Site icon Dunya Pakistan

کمپیوٹر سپیس اور اس کے بعد کی کہانی: ویڈیو گیمز کی نصف صدی کی تاریخ

ویڈیو گیمز کی جو آج اربوں ڈالروں کی صنعت ہے، وہ سنہ 1971 میں چند کالج کے طلبا کی بنائی ہوئی آرکیڈ گیم کے طور پر شروع ہوئی تھی۔

اس سے پہلے ویڈیو گیمز کھیلنا یونیوسٹیوں پر زیادہ پڑھنے والے بچوں کا شوق تھا مگر سنہ 1971 میں یونیورسٹی آف یُوٹا کے ایک طالب علم نولان بشنل اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک محقق جم سٹائن نے مل کر ایک گیم بنائی تھی۔

یہ دونوں ایک گیم سپیس وار کے کھلاڑی تھے جو کہ ایک یونیورسٹی کی لیب میں چلائی جا رہی تھی۔ مگر نولان کا امیوزمنٹ پارکس میں کام کرنے کا تجربہ ان کے کام آیا اور انھیں اس میں ممکنہ مقبولیت نظر آئی۔

سالہا سال تک ان فونز نے اس پر کام کیا جس کے بعد انھوں نے نٹنگ ایسوسی ایٹس کے ساتھ اشتراک شروع کیا۔ ان کی گیم کمپیوٹر سپیس کو پہلی مرتبہ 1971 میں ٹیسٹ کے لیے ریلیز کیا گیا۔

فائیبر گلاس کے ڈبے کی بنی یہ سادہ سپیس شوٹر گیم کامیاب رہی۔ یہ پہلی آرکیڈ گیم تھی۔ مگر ہم آرکیڈ صنعت کی سادہ کی آوازوں سے اب ایک ایسی صنعت تک پہنچ چکے ہیں جو کہ فلم اور موسیقی کی صنعتوں کو ملا کر بھی ان سے بڑی ہے۔

اس کی تاریخ پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

1970 کی دہائی: گیمنگ کی پیدائش

کمپیوٹر سپیس کی ریلیز کے بعد اس دہائی میں کئی گیمز بنائی گئیں۔ ان میں سب سے مشہور پونگ تھی جو کہ آج کے معیار کے مطابق شاید قدیم لگے مگر یہ آرکیڈ گیمز میں تاریخی طور پر مقبول ترین گیمز میں سے ایک تھی۔ ٹیکنالوجی کمپنی اٹاری کی بنائی ہوئی یہ گیم دنیا بھر میں 35000 یونٹ بیچ سکی۔

اسی دہائی میں سپیس انویڈرز بھی ریلیز کی گئی جو کہ جاپان میں 1978 میں آئی۔ اسی سال اس نے امریکہ میں 60000 یونٹ فروخت کر لیے۔

ابھی گھروں میں گیمنگ کے مقبول ہونے میں وقت تھا۔ سنہ 1975 میں اٹاری نے پونگ کا ایک ورژن نکالا جو کہ گھر پر کھیلا جا سکتا تھا۔ سنہ 1979 میٹل نامی کمپنی نے ایک ہینڈ ہیلڈ کونسول بھی بنایا، جسے انٹلی وژن کا نام دیا گیا۔

1980 کی دہائی آرکیڈز کا دور

1980 کی دہائی میزیم آرکیڈز کی روشنیوں کے لیے مشہور ہے کیونکہ اس دہائی میں ٹیٹرس، پیک مین اور تاریخ کی سب سے مقبول گیم مس پیک مین آئی تھی۔ نینٹینڈو نے ماریو کے ذریعے اس صنعت میں قدم جمائے۔ مگر اسی دہائی میں یہ صنعت تباہ ہونے والی تھی جب 1983 میں ویڈیو گیم کریش ہوا۔

مارکیٹ میں بہت ساری کمپنیوں کی موجودگی اور کم ہوتی دلچسپی کی وجہ سے ہوم گیمنگ کے ریونیو 1983 میں 3.2 ارب ڈالر سے گر کر 1985 میں صرف 100 ملین تک رہ گیا تھا۔ مگر اس سال کے آخر میں نینٹینڈو نے این ای ایس ریلیز کیا، جس نے صنعت کو بچا لیا اور اس کے 61.9 یونٹ فروخت ہوئے۔

1990 کی دہائی: کومبیٹ، کونسول، اور تنازعات

جیسے جیسے گرافکس اور کونسول بہتر ہونے لگی، گیمز بہتر دیکھنے لگیں۔ یہ شاید سب سے بہتر 1992 کی مورٹل کومبیٹ میں نظر آتا ہے۔

مگر اس میں ظاہری تشدد نے لوگوں کو حیران کر دیا اور اس گیم کی مقبولیت کے باوجود یہ معاملہ امریکی سینٹ میں جا پہنچا جہاں پر 1993 میں گیم بنانے والوں کو گیم میں موجود تشدد پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا۔ یہاں سے ویڈیو گیمز میں عمر کی پابندیوں کا آغاز ہوتا ہے۔

اسی دہائی میں بہت ساری کامیاب فرینچائزز بھی متعارف ہوئیں جیسے کہ پلے سٹیشن، سونک، اور وار کرافٹ۔ مگر اس دہائی کی مقبول ترین گیم تھی ڈوم۔ اس گیم میں ایک فوجی کو مریخ پر شیطانوں سے لڑتے دیکھایا گیا ہے اور یہی وہ گیم تھی جس میں فرسٹ پرسن شوٹر کا بہترین استعمال کیا گیا۔ یہی طریقہ آج کی مقبول ترین گیمز کال آف ڈیوٹی اور بیٹل فیلڈ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں نینٹینڈو 64 کے لیے بنائی گئی گیم سپرمین 64 بہت بڑی فلاپ رہی اور آج بھی بدترین گیمز کی فہرست میں شامل ہے۔

2000 کی دہائی: آن لائن انقلاب

2000 کی دہائی وہ عشرہ تھا جہاں دی سمز اور موبائل گیمنگ متعارف کروائی گئی جو شاید بہت سے والدین کے سر کا درد ہو۔

2001 میں مائیکرو سافٹ نے اپنا کونسول ایکس باکس متعارف کروایا جس میں ان کی فلیج شپ گیم ہیلو تھی جو کہ ایک بہت بڑی ہٹ رہی اور کونسول کے لاکھوں یونٹ فروخت ہوئے۔

مگر 2004 میں ہیلو اصل انقلابی گیم تھی جس میں ایکس باکس لائیو کا استعمال کیا گیا تاکہ دنیا بھر کے کھلاڑی ایک ساتھ کھیل سکیں۔

2000 کی دہائی میں ہی ایک بہت بڑی ملٹی پلیئر گیم ورلڈ آف وار کرافٹ بھی ریلیز کی گئی تھی جس میں ہزاروں کھلاڑی ساتھ کھیل سکتے تھے۔ اپنے عروج پر 2010 میں اس کے 12 ملین ایکٹیو سبسکرائبرز تھے۔

2010 کی دہائی: لوٹ باکس اور پسندیدہ انڈیپینڈنٹ گیمز

2010 کی دہائی کی معروف ترین گیم بلاشبہ مائن کرافٹ ہے۔ سنہ 2011 میں بننے والی اس انڈیپینڈنٹ گیم کو سویڈن میں بنایا گیا تھا اور اب تک یہ 200 ملین سے زیادہ یونٹ فروخت کر چکی ہے اور اس میں نہ تو زبردست گرافکس ہیں نہ ہی سٹوری لائن۔

اس میں ایک انقلابی رینڈمائزڈ تھری ڈی دنیا ہے جو کہ لیگو جیسی دیکھتی ہے۔

مگر اسی دہائی میں لوٹ باکسز کا رحجان مقبول ہو گیا۔ اگرچہ یہ سنہ 2004 میں آ چکے تھے مگر اب یہ مرکزی دھارے میں آ گئے جیسا کہ سنہ 2017 کی سٹار وارز بیٹل فرنٹ ٹو میں۔

ان میں کھلاڑیوں کو اصلی پیسے دے کر گیم کے اندر فوائد حاصل ہوتے تھے اور کبھی انھیں معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ انھیں کون سا فائدہ ہوگا۔ اس نظام کو گیمرز نے تنقید کا نشانہ اس لیے بنایا کیونکہ ان کے خیال میں پیسے دے کر لوگ جیتنے لگے تھے۔

اسی دہائی میں نینٹینڈو سوئچ آیا، جو کہ ایک انقلابی کونسول ہے، اور گیمنگ کی دنیا کی بڑی گیم فورٹ نائٹ آئی، ایک فری گیم جس کو بنانے والوں نے صرف اضافی چیزیں گیم میں بیچ کر 2019 میں 2.4 ارب ڈالرر کمائے۔

کورونا وائرس کی وبا کا اثر

کورونا وائرس کی وجہ سے ہم سے بہت سے لوگ مارچ 2020 سے گھروں میں بند ہیں جو کہ ویڈیو گیمزکے لیے ساز گار ترین موقع ہے۔ سنہ 2020 کے آخر تک برطانیہ میں 36 ملین لوگوں نے گیمنگ کونسول اور کمپیوٹرز کے ذریعے خود کو مصروف رکھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انڈسٹری میں سب سے زیادہ ترقی اب آن لائن گیمز میں ہوگی۔

Exit mobile version