور کرینہ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچے کا کیا نام رکھتے ہیں اس میں کسی کا کیا دخل ہے۔'

ٹویٹ

جبکہ مصنف اور ایکٹوسٹ انوراگ سکسینہ نے لکھا: 'تو سیف علی خان بھائی اور کرینہ کپور بی نے اپنے بچوں کا نام تیمور اور جہانگیر رکھا ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ وہ اپنے تیسرے اور چوتھے بچوں کا کیا نام رکھیں گے؟'

امن راؤ نامی ایک صارف نے لکھا: 'اس میں کیا مسئلہ ہے، یہ ان کا انتخاب ہے۔ سیف علی خان اور کرینہ کپور خان اپنے بچے کا جو نام چاہیں رکھیں۔ لوگو اپنی زندگی بناؤ، وہ کام کر رہے ہیں اور کما رہے ہیں۔ انھیں چین سے رہنے دو۔ مطمئن رہو، کچھ نہیں ہوا۔'

ٹویٹ

شلپا شرما نے مزا لیتے ہوئے ٹویٹ کیا: 'جہانگیر خان سکواش کی دنیا کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں۔ بھکتوں، ہر چیز تمہارے لیے نہیں ہے۔'

شیلار بھاگیرتھ نامی ایک صارف نے لکھا: 'ایسا لگتا ہے کہ سیف علی خان اور کرینہ کپور اپنے بچوں کا نام مغل بادشاہوں پر رکھ کر 21ویں صدی میں مغل سلطنت چلا رہے ہیں۔ تیمور کے بعد اب جہانگیر۔ امید کہ سیف خود کو بابر نہیں سمجھتے ہوں گے!'

ٹویٹ

’وش‘ نامی ایک اور صارف نے لکھا: 'مشاہیر اپنے بچوں کا ایسا نام کیوں رکھتے ہیں جس کے بارے میں انھیں پتہ ہے کہ اس پر شدید تنازعے ہوں گے۔ کیا اپنے بچوں کے پر امن مستقبل کے بجائے یہ سب صرف شہ سرخیوں میں رہنے کے لیے؟'

ٹویٹ

ریا نامی صارف نے لکھا: 'بریکنگ: سیف علی خان اور کرینہ کپور خان نے اپنے دوسرے بچے کا نام جہانگیر رکھا ہے۔ بھکتوں کے لیے برنول کا وقت ہے۔'

واضح رہے کہ برنول جلے اور خراش پر لگانے کی دوا ہے۔

ٹویٹ

ایک اور صارف نے لکھا کہ 'ابھی میں نے جہانگیر کا مطلب جاننے کے لیے گوگل کیا جس کا مطلب بادشاہِ عالم ہے۔۔۔'

جبکہ ایک صارف نے سیف اور کرینہ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ 'میں اس جوڑے کو پسند کرتی ہوں۔' دوسری جانب بہت سے منافرت بھرے ٹویٹس بھی گردش کر رہے ہیں جس میں اس نام کو ہندوؤں کی توہین بتایا گیا ہے تو کسی نے لکھا ہے کہ سیف اور کرینہ بخوبی جانتے ہیں کہ 'بھکتوں کو چراغ پا' کیسے کرنا ہے۔

ٹویٹ

واضح رہے کہ آج کرینہ کپور اور سیف علی خان دوسری وجوہات کے سبب بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کرینہ کپور نے معروف فلم ساز ایکتا کپور کے ساتھ فلم ساو کی حیثیت سے نئی ایننگ شروع کی ہے جس کی لوگ انھیں مبارکباد دے رہے ہیں۔

جبکہ سیف علی خان کو اس لیے یاد کر رہے ہیں کہ 20 سال قبل آج ہی کے دن یعنی 10 اگست سنہ 2001 کو فلم 'دل چاہتا ہے' ریلیز ہوئی تھی جس میں ان کے علاوہ عامر خان اور اکشے کھنہ بھی تھے اور کہا جاتا ہے کہ سیف نے یہاں اپنی اداکاری کا جو جوہر دکھایا پھر اس سے آگے ہی بڑھتے رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *