کملی: محبت کی ایسی داستان جس سے آپ کو ہیر رانجھا اور سوہنی مہیوال کے قصوں کی خوشبو آئے گی

کسی بھی فلم کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ شائقین کے لیے ایک چھوٹے سے سینما ہال میں ایک ایسی دنیا بنا دے جس سے فلم ختم ہونے کے بعد بھی نکلنا مشکل ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسی فلم سے جڑا ہر شخص اپنی صلاحیت سے زیادہ محنت کرتا ہے اور سکرپٹ سے لے کر سکرین تک اس دنیا کو ٹکڑے ٹکڑے جوڑ کر بنانے میں کئی سال لگتے ہیں لیکن شروعات ہمیشہ ایک خیال سے ہی ہوتی ہے۔

پاکستانی فلم ’کملی‘ کی مرکزی کہانی کا خیال انتہائی سادہ ہے۔ شاید اتنا سادہ کہ کسی اور پاکستانی ڈائریکٹر کے لیے اس پر دو گھنٹے کی فلم بنانا بہت مشکل ثابت ہو لیکن سرمد کھوسٹ نے فاطمہ ستار کی لکھی ہوئی اس سادہ سی کہانی پر مبنی سکرین پلے کو انتہائی مہارت سے ایک مکمل فلم کی شکل دی ہے۔

کملی کہانی ہے حنا کی، جو ایک بے نام وادی کے ایک گھر میں اپنی اندھی نند سکینہ کے ساتھ بظاہر ایک عام سی زندگی گزار رہی ہے۔ آٹھ سال پہلے اس کا شوہر روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر گیا اور پھر کبھی مڑ کر واپس نہیں آیا اور نہ ہی اس نے اپنی بہن یا بیوی سے کوئی رابطہ کیا۔

ان حالات میں حنا کی ملاقات اس وادی میں آئے ایک مسافر املتاس سے ہوتی ہے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔

اگر ہم غور کریں تو ’کملی‘ کی کہانی سے ہمیں اپنی ہی مٹی میں بسے ہیر رانجھا اور سوہنی مہیوال کے قصوں کی دھیمی سی خوشبو آتی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ حنا اور املتاس کی محبت کا یہ فسانہ آج کے دور کا ہے۔ کہانی سنانے کا انداز بھی نیا ہے اور محبت کی بُنت میں بھی جدت ہے۔

صبا قمر، کملی

لیکن شاید یہ نیا پن اتنا مؤثر نہ رہتا اگر حنا کا کردار نبھانے والی اداکارہ اپنے کردار کے ساتھ انصاف نہ کر پاتی مگر صبا قمر نے اس کردار کو اس قدر خوبصورتی سے نبھایا کہ اس کی مثال ہمیں موجودہ دور کے پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں کم ہی ملتی ہے۔

’کملی‘ کی ریلیز سے پہلے ہونے والی پروموشنز کے دوران صبا قمر نے ایک پریس کانفرنس میں یہ شکوہ کیا تھا کہ کچھ لوگوں کے مطابق وہ ایک ہی طرح کے کردار کر سکتی ہیں۔

البتہ کملی دیکھنے کے بعد شاید ایسے لوگوں کی شکایتیں بھی دور ہو جائیں کیوںکہ اس فلم میں صبا کی ایکٹنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ حنا جیسے مشکل کردار کو اس کی تمام سلوٹوں سمیت انھوں نے اپنے اوپر اوڑھ لیا ہو۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کملی ایک ون وومن شو ہے۔ اس فلم میں ثانیہ سعید اور نمرہ بُچّہ کے کردار بھی اپنی اپنی جگہ بہت اہم ہیں اور بالخصوص ثانیہ کے اداکاری کے سفر میں ایک اندھی عورت سکینہ کا یہ کردار بہت خاص جگہ رکھتا ہے۔

ثانیہ سعید
،تصویر کا کیپشنثانیہ سعید کے اداکاری کے سفر میں اندھی عورت سکینہ کا یہ کردار بہت خاص جگہ رکھتا ہے

ہاں اگر اداکاری کے حوالے سے اس فلم میں کوئی کمی رہ گئی تو وہ ہے املتاس کے کردار میں۔ اس کی وجہ یہی سمجھ آئی ہے کہ اس کردار کو نبھانے والے حمزہ خواجہ کی یہ پہلی مکمل دورانیے کی فلم ہے۔

بعض اہم سینز میں تجربے کی یہ کمی اور اس کی وجہ سے ہونے والی گھبراہٹ حمزہ کے چہرے پر بہت واضح نظر آئی اور ہمارے دلوں میں اس بات کی تمنا پیدا ہوئی کہ کاش صبا قمر کے مقابلے میں ان کی ٹکر کے کسی اداکار کو کاسٹ کیا جاتا۔

اس کے علاوہ فلم کا پہلا گھنٹہ گزرنے کے بعد یہ خواہش بھی ہوئی کہ پلاٹ کو تھوڑا تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ شاید سرمد اور فاطمہ کو بھی اس چیز کا احساس ہو گیا تھا اور اسی لیے انٹرمشن کے بعد ’کملی‘ نے آہستہ آہستہ رفتار پکڑنا شروع کی اور پھر اچانک ہی کہانی نے ایک نیا اور دلچسپ موڑ لے لیا۔

فلم کے کلائمکس کے بارے میں اس سے زیادہ بات کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اس لیے وہ آپ لوگ سینما میں جا کر ہی دیکھیں تو بہتر ہے۔

صرف پانچ مرکزی کرداروں پر مبنی کملی کی اس جادوئی دنیا کو بنانے اور اس میں شائقین کی دلچسپی برقرار رکھنے میں اس فلم کے ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی اویس گوہر اور میوزک پروڈیوسر سعد سلطان کے کردار بھی بہت اہم ہیں۔

حمزہ خواجہ
،تصویر کا کیپشناملتاس کا کردار نبھانے والے حمزہ خواجہ کی یہ پہلی مکمل دورانیے کی فلم ہے

وادی سون کے پہاڑوں میں حنا کی کہانی کے کچھ فریمز نے تو اپنی خوبصورت سادگی کی وجہ سے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ چھوڑ دی۔ ایسی سادگی یقیناً کہانی کی مکمل سمجھ اور اپنے فن پر پورے اعتماد سے ہی آتی ہے۔

سعد نے بھی کچھ ایسی ہی مہارت کا استعمال کملی کے بیک گراونڈ سکور اور گانوں میں کیا۔ فلم کے کلائیمکس کے قریب آنے والا ریشماں جی کا گانا ذہن میں بس گیا ہے اور فلم دیکھنے کے بعد اگلے کچھ دن تک گاڑی میں بیٹھ کر بس یہی گانا سننے اور گنگنانے کا دل کرتا ہے۔

ان سب لوگوں کی محنت کو اکٹھا کرنے اور اس کہانی کے تمام حصوں اور کرداروں کو جوڑ کر اسے ایک فلم کی شکل میں پرونے کا تمام تر کریڈٹ سرمد کھوسٹ کو جاتا ہے۔

سرمد نے تخلیقی اور تکنیکی اعتبار سے حقیقی معنوں میں اس کہانی کے ساتھ انصاف کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ سرمد کھوسٹ کا شمار ان چند پاکستانی فلمسازوں میں ہوتا ہے، جو ہمیشہ اپنی مرضی کی فلم بنانے کا خطرہ مول لیتے ہیں اور پھر اس فلم کے سکرپٹ کو پورا وقت اور توجہ دیتے ہیں۔

نمرہ بچہ
،تصویر کا کیپشنصرف پانچ مرکزی کرداروں پر مبنی اس فلم کی کاسٹ میں نمرہ بچہ بھی شامل ہیں

سنہ 2007 میں شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ کی ریلیز کے بعد سے پاکستان میں اکثر سینما کی بحالی کے لیے کوششوں کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن پندرہ سال گزر جانے کے باوجود اس انڈسٹری سے جڑے لوگوں کے پاس ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلموں کی نمائش پر پابندی کے مطالبے کے علاوہ ایسا کوئی واضح طریقہ نہیں جس سے وہ عوام کو سینما میں آ کر پاکستانی فلمیں دیکھنے اور دیکھتے رہنے پر مائل کر سکیں۔

فارمولا فلمیں تو بنتی رہتی ہیں لیکن ان میں سے اکثریت کے فارمولے ہی اب ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ اس لیے فلم کے چلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں نئے خیالات اور تجربوں سے ڈرنا بے وقوفی ہے۔

’کملی‘ کی لکھاری سمیت سرمد کی ٹیم میں شامل بہت سے لوگوں کی یہ پہلی مکمل دورانیے کی فلم ہے۔ ان لوگوں نے ابھی تک کسی فارمولے کا رٹہ نہیں لگایا۔ اس کے باوجود سرمد کھوسٹ کے ساتھ مل کر ان لوگوں نے دو گھنٹے کی ایک ایسی شاندار دنیا بنائی ہے، جو دل اور دماغ پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے اور شاید تجربے کی یہی کمی، کملی کی کامیابی ہے۔