کلکتہ شہر کی شان جسٹس خواجہ محمد یوسف

کلکتّے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

مرزا غالب کا یہ شعر میں اپنے بچپن میں اکثر سنا کرتا تھا اور سوچتا تھا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے لیے غالب کا دل تڑپتا تھا۔ ہگلی ندی کے خوبصورت مناظر، بنگالی فن و ثقافت،حسن و نزاکت بھرے زندہ مجسمے، گلی کوچوں اور بازاروں کی رونقیں یا وہاں کے لوگوں کی تہذیب و ثقافت اور خلوص و محبت، زندہ دلی اور روشن خیالی؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کلکتہ اپنے اسی آن بان اور شان کے لیے ہم سب کے دل میں دھڑکتا رہتا ہے۔

کلکتہ کی بھاگتی دوڑتی زندگی اور جم غفیرمیں ایسے قابل قدر انسان بھی تھے جس کی جھلک مجھے آج کے زمانے میں بھی خواجہ محمد یوسف جیسے مثالی انسان میں نظر آتی ہے۔ ان پر نہ صرف کلکتّہ فخر کر سکتا ہے بلکہ میری گردن بھی احترام سے جھک جاتی ہے۔ظاہر سی بات ہے جب خواجہ محمد یوسف کی قابلیت اور لیاقت کا احترام کلکتہ نے اپنی حق گوئی سے کر لیا ہے تو میرے لیے اس شخصیت پر قلم اٹھانا باعثِ فخر ہے۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گزر جانے کے بعد بھی ہمیشہ یاد آتے رہتے ہیں۔ان کا کارنامہ، ان کی قوم پرستی، ان کی باتیں، ان کے جذبات، اور زندہ دلی کی دوسری بہت سی باتیں تو ہم بہت سے لوگوں میں پاتے ہیں لیکن ان تمام خوبیوں کے ساتھ ایک حساس دل کا مالک اور سب کا خیال رکھنے والی شخصیت کی بات کی جاتی ہے جو ہمارے دل وجان میں اتر کر ہمارے زندگی میں ایک ایسی مثال بن کر بس جاتے ہیں۔جن کی خوشبو ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے اور ان کو بار بار یاد کرنا، اس کی تحریر کا مسلسل مطالعہ کرنا دل کو سکون دیتا ہے اور ایسی ہی ایک شخصیت میرے وجود کا حصہ ہیں اور وہ کوئی اور نہیں،جسٹس خواجہ محمد یوسف ہیں۔

1985میں ہائرسیکنڈری کا امتحان پاس کرنے کے بعد کلکتے کے معروف مولانا آزاد کالج میں بی آنرس میں داخلہ لینے کے ساتھ ہی میرے سیاسی دور کا بھی آغاز ہوا۔ اُس وقت بنگال’لال سلام‘کے نعروں سے گونج رہا تھا۔اُن دنوں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر بننا فخرکی بات سمجھی جاتی تھی۔ ساتھ ہی غریب اور مزدوروں کے حق میں بات کرنے والی پارٹی صرف بایاں محاذ کو ہی سمجھا جاتا تھا جس کا فائدہ اٹھا کر مارکسی حکومت نے بنگال میں ایک عرصے تک حکومت کی۔کالج میں داخلے کے بعد میں نے بھی طلباء تحریک میں شمولیت اختیار کر لی اور جلد ہی اسٹوڈنس یونین کے الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے پہلے کلچرل سیکریٹری بنا اور پھر جنرل سیکریٹری منتخب ہوا۔ ہم نے اپنی سیکریٹری شپ میں دو اہم کام انجام دیے۔ پہلا لڑکیوں کے لیے بھی اس کالج میں پڑھنے کا انتظام کروانا اور دوسرا کامرس ڈگری کی شروعات کروانا۔

1986میں مولانا آزاد کالج اپنے قیام کے ساٹھ سال مکمل کرنے کے بعد ڈائمنڈ جوبلی منا رہا تھا۔ سہ روزہ شاندار جشن کا اہتمام کیا گیا۔اس کے افتاحی پروگرام میں ہندوستان کے صدر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔ میرے لیے مولانا آزاد جیسی شخصیت کے نام سے منسوب کالج میں پڑھنا ایک اعزاز کی بات تھی۔ لیکن اس سے بڑھ کر اس بات کا بھی مجھے فخر محسوس ہوا کہ اس کالج سے جتنی نامور شخصیات، دانشور اور معروف لوگوں نے تعلیم مکمل کی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہم نے بھی اس کالج کی آن بان اور شان برقرار رکھنے کے لیے جی جان لگا کر اپنی تعلیم مکمل کی۔ آج بھی ہم فخر سے لندن میں کلکتے کے مولانا آزاد کالج کا نام لیتے ہیں۔

اسی مولانا آزاد کالج سے تعلیم حاصل کرنے والی اہم شخصیت بھی ہماری زندگی میں آئی۔ وہ شخصیت جسٹس خواجہ محمد یوسف کے نام سے جانی جاتی ہے۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف سے میری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ یہ سلسلہ ان کے جج مقرر ہونے کے بعد بھی بدستور جاری رہا۔ جسٹس بننے کے بعد ان کی محبت میں مزید اضافہ محسوس کیا۔ یہ ایک ایسی شخصیت ہے جن سے ذاتی ملاقات کے دوران تو متاثر رہا ہی ان کی روزنامہ آزاد ہند میں گاہے بگاہے شائع ہونے والی تحریروں سے بھی بہت متاثر رہا اور ان سے ان دونوں حیثیت سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل رہا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف کی تحریریں کئی معنوں میں اہم مانی جاتی تھی۔ ان کی تحریریں سماجی اور دینی اصلاحات پر مبنی ہوتی تھیں۔ جسے پڑھنے کے بعد قوم میں بیداری جاگ اٹھتی تھی۔ جہاں تک یاد ہے ان کے مضامین مہینے میں کئی بار پڑھنے کو مل جاتے تھے۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف کی تحریروں میں جہاں قوم کی بے بسی کا ذکر ہوتا تھا، وہیں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پیغام بھی ہوتا تھا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف کا ایک مضمون (REMINISCENCE OF OLDEN DAYS) ریمی نیسینس آف اولڈن ڈیز،یعنی ’پرانے دنوں کی یاد دہانی کی طرف‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ 1948 میں سینٹ زیویرس کالج میں بی اے میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد پریسیڈینسی کالج میں پولیٹیکل سائنس میں آنرز کے ساتھ داخلہ لیا۔ لیکن تھوڑے عرصے بعد شہری انتشار شروع ہوجانے کی وجہ سے پھر اسلامیہ کالج (مولانا آزادکالج)میں انگریزی میں آنرز کے ساتھ داخلہ لیا۔جسٹس خواجہ محمد یوسف مزید لکھتے ہیں کہ جب وہ امتحان کی تیاری میں مصروف تھے انھیں دنوں کلکتہ میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اس ہنگامے کو دیکھتے ہوئے انہوں نے انگریزی آنرز کے امتحان کی تیاری کو چھوڑ کر قوم کی فلاح و بہبود کے کام میں لگ گئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندوستان تقسیم ہورہا تھا اور کلکتہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ہندو مسلم فساد زوروں پر تھا۔ ان دنوں ہندوستان میں افراتفری کا ماحول تھا اور کچھ لوگ مشرقی پاکستان جانا اپنا مقدر سمجھ رہے تھے تو کچھ ہندوستان میں رہ کر اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایسی صورت میں جسٹس خواجہ محمد یوسف جیسے حساس دل قوم پرست پر کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ ہم خوب لگا سکتے ہیں۔ان حالات میں بھی انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف آگے لکھتے ہوئے اس کالج کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ 1948تک اس کالج کو غیر متزلزل ادارے میں تبدیل کر دیا گیا۔حالانکہ اسلامیہ کالج کی تشکیل بنگال کے اس وقت کے وزیر برائے تعلیم مولوی ابولقاسم فضل الحق کی ان تھک کوشش سے ہی مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے کی گئی تھی۔جسٹس خواجہ محمد یوسف مزید لکھتے ہیں کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935میں لباس کی حکمرانی(کالی شیروانی اور پاجامہ) کو بھی ختم کر دیا گیا۔جسٹس خواجہ محمد یوسف یہ بھی لکھتے ہیں کہ انہیں یہ کالج مکمل سیکولرطور پر کام کرنے والا دکھا۔ جلد ہی اسلامیہ کالج کا نام تبدیل کرکے پہلے سینٹرل کالج اور بعد میں مولانا آزاد کالج رکھ دیا گیا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندوستان کو ایک سیکولر ملک بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عرصے تک انہوں نے اپنے طور پر بنگال میں رہ کر وہاں کی عوام کو ایک ساتھ مل جل کر رہنے کی تلقین کرتے رہے اور ساتھ ہی قوم کی ہمدردی بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ جس کا اظہار انہوں نے بارہا اپنی تقاریر میں کیا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف اپنے مضمون،ریمی نیسینس آف اولڈن ڈیز، میں مولانا آزاد کالج کے پروفیسرز کا فخریہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان پروفیسر ں میں نظم و ضبط کے علاوہ پڑھانے کا جذبہ ایسا تھا کہ طلباء کلاس میں ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے۔جسٹس خواجہ محمد یوسف مزید کہتے ہیں کہ پروفیسر پریرا، پروفیسر بشنو دے، وغیرہ ایسی پروفیسر تھیں کہ گھنٹہ بجتے ہی کلاس میں داخل ہوتے اور جب تک اگلے کلاس کا گھنٹہ نہ بجتا وہ کلاس سے جاتے نہیں تھے۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف پروفیسر ابو جمال ابو طیب سے کافی متاثر تھے۔ ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’پروفیسر ابو جمال ابو طیب میرے حقیقی مددد گار تھے اور کالج چھوڑنے کے بعد بھی برسوں میری رہنمائی کرتے رہے۔ درحقیقت پروفیسر ابو جمال ابو طیب نے ہی مجھے قلم پکڑنا سکھایا‘۔ پروفیسر ابو جمال ابو طیب انگریزی کے پروفیسر تھے اور وہ ان کا بہت ادب و احترام کرتے تھے اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ یہ تھی کہ وہ بہت ایمانداری سے اپنے فرض کی ادائیگی کرتے تھے۔
جسٹس خواجہ محمد یوسف اپنی تمام تر مقبولیت اور رتبے کو بالائے طاق رکھ کر عام لوگوں سے ملتے رہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو ان کا مقام اور عزت دیتے ہوئے اپنے اخلاق کا بہترین نمونہ پیش کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ہر عام و خاص اپنے پروگرام میں مدعو کرتے اور وہ بلا تفریق مذہب و ملت سب کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف اردو زبان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کی اس محبت کا اظہار ان کے دوست پروفیسر فخرالدین صدیقی اکثر کرتے تھے۔فخرالدین صدیقی اثر ؔ تخلص کرتے تھے۔ انہوں نے کالج میں شعبہ اردو کو خوب سجایا تھا اور بڑی محنت سے کام کرتے تھے۔ اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ مولانا آزاد کالج کا شعبہ اردو مغربی بنگال ہی نہیں بلکہ ہندوستان کا ایک عرصے تک نمایاں شعبہ اردو تھا جہاں معروف پروفیسر وحشت کلکتوی،عباس علی خان بیخود، پروفیسر نیاز احمدخاں اور اعزاز افضل جیسے استاد نے درس و تدریس کا کام انجام دیا۔ مجھے اس بات کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں نے بھی اردو میں بی اے آنرز مولانا آزاد کالج سے ہی کیا تھا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف نے پروفیسر نیاز احمد خان کو ایک انتہائی متحرک شخص بتایا ہے۔وہ اپنے مضمون ’ریمی نیسینس آف اولڈن ڈیز‘ میں لکھتے ہیں کہ پروفیسر نیاز احمد خان ایک اچھے اسپیکر اور مصنف تھے۔ مغربی بنگال میں اردو ڈرامے میں ان کا تعاون کافی تھا۔ وہ اسکرپٹ بھی لکھتے تھے اور ڈراما ڈائریکٹ بھی کیاکرتے تھے۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف لکھتے ہیں کہ پروفیسر نیاز احمد خان ہی انہیں ان کی خواہش کے خلاف اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر کی طرف گھسیٹ کر لائے۔ ورنہ ان کا رحجان تو پولیٹکل سائنس پڑھنے کا تھا۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف 1947کی تقسیم ہند کے بعد مولانا آزاد کالج کے پہلے مسلم طالب علم تھے جنہیں 1977میں میں کلکتہ ہائی کورٹ میں،ریاست مغربی بنگال کاسینئر گورنمنٹ ایڈوکیٹ مقرر کیا گیا تھا۔ پھر 1987میں کلکتہ ہائی کورٹ کا جج بنایا گیااور 1992میں جو ڈیشل کمیشن آف انکوائری کے سربراہ مقرر کئے گئے۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف نے سات برسوں تک معروف ادبی اور علمی ادارہ ایران سوسائٹی کی صدارت کی۔ اس کے علاوہ آپ کو ویسٹ بنگال مائنیریٹیز کمیشن کا چئیر مین بھی مقرر کیا گیا۔کلکتے کے بیشتر اداروں میں جسٹس خواجہ محمد یوسف کی تقاریر کو سننے کے لیے لوگ امڈ پڑتے تھے۔ میرے ذہن میں آج بھی مولانا آزاد کالج کے سالانہ عید میلادالنبی کی تقریب محفوظ ہے۔ جب جسٹس خواجہ محمد یوسف کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ ان کی تقریر سے ہال میں موجود طلباء دم بخود ہو گئے۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف جب مائک پر بولنا شروع کرتے تو اس وقت ہال میں موجود لوگوں میں سکتہ طاری ہوجاتا اور وہ ان کی باتوں کو ہم تن گوش سنتے۔ وہ اس قدر دلچسپ انداز میں گفتگو کرتے کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔جسٹس خواجہ محمد یوسف کے تقریر کرنے کا ایک منفردانداز ہوتا تھا جو میں نے کلکتہ کے کسی اور دانشور میں نہیں پایا۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف جب تقریر شروع کرتے تو وہ اسلامی تاریخ کے حوالے سے ان باتوں کا ذکر کرتے جسے سن کر نہ صرف لوگوں کے علم میں اضافہ ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنے کی تحریک بھی ملتی تھی۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف کو جب کلکتہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تو کلکتہ کے لوگوں میں خوشی کی ایک خاص لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ عرصے بعد اردوزبان بولنے والا کوئی جج بنا تھا۔ جسٹس خواجہ محمد یوسف نے ہائی کورٹ میں گزارے مدت میں اپنی صلاحیت اور اعلیٰ منصفانہ رویے سے لوگوں کا دل جیت لیا تھا۔ میں نے انہیں ایک بار کلکتہ ہائی کورٹ کے بینچ پر بیٹھ کر فیصلہ سناتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور جسٹس خواجہ محمد یوسف انگریزی زبان میں اپنی گفتگو ختم کرنے کے بعد فیصلہ سنا رہے تھے۔ یہ منظر میرے لیے باعث فخر تھا۔

بہت سارے لوگوں کو اس بات کا شاید علم نہ ہو کہ جسٹس خواجہ محمد یوسف کو لذیز کھانے کا بہت شوق تھا۔ انہیں مغلئی کھانے بہت پسند تھے اور کلکتہ کی بریانی کے وہ کافی دلدادہ تھے۔میں نے انہیں کئی تقاریب میں عام لوگوں کے ساتھ بریانی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ویسے بھی کلکتہ کی بریانی اتنی لذیذ ہوتی ہے کہ چاہے جج ہو، یا عام انسان، سبھی اس کے شیدائی ہیں۔

کلکتے کے معروف انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک خبرمیرے ذہن میں آج بھی محفوظ ہے۔ جب جسٹس خواجہ محمد یوسف کو کلکتہ کلب نے اندر داخل ہو نے سے اس لیے روک دیا کہ انہوں نے کلکتہ کلب کی تہذیب کے مطابق روایتی سوٹ کی بجائے پائجامہ اور شیروانی پہنمیں ملبوس تھے۔اس کے بعد انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کے اس خبر کے ساتھ پورے ہندوستان کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جسٹس خواجہ محمد یوسف کو ان کے لباس کی وجہ سے کلکتہ کلب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ مجھے اس خبر سے جسٹس خواجہ محمد یوسف کی قوم پرستی، سادگی اور حقیقت پسندانہ زندگی پر کافی فخر ہوا اور ان کی عزت میری نگاہ میں مزید بڑھ گئی۔

جسٹس خواجہ محمد یوسف کے پاس ایک خاص کالی کلاسک گاڑی ہوتی تھی۔ جو شاید ہند موٹر کی بنی ہوئی لینڈ ماسٹر تھی۔ میں جب بھی شام کوکالج سے گھر لوٹتا توکلکتہ میدان کے قریب گاندھی جی کے مجسمے کے پاس ان کی کلا سک گاڑی گزرتی ہوئی دکھائی دیتی جس میں جسٹس خواجہ محمد یوسف پیچھے بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ عدالت سے گھر لوٹتے ہوئے بھی اپنے کام میں مگن رہتے تھے۔

آج میں نے جسٹس خواجہ محمد یوسف کے بارے میں مختصر طور پر جو باتیں لکھیں شاید ان کی زندگی سے اگر موازنہ کیا جائے تو یہ باتیں بہت کم ہوں گی۔لیکن میں نے پوری کوشش کی کہ کلکتہ شہر کی آن بان اور شان جسٹس خواجہ محمد یوسف کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ جو آنے والی نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

میں ان کے دو ہونہار فرزند خواجہ جاوید یوسف اور خواجہ افتخار یوسف کونیک خواہشات پیش کرتا ہوں جو کلکتہ میں قانونی ماہرین کے طور پر اپنے والد کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں اور جن سے ہماری بہت سی امیدیں وابسطہ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ انسانیت، درد مندی اور روشن خیال کا جو چراغ جسٹس خواجہ محمد یوسف نے جلایا تھا اس کی روشنی سے محترم جاوید یوسف اورمحترم افتخار یوسف بنگال کی سرزمیں کو منور کریں گے۔

error: