کمیشن میں صرف ایک کیلا!

گزشتہ روز چڑیا گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایک دفعہ پھر جی چاہا کہ ایک چکر اندر کا لگا لوں مگر پھر وہ اخباری خبر یاد آ گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ وہاں ایک پنجرہ خالی پڑا ہے اور چڑیا گھر والے اُسے خالی نہیں رکھنا چاہتے! چنانچہ میں نے اندر کا چکر لگانے سے گریز کیا مگر پھر خود پر قابو نہ پایا گیا اور میں نے گاڑی کا رُخ چڑیا گھر کے دروازے کی طرف موڑ دیا۔ مجھے سب سے زیادہ دلچسپی بھیڑیوں اور دوسرے خونخوار جانوروں سے ہے۔ چنانچہ میں سیدھا ایک بھیڑیے کے پنجرے کی طرف گیا، وہاں میں نے دیکھا کہ وہ کمبل اوڑھے لیٹا ہے۔ میں نے اُسے پوچھا خیریت ہے؟ بولا بخار سے پھنک رہا ہوں۔ میں نے کہا ابھی پچھلے ہفتے میں آیا تھا تو تم ناظرین کو مکا دکھا رہے تھے بلکہ تم نے تو ایک بچے کو زخمی بھی کر دیا تھا۔ بولا اُس وقت میں صحت مند تھا، اگر طاقت کے باوجود لوگوں کو مکا نہ دکھایا جائے تو بھیڑیا بننے کا کیا فائدہ؟ اتنے میں چڑیا گھر کا ناظم میرے پاس آیا، وہ میرا پرانا جاننے والا ہے۔ اُس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا سر جی اسے کوئی بخار وخار نہیں، یہ صرف ڈرامہ ہے تاکہ اسے دوبارہ جنگل میں بھیج دیا جائے۔ میں نے پوچھا اگر ایسا ہے تو پھر تم نے اِسے کمبل کیوں فراہم کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ ہماری مجبوری ہے، چڑیا گھر کے قواعد کے مطابق ہمیں یہ کرنا

ہی تھا چنانچہ اس کے پنجرے کو اسپتال قرار دے دیا گیا ہے۔ اب ڈاکٹر اس کے چیک اپ کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اگر یہ بیمار ہے بھی تو اس کی بیماری کی نوعیت کیا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کہ اگر ڈاکٹروں نے بھی اسے بیمار قرار دے دیا تو پھر تم کیا کرو گے؟ اسے واپس جنگل میں جانے دو گے؟ بولا نہیں دوبئی بھیج دیں گے۔ وہاں جانوروں کی مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ یہ بہت وحشی ہے، کیونکہ یہ کئی مرتبہ انسانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔ دوبئی میں ہو گا تو اس کے بعد وہ جانیں اور یہ جانے۔ بھیڑیا یہ ساری گفتگو کان لگا کر سن رہا تھا۔ آخری بات پر وہ کھل اٹھا اور چڑیا گھر کے ناظم کو مخاطب کرکے بولا اے بھائی ناظم اللہ تمہیں حج کرائے یہ بات ایک دفعہ پھر کہو اور اس کے ساتھ ہی اس نے کمبل پرے پھینک کر بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا۔ اب میں نے ایک بن مانس کے پنجرے کا رخ کیا۔ یہ جانور چیر پھاڑ کرنے والا نہیں ہے۔ ڈارون کے مطابق یہ انسان کی ارتقائی شکل ہے مگر میں اس تھیوری کو نہیں مانتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسے انسان ہی کی طرح حیوان ہونا چاہئے تھا بہرحال اِس سے میری دلچسپی کی وجہ اُس کا نقال ہونا ہے بلکہ میں اِس کی ایک برتری کا بھی قائل ہوں۔ وہ دو ٹانگوں پر چلنے کے علاوہ دوسرے جانوروں کی طرح اپنی چاروں ٹانگوں سے بھی چلتا ہے تاکہ دوسرے جانوروں کو احساس ہو کہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ خیر جب میں اس کے پنجرے کے پاس گیا تو اس نے دانت نکال کر ’’کھی کھی‘‘ کرتے ہوئے میرا استقبال کیا۔ میں نے کہا سنائو برادر عزیز کیا حال ہے؟ بولا حال کیا ہونا ہے، چڑیا گھر والے کیلے نہیں کھلا رہے، کل ایک بچے کے ہاتھ سے چھین کر کھانا پڑا۔ میں نے کہا تمہیں دوسروں کا مال چھینتے ہوئے شرم نہیں آئی؟ بولا یہ تمہارے بڑے بڑے لوگ جنہیں تم جھک جھک کر سلامیں کرتے ہو، اُنہیں دوسروں کے مال سے عیش کرتے ہوئے شرم آتی ہے؟ بات تو یہ ٹھیک کر رہا تھا مگر اس وقت اس کی حوصلہ افزائی مناسب نہیں تھی۔ میں نے غصے سے کہا بےغیرت انسان، سوری بےغیرت حیوان، منہ سنبھال کر بات کرو، یہ بات تم اپنے سامنے کھڑے انسان کے منہ پر کہہ رہے ہو؟ یہ سن کر اس نے ایک اور بھرپور قہقہہ لگایا اور بولا یار اب میرے سامنے تو یہ بات نہ کرو، میں نہیں جانتا تم کون ہو؟ اس پر میں گھبرا گیا اور کہا یار خدا کے لئے آہستہ بولو، اردگرد بہت سے لوگ کھڑے ہیں اور وہ بھی خود کو انسان ہی سمجھتے ہیں۔ کہنے لگا ایک شرط پر آہستہ بولوں گا۔ میں نے پوچھا وہ کیا؟ بولا، یہ جو شخص سامنے سے آ رہا ہے اور جس کے ہاتھ میں کیلوں سے بھرا شاپنگ بیگ ہے، اسے کسی طریقے سے میرے پنجرے کی سلاخوں کے قریب لے آئو۔ ورنہ ....میں نے پریشانی کے عالم میں کہا ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ اب اپنی بکواس بند کرو، اتنے میں وہ شخص پنجرے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور پوری محویت سے بن مانس کو دیکھنے لگا۔ بن مانس اسے خوش کرنے کے لئے قلا بازیاں لگانے لگا۔ کیلوں کے تھیلے والے شخص نے مجھ سے پوچھا جناب یہ کوئی کالم نگار یا اینکر ہے؟ میں نے کہا نہیں بھئی، بن مانس ہے۔ تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے قریب جا کر اس سے ہاتھ ملائو، یہ سن کر وہ بےوقوف آدمی آگے بڑھا اور اپنا دایاں ہاتھ مصافحہ کے لئے سلاخوں کے اندر بڑھایا ہی تھا کہ بن مانس نے اس کے بائیں ہاتھ میں لٹکا کیلوں والا شاپر جھپٹ لیا، اس پر وہ شخص گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور مجھے مخاطب کر کے کہا جناب آپ نے تو کہا تھا کہ یہ بن مانس ہے، اس دوران بن مانس نے چھلکا اتار کر کیلے کھانا شروع کئے اور چھلکے پنجرے کے باہر پھینکنے لگا تاہم اب اس نے ایک کیلا میری طرف بڑھایا اور کہا تو تم بھی کھائو۔ یہ تمہارا کمیشن ہے۔ در فٹے منہ! یہ بھی کوئی کمیشن ہے کمیشن تو اربوں میں ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: