کس برہمن نے کہا تھا یہ سال اچھا ہے

نیا سال نئی امیدوں اورتازہ آرزوؤں کے ساتھ پورے عالم میں اپنی روشنی بکھیررہا ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ مایوسی گناہ ہے،اس لئے نئے شروع ہونے والے برس کے لئے اچھی امیدیں اور نیک تمنائیں رکھنا ہی زیبا ہے۔گزشتہ سال پوری دنیا میں ہی عمومی طور پر مشکلوں کا سال تھا، جس کی بنیادی وجہ کرونا وائرس کا پھیلاؤاوراس بیماری کے اثرات تھے۔پاکستانیوں کی مشکلات کو کرونا کے ساتھ ایک اضافی مشکل،خراب حکومتی کارکردگی نے دو آتشہ کئے رکھا۔مہنگائی کے طوفان اور بری معیشت کے سبب پیدا ہونے والے مسائل سے نبردآزمائی کی نسبت سے 2021پاکستانیوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہے گا۔باقی دنیا کو تو فقط کرونا وائرس کی روک تھا م کا چیلنج درپیش تھا،ہمیں مگر کرونا سے بھی بڑے عفریت کساد بازاری کا سامنا تھا۔آسمان سے باتیں کرتی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پراضافہ ہوتارہا۔تیل خوردنی ہو یا پھر ایندھن،تاریخ کی بلند ترین سطح پر اس کے نرخ پہنچ گئے۔ستم بالائے ستم حکومت نے اس سلسلے میں ایک تشہیری مہم میڈیا پر چلوائی،جس میں امریکہ اور مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی نژادشہری اپنے تاثرات کا اظہار کررہے ہیں۔
نیوجرسی کے ایک پٹرول پمپ پرگاڑی میں بیٹھی خاتون بتا رہی ہے کہ پہلے کیا بھاؤتھااور اب پٹرول فی گیلن کتنا مہنگاہوا ہے۔ایک دوسری امریکی ریاست میں پٹرول پمپ پر اپنی گاڑی میں تیل ڈلوانے والا شخص ریٹ بڑھنے کی تصدیق کررہا ہے۔ماضی اور حال کے نرخوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔خلاصہ جس کا یہ تھا کہ، پس ثابت ہوا کہ ہماری حکومت پاکستان میں مہنگے ایندھن کے سلسلے میں بری الذمہ ہے۔یہ کمپین چونکہ سوشل میڈیاپر بھی چلائی گئی اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اشتہار نماپیغامات نظروں سے گزرتے اورسماعتوں سے ٹکراتے رہے۔میرابڑا دل چاہا کہ امریکی پٹرول پمپ پر کھڑے ان خواتین وحضرات سے پوچھوں کہ آپ کی گاڑی میں پٹرول ڈالنے والے اس مزدور کی ایک گھنٹے کی تنخواہ کتنی ہے؟مزدور کی اجرت چونکہ امریکہ میں گھنٹوں کے حساب سے ادا کی جاتی ہے،اس لئے میں ایک گھنٹے کی بات کررہا ہوں۔فی گھنٹہ 16ڈالر کم ازکم تنخواہ ہے ایک گھنٹے کی ان دنوں وہاں پر۔اگر کوئی شخص ایک دن میں دس گھنٹے کام کرتا ہے توظاہر ہے 160ڈالر ہوں گے، یومیہ تنخواہ۔پاکستان میں آج کے کرنسی ریٹ سے ڈالر کا حساب لگائیں تو یہ اٹھائیس ہزار روپے بنتے ہیں۔جی ہاں!28000روپے اس پٹرول ڈالنے والے کی ایک دن کی تنخواہ ہے اگر وہ دس گھنٹے کا م کرتا ہے۔میرے خیال میں پاکستان میں یہی نوکری کرنے والے یا پھر اس سے ملتی جلتی محنت مشقت کرنے والے ا فرادکی شائد یہ ایک مہینے کی تنخواہ بھی نہیں ہوتی ہے۔اس سے کم ہوتی ہے۔اگر اربابِ اقتدار وطنِ عزیزمیں تیل کی قیمتوں کا موازنہ مغربی ممالک کے ساتھ کرنے میں خود کو حق بجانب گردانتے ہیں تو پھر تنخواہوں کاموازنہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔عرض یہ ہے کہ اشیائے صرف کی گرانی اور معیشت کی مجموعی گراوٹ تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثرکرتی ہے۔اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گاکہ گزشتہ برس تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کے لئے مشکل رہابجزحکمرانوں کے۔
تحریک انصاف اور اس کے قائد عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر سیاست میں آئے تھے۔دعویٰ ان کا یہ تھا کہ وہ اقتدار میں آکرملک کے لئے معاشی وسماجی حالات،سیاسی ماحول کو تبدیل کردیں گے۔روزگار،خوشحالی اورانصاف کادوردورہ ہوگا۔اقتدار میں آنے کے بعد مگر سب کچھ اس کے برعکس ہواجو دعوے اور وعدے عوام سے کئے گئے تھے۔تبدیلی مثبت کی بجائے منفی انداز میں رونماہوئی۔سرائیکی وسیب میں تو یہ طعنہئ مستانہ ٹرک آرٹ کا حصہ بن چکا ہے۔
؎ گھن مزے تبدیلی دے
یعنی لطف اٹھاؤ اب تبدیلی سرکار کے۔گزشتہ برس عوام کی امیدوں کے ٹوٹنے اور حسین خوابوں کا خون ہونے کا سال تھا۔بحیثیت قوم پاکستانیوں کے ساتھ کم و بیش ویساہی معاملہ پیش آیا جیساہرنام سنگھ کے ساتھ ہواتھا۔پرانے وقتوں کی بات ہے جب دوستوں کے ہمراہ ہرنام سنگھ نے شکار کھیلنے کی غرض سے جنگل کا رخ کیاتھا۔شومئی قسمت وہاں وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔جنگل گھنا اور خطر ناک تھا۔واپسی کا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش میں وہ مزید بھٹک گیا۔حتیٰ کہ وہ جنگل کے باسی ایک آدم خور قبیلے کے چنگل میں پھنس گیا۔آدم خور قبائلی باہمی مشورے کے بعداس نتیجے پر پہنچے کہ اسے اپنے سردار کے سامنے پیش کردیا جائے،وہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔وحشی قبیلے کا سردارایک قدرے اونچی جگہ اپنی مسند پر براجمان تھا۔اس کے اردگردآدم خور وحشیوں کی بھیڑلگی تھی،جو شور مچا رہے تھے اور نعرے بلند کر رہے تھے۔غالباًاس بات پر اختلاف رائے تھا کہ ہرنام سنگھ کو کچاچبایا جائے،یا کہ آگ پر بھون کر کھایا جائے۔یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ ہرنام کے منہ سے نکلا ”واہے گرو!آج تومارے گئے“اسی اثنا میں ہاتف غیبی کی صداہرنام سنگھ کے کانوں میں پڑی کہ ”ہرنام سنگھ! تو مارا نہیں گیا،اپنی کرپان سنبھال اور ان وحشیوں کے سردار کی گردن کاٹ دے“غیب سے آنے والی آواز کواس نے واہے گروکا حکم اوراشارہ سمجھا،کرپان نکال کروہ آدم خور وحشیوں کی صفوں کو چیرتا،لڑتا پڑتا،بڑی مشکل سے قبیلے کے سردارکے سرپر جا پہنچااور پہنچتے ہی اس نے سردار کی گردن کاٹ ڈالی۔سردار کی موت دیکھ کر آدم خور قبائلی مزید بپھرگئے اور انہوں نے ہرنام سنگھ کو دبوچ لیا۔اسی لمحے غیب سے ہاتف غیبی کی صدا آئی کہ ہرنام سنگھ تم پہلے نہیں مارے گئے تھے اب مارے گئے ہو۔سچ تو یہ ہے کہ ہماری حالت بھی تبدیلی سرکارآنے سے پہلے قدرے بہتر اور امید افزا تھی۔ہاتف غیبی کی صدا پر جو تبدیلی آئی ہے اس سے عوام کی حالت دگر گوں ہوگئی ہے۔سرنامہئ کلام میں اسداللہ خان غالبؔ کے ایک مصرعے کو گزشتہ برس کے حالات سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اس میں ذرا ترمیم کی جسارت کی ہے،جس کے لئے آپ سے بھی معذرت خواہ ہوں،اورمرزا نوشہ کی مبارک روح سے بھی۔درست شعر نئے سال کی نیک تمناؤں کے ساتھ پیش کرکے اجازت چاہوں گا۔

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے