کناڈا: ’سب سے بدھی انڈین زبان‘ کے سرچ نتائج پر گوگل کی معافی

گوگل کے سرچ انجن میں انڈیا کی کرناٹکا ریاست کی سرکاری زبان کناڈا کو ’انڈیا کی سب سے بدھی زبان‘ کے طور پر دکھانے پر ریاست نے کہا ہے کہ وہ گوگل کو ایک قانونی نوٹس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ان الفاظ کے ساتھ جمعرات کو گوگل سرچ میں کناڈا کی زبان سب سے اوپر نظر آ رہی تھی۔

جمعرات کو ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’غلطی فہمی اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے‘ پر معافی مانگتے ہیں۔

بہت زیادہ غم و غصے کے سامنے آنے کے بعد انھوں نے غلطی کو ٹھیک کر دیا ہے۔

جمعرات کو گوگل سرچ کے نتائج پر جنوبی انڈیا کی ریاست کے رہنماؤں سمیت متعدد افراد نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

کرناٹک کے وزیر اراوند لمباولی نے ٹیکنالوجی کمپنی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوگل کی جانب سے کناڈا بولنے والوں اور اس پر فخر کرنے والوں کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’کناڈا زبان کی اپنی ایک تاریخ ہے، جو تقریباً 2500 سال پہلے معرض وجود میں آئی تھی۔ ان ڈھائی ہزار برسوں میں یہ کناڈیگاس (کناڈا بولنے والے) کا فخر رہا ہے۔‘

گوگل نے ٹوئٹر پر دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ سرچ فیچر ہمیشہ بالکل درست یا کامل نہیں ہوتا، اور بعض اوقات ’انٹرنیٹ پر جس طرح سے مواد کو بیان کیا جاتا ہے تو اس سے خاص سوالات کے حیرت انگیز نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ یہ مثالی نہیں ہے، لیکن جب بھی ہمیں کسی مسئلے کے متعلق بتایا جاتا ہے تو ہم فوری طور پر اصلاحی کارروائی کرتے ہیں اور اپنے الگورتھم کو بہتر بنانے کے لیے مستقل طور پر کام کر رہے ہیں۔‘

’یقیناً، یہ گوگل کی رائے کی عکاسی نہیں کرتے، اور ہم غلط فہمیوں اور کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت خواہ ہیں۔‘

ریاست کے سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی نے کئی ٹویٹس کیے جن میں انھوں نے کہا کہ ’صرف کناڈا ہی نہیں، کوئی زبان بھی بری نہیں ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ زبانوں کے خلاف بدسلوکی تکلیف دہ ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا گوگل کے لیے کسی زبان کے خلاف اس طرح کی نفرت کو روکنا ناممکن ہے؟‘

گوگل انڈیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس نے بہت سی انڈین ریاستوں اور زبانوں میں کام شروع کیا ہے۔ اس کا منصوبہ ہے کہ وہ انڈیا میں مزید پھیلے کیونکہ موبائل انٹرنیٹ ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *