کسٹمرسروس

گاہک بھگوان کا روپ ہوتا ہے۔لوک دانش سے بھری یہ مثل صدیوں سے ہندسندھ میں مشہورہے۔جاپان میں معاملہ اس سے بھی آگے کاہے،یہاں مثال مشہورہے کہ گاہک خداہوتاہے۔یعنی خریداربھگوان یا دیوتاسمان نہیں بلکہ بذات خودخداہے۔ایک دلچسپ پہلواس بابت یہ بھی ہے کہ یہاں گاہک اور مہمان کے لئے ایک ہی لفظ رائج ہے۔گویاجس طرح مہمان کی عزت اور تکریم کی جاتی ہے،اسی طرح یہاں گاہک کی آؤ بھگت اورعزت افزائی ہوتی ہے۔جاپان میں جیسے ہی آپ کسی دکان یا اسٹورپرجائیں تواسٹاف کے تمام افرادباآوازبلندخوش آمدیدکہتے ہیں۔شروع شروع میں توبعض سیاح سمجھ نہیں پاتے کہ یہ شورکیوں اٹھاہے۔رخصت کرتے وقت بھی اجتماعی طورپر”شکریہ“ کی آوازلگاتے ہیں۔عموماًدفترکے باہررخصت کرنے آتے ہیں۔آپ کوفرشی سلام کرتے ہوئے تقریباًرکوع کی حالت میں پہنچ جاتے ہیں۔
کسٹمرسروس کایہاں معیاراورسطح کیاہے اس حوالے سے دوذاتی تجربات آپ کی خدمت میں پیش کرتاہوں،اس ہڈبیتی سے آپ کوبہتراندازہ ہوجائے گا۔یہ گرمیوں کے دن تھے،جاپان پہنچے مجھے زیادہ عرصہ نہیں ہواتھا۔یہاں موسم گرمامختصرہوتاہے مگراس دوران ہوامیں نمی زیادہ اوردھوپ کڑاکے کی ہوتی ہے۔دھوپ کاچشمہ لگانے سے آنکھوں کوراحت محسوس ہوتی ہے۔خاص طورپرڈرائیونگ کرتے ہوئے دھوپ اورسائے جب اٹکھیلیاں کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ایسے ہی عالم میں دھوپ کاچشمہ ایک دن لگانے کے لئے اٹھایاتومحسوس ہواکہ یہ لنگڑاہوچکاہے۔بغورجائزہ لیاتومعلوم ہواکہ ایک عددپیچ ڈھیلاہونے کے بعدکہیں گرگیاہے۔سیاہ چشمہ پہن کرآدمی ولن لگتاہے اورایسے عالم میں کسی سے باالمشافہ گفتگوکرنامجھے بدتمیزی لگتی ہے،مگرگاڑی چلاتے وقت میں چشمہ لگالیتاہوں۔میری قیام گاہ کے قریب ہی عینکوں کی ایک بڑی دکان تھی۔گھرسے پیدل نکلاکہ ہواخوری بھی ہوجائے گی اورچشمہ بھی مرمت کروالیتاہوں۔جیسے ہی میں دکان میں داخل ہواتوخوش آمدیدکااجتماعی استقبالیہ نعرہ کارکنوں نے بلندکیا۔سب احتراماًکھڑے ہوگئے۔ایک کارکن نے کرسی دونوں ہاتھوں سے سرکاکرمجھے پیش کردی اوربیٹھنے کے لئے کہا۔میزکی دوسری جانب کرسی سیاہ سوٹ ٹائی میں ملبوس نوجوان نے سنبھال لی،میں نے اپنالنگڑاچشمہ جیب سے نکال کرمیزپررکھااوراپنامدعابیان کیا،اسی اثنامیں ایک خوبرودوشیزہ سبزچائے لے آئی اوربڑے سلیقے سے میرے سامنے پیش کردی۔میں دل ہی دل میں اس عزت افزائی اورآؤبھگت کابل بنارہاتھا،کہ یہ اہتمام مجھے کتنے روپے میں پڑے گا؟وجہ تومعلوم نہیں لیکن جاپان میں عینکوں کی دکانیں بہت زیادہ ہیں۔سبزچائے کی فرحت بخش پیالی میں نے جیسے ہی ختم کی میراچشمہ مرمت ہوچکاتھا۔بلکہ مرمت کرنے کے بعداسے ایک خاص محلول میں دھوکرچمکادیاگیاتھا۔
کمپنی کی مشہوری کے لئے میری عینک کوایک بٹوے میں ڈال کرپیش کیاگیا،جس کے اوپردکان کانام تحریرتھا۔ایسے چونچلے دیکھ کرمیرے دل میں خیال آیاکہ آج تولمبی”ڈز“لگے گی۔ہچکچاتے ہوئے میں نے رخصتی پرمحنتانہ پوچھا۔کتنے پیسے ہوئے؟دوشیزہ نے کھلی ہوئی باچھوں والی مسکراہٹ سے جواب دیا”سروس“مطلب کہ مفت خدمت کی ہے آپ جناب محترم کی ہم نے۔بازار سے کوئی چیز اگرآپ نے خریدی ہے اورکسی وجہ سے واپس کرناچاہتے ہیں،دکاندارآپ سے بس رسید طلب کرے گا،سوداواپس کرنے کے لئے کوئی دوسراسوال نہیں ہوگا۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ رسیدکے بغیرکوئی مال بیچنے کاتصوربھی محال ہے اورہررسیدپردرج مجموعی رقم کا دس فیصدٹیکس حکومت کو جاتاہے۔
بھلے دنوں کی بات ہے کہ میرے قریبی دوست نے ایک سنہری گھڑی مجھے تحفے میں دی تھی۔سوئٹزرلینڈیاٹ کلب کی ساختہ یہ گھڑی آٹومیٹک تھی۔یہاں یہ وضاحت برمحل ہوگی کہ آٹومیٹک گھڑیاں خودکارہوتی ہیں،یعنی ان میں کسی بھی بیٹری سیل ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے،ہاتھ،کلائی کی حرکت سے یہ خودہی چارج ہوتی رہتی ہے۔دنیابھرکی تمام مہنگی گھڑیاں تقریباًآٹومیٹک ہی ہوتی ہیں۔شومئی قسمت کہ مذکورہ گھڑی خراب ہوگئی۔خود ٹھیک کرنے کے جو ٹوٹکے تھے تمام آزمالئے،ایک نیم مکینک کودکھانے پربھی نامرادی مقدرٹھہرا۔اچانک میری نظراس گھڑی کے ڈبے میں موجودگارنٹی کارڈپرپڑی جواب تک میرے پاس محفوظ تھا۔اس پرٹوکیومیں اس کمپنی کے ڈیلرکاپتہ درج تھا،مگرگارنٹی کی معینہ مدت ختم ہوچکی تھی۔یہاں مسئلہ یہ تھاگھڑیاں مرمت کرنے والے مشکل سے ملتے ہیں،جوگھڑی سازملتے ہیں وہ مہنگے اتنے ہوتے ہیں کہ تخمینہ سن کربے اختیارنئی گھڑی خریدنے کودل کرتاہے۔وہ بعض اوقات سستی محسوس ہوتی ہے۔ویسے تویہاں جوتے مرمت کروانے کا بھی یہی حال ہے۔موچی منہ مانگی اجرت طلب کرتے اوروصول پاتے ہیں۔جوتامرمت کروانے سے بہترہوگاکہ آپ دونئے جوڑے اسی قیمت میں خرید لیں مگرجوتوں کے اسپتال کاذکرپھرکبھی کریں گے۔کلائی کی گھڑی کے بارے یورپی اقوام میں یہ بدگمانی اورتوہم پرستی پائی جاتی ہے کہ گھڑی کا تحفہ محبت کرنے والے دودلوں میں رنجش اورجدائی کا سبب بن سکتاہے۔بعض اہلِ مغرب میں یہ رسم بھی موجودہے کہ عشاق بچھڑتے وقت آخری تحفہ گھڑی کادیتے ہیں۔گھڑی کا تحفہ کچھ یورپ کے ممالک میں علیحدگی کی خواہش کا اظہاربھی سمجھاجاتاہے۔میرامعاملہ چونکہ اس قسم کاجذباتی نہیں تھا،اس لئے میں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ گھڑی کی گارنٹی کی مدت عرصہ پہلے ختم ہوچکی ہے،جاپان میں اس کمپنی کے ڈیلرکوبذریعہ ڈاک اس کے اصلی ڈبے میں ڈال بھجوادی کہ”بنی تو بنی،نہیں توعبدالغنی“ذہن میں گم ہونیکااندیشہ توموجودتھامگرسوچاکہ یہ چلتی توپہلے بھی نہیں ہے اس لئے کوئی بڑانقصان نہیں ہوگا۔
چنددن بعدمجھے اس کمپنی کے جاپانی ڈیلرکافون آیا۔بڑے مؤدب اندازمیں مخاطب ہواکہ ہم نے کوشش توکی ہے کہ آپ کی گھڑی یہیں پرہی مرمت کردی جائے مگریہ ممکن نہیں ہوسکا۔اس کو سوئٹزرلینڈبھیجناپڑے گا۔کیاآپ اجازت دے سکتے ہیں؟میری طرف سے کھلی چھٹی دے دی گئی چونکہ وقت بتانے سے یہ قاصرتھی،ہمارے برہمن دوستوں کاکہنااس بابت یہ ہے کہ رکی ہوئی گھڑی اور ٹوٹے ہوئے شیشے کوگھرمیں نہیں رکھناچاہیئے،یہ ابھشگن ہے،براشگون ہوتاہے۔دوماہ کے بعدایک صبح میں دفتر پہنچاتوایک پارسل میرامنتظرتھا۔کھولنے پر سوئٹزرلینڈکی کمپنی یاٹ کلب کاایک نیا ڈبہ،اسے کھولاتومیری وہی پرانی مرمت شدہ گھڑی موجود تھی۔گھڑی کی اسکرین گویانئی محسوس ہورہی تھی اورچمڑے کے نئے اسٹریپ پرانوں کی جگہ تبدیل کردئیے گئے تھے۔صرف یہی نہیں اس ڈبے میں گھڑی کھولنے کے آلات بھی موجود تھے اورتہنیتی کارڈ،جوکمپنی کی طرف سے یہ پیغام دے رہا تھاکہ آپ کویہ مفت سہولت فراہم کرکے ہمیں بے حد خوشی محسوس رہی ہے۔حالانکہ اصل خوشی تو مجھے محسوس ہوئی تھی۔بقول شخصے جاپان میں گاہک اگررشتہ داری کرنے تک کابھی کوئی منصوبہ یا تجویزپیش کردے تواسے صاف انکارنہیں کیاجائے گا۔امیدواثق ہے کہ مدعاالیہ مشاورت کے لئے وقت مانگے گا۔ہوسکتایہ کہے کہ بظاہرمشکل کام دکھائی دیتاہے یا پھراس کاجواب تو میں پوچھ کرہی بتاسکتا ہوں۔