کنڈوم بنانے کی ضروت کیوں پیش آئی اور بہترین کنڈوم بنانے کا سفر کہاں تک پہنچا؟

وہ تقریباً 5000 سال قبل یورپ کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک کا عظیم حکمران تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کریٹ کے کنگ مینوس کو ایک مسئلہ درپیش تھا۔۔۔ ان کا سیمن زہریلا تھا اور بادشاہ کے حرم میں موجود متعدد عورتیں ان کے ساتھ جنسی تعلقات کے بعد ہلاک ہوگئیں۔

یہ غیر معمولی جنسی بیماری ہی کنڈوم بنانے کا سبب بنی اور کنگ مینوس وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے کنڈوم کا استعمال کیا۔

یہ حفاظتی غلاف بکری کے مثانے سے تیار کیا گیا تھا لیکن اس سے ہم بستری کے دوران بادشاہ کی ساتھی خواتین کو محفوظ رکھنے میں مدد ملی تھی (حالانکہ اس بارے میں ایسی بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ یہ غلاف بادشاہ نے خود پہنا تھا یا ان کی ساتھی خواتین نے)۔

آج دنیا بھر میں ہر سال 30 بلین کنڈوم فروخت ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والی تنظیم یو این ایڈز کے مطابق سنہ 1990 کے بعد سے کنڈوم کے استعمال سے ایک اندازے کے مطابق 45 ملین ایچ آئی وی انفیکشن کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی بھی ہر روز 10 لاکھ سے زیادہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن ہو رہے ہیں۔ اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال 80 ملین حمل غیر ارادتاً ہوتے ہیں۔

صحت عامہ کے متعدد ماہرین کا اصرار ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور خاندانی منصوبہ بندی میں کنڈوم کو زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

جدید لیٹیکس کنڈومز زیادہ تر جنسی بیماریوں سے 80 فیصد یا اس سے زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں کنڈوم کا غلط استعمال بھی شامل ہے۔ جب صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو کنڈوم ایچ آئی وی کی ترسیل کو روکنے میں 95 فیصد تک مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

کنڈوم

بلومنگٹن، انڈیانا یونیورسٹی میں ایڈز اور ایس ٹی ڈی روک تھام کے سینئیر ڈائریکٹر، ولیم یاربر کے مطابق لوگوں کو کنڈوم کا صحیح طریقے سے استعمال کروانا، اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہماری تحقیق کے مطابق بہت سے لوگ کنڈوم استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن انھیں کنڈوم کے استعمال سے منفی تجربات ہوئے ہیں یا وہ کنڈوم کی ’خراب ساکھ‘ پر یقین کیے بیٹھے ہیں، یا انھیں کنڈوم کے صحیح استعمال سے ملنے والی جنسی لذت کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

کنڈوم استعمال نہ کرنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں مذہبی وجوہات سے لے کر جنسی معلومات کی کمی اور اسے پہن کر محسوس ہونے والی ناپسندیدگی شامل ہیں۔

کنڈوم کا پھٹنا یا پھسلنا نسبتاً غیر معمولی ہے، لیکن ایسا ہوتا ہے۔۔۔ کچھ تحقیقات کے مطابق ایک سے پانچ فیصد کیسز میں ایسا ہوتا ہے۔ اور اس سے خود اعتمادی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ اس کا استعمال ترک کر سکتے ہیں۔

محققین کو امید ہے کہ جدید مادوں اور ٹیکنالوجیز کے ساتھ ایسے بہتر کنڈوم تیار کیے جا سکتے ہیں جنھیں زیادہ سے زیادہ افراد استعمال کر سکیں۔

کنڈوم

مضبوط کنڈوم تیار کرنے کے لیے ایک خیال یہ بھی ہے کہ گرافین کا استعمال کیا جائے۔ یہ کاربن ایٹموں کی ایک انتہائی پتلی پرت ہے جسے پہلی بار 2004 میں برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں نے شناخت کیا تھا۔

نیشنل گرافین انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان اراوند وجے راگھاون کا خیال ہے کہ ’دنیا کا سب سے پتلا، ہلکا پھلکا، مضبوط اور حرارت کے تبادلے میں مددگار مواد سے بننے والا کنڈوم، اس کی خصوصیات کو بہترین بنا سکتا ہے۔

ان کی ٹیم کو کنڈوم کے جدید ڈیزائن تیار کرنے کے لیے بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے 2013 میں ایک گرانٹ دی تھی۔ لیکن گرافین کو خود ہی اکیلے کسی بھی چیز کو بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا لہذا وجئےارگھاون کی ٹیم گرافین کو لیٹیکس اور پولیوریتھین دونوں کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گرافین ایک نینو سکیل مواد ہے جو ایک ایٹم جتنا پتلا اور چند مائیکرو میٹر چوڑا ہے۔ لیکن اس چھوٹے پیمانے پر یہ کرہ ارض کا سب سے مضبوط مادہ ہے۔‘

’چیلنج یہ ہے کہ اس خصوصیت کو نینو سے اس میکرو سکیل پر منتقل کیا جائے جس پر ہم حقیقی دنیا کی اشیا استعمال کرتے ہیں۔‘

’ایسا کرنے کے لیے ہم کمزور خصوصیت والے پولیمر کے ساتھ گرافین کے مضبوط ذرات کو جوڑ کر یہ کام کرتے ہیں۔ پھر گرافین اپنی مضبوطی والی خصوصیت کو کمزور پولیمر میں منتقل کرکے اسے نینو سکیل پر مضبوط بنا دیتا ہے۔‘

وجیراگھاون نے مزید کہا کہ اس امتزاج سے ایک پتلی پولیمر فلم کی طاقت میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے یا کنڈومز اپنی موجودہ طاقت برقرار رکھتے ہوئے 20 فیصد تک پتلے کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ ابھی تک گرافین کنڈوم دستیاب نہیں ہیں، اس وقت یہ ٹیم اپنے جدید، مضبوط ربڑ کو تجارتی بنادوں پر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

کنڈوم

آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی میں ایک اور گروپ کنڈوم بنانے میں استعمال ہونے والے مواد کو پتلا اور مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ یہاں وہ ایسے کنڈوم تیار کررہے ہیں جن میں لیٹیکس کے ساتھ آسٹریلیا کی آبائی سپنیفیکس گھاس ( تیز نوک والی گھاس) کو ملایا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کی دیہی کمیونٹیز طویل عرصے سے سپنیفیکس کی گوند کو مختلف آلات بناتے ہوئے چپکانے کے لیے استعمال کرتی آ رہی ہیں۔

محققین کو سپنیفیکس گھاس سے نکلے ہوئے نینو سیلولوز کے ساتھ لیٹیکس کو تقویت دینے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیٹیکس کے نتیجے میں آنے والی پرتیں 17 فیصد تک مضبوط تھیں اور یہ اس سے بھی زیادہ پتلی بنائی جاسکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کنڈوم تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو 20 فیصد تک زیادہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے اور پھٹتا نہیں اور تجارتی پیمانے پر بننے والے لیٹیکس کنڈومز کے مقابلہ میں 40 فیصد زیادہ پھول سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ کے میٹریل انجینئر نسیم امیرالیان جو اس منصوبے کی قیادت کررہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ٹیم اب کنڈوم مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر فارمولیشنز اور پروسیسنگ کے طریقوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھیں امید ہے کہ وہ ایسے کنڈومز بنا سکتے ہیں جو مضبوط ہوں لیکن موجودہ کنڈومز کی نسبت 30 فیصد زیادہ پتلے ہوں، اور ان کنڈومز کو پہننے والے کو محسوسں ہی نہ ہو سکے کہ اس نے کنڈوم پہن رکھا ہے۔۔۔ اور اسی خصوصیت کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگ ان کنڈوم کا استعمال کریں گے۔

کنڈوم

اس مواد سے کئی اور چیزیں بھی بنائی جا سکتی ہیں جن میں ڈاکٹروں کے لیے مضبوط لیکن زیادہ حساس دستانے تیار کرنا شامل ہے۔

اب تک لیٹیکس کنڈومز میں استعمال ہونے والا سب سے عام مواد ہے، لیکن بہت سے لوگ لیٹیکس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں اور اکثر انھیں چکنا کرنے والی کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیٹیکس نسبتاً مہنگا بھی ہے، جو کنڈوم کے استعمال میں اضافی رکاوٹ ہوسکتا ہے۔

دنیا کی تقریباً 4.3 فیصد آبادی لیٹیکس الرجی کا شکار بھی ہے، لاکھوں لوگوں کے لیے عام طور پر مارکیٹ میں ملنے والے کنڈومز ناقابل استعمال ہیں۔

اگرچہ اس کے متبادل کے طور پر پولیوریتھین یا قدرتی جھلی والے کنڈوم دستیاب ہیں، لیکن ان میں خامیاں ہیں۔

پولیوریتھین کنڈوم لیٹیکس کنڈومز کی نسبت بہت آسانی سے پھٹ جاتے ہیں، جبکہ قدرتی جھلی والے کنڈومز میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جو ایس ٹی ڈی پیتھوجینز جن میں ہیپاٹائٹس بی اور ایچ آئی وی وغیرہ شامل ہیں، کا راستہ نہیں روک پاتے۔

تاہم آسٹریلیائی سائنسدانوں کا ایک اور گروپ لیٹیکس کی جگہ ’ٹف ہائیڈروجیل‘ کے نام سے ایک نیا مواد استعمال کرنا چاہتا ہے۔

زیادہ تر ہائڈروجلز، نرم اور دھنسا دینے والے ہوتے ہیں، لیکن سونبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف وولونگونگ کے محققین جن ہائڈروجلز پر کام کر رہے ہیں وہ ربڑ کی طرح مضبوط اور لمبے ہوتے ہیں۔

کنڈوم

اس ٹیم نے ’یوڈیمون‘ کے نام سے ایک کمپنی بھی قائم کی ہے جو ’جیلڈومز‘ پر ابتدائی تحقیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چونکہ ان میں لیٹیکس نہیں ہوتا، لہذا الرجی والے ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے جو روایتی کنڈومز کے استعمال سے پیش آتے ہیں۔

لیکن ٹیم کا کہنا ہے کہ ان ہائیڈروجلز کو بھی انسانی جلد کی طرح محسوس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جاسکتا ہے تاکہ قدرتی احساس بھی ہوتا رہے۔

چونکہ ہائیڈروجیل میں پانی شامل ہے اور یہ خود چکنا کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں، یا ان کی تشکیل میں ایسی اینٹی ایسٹیڈی دوائیاں استعمال کی جا سکتی ہیں جن کا مواد استعمال کے دوران جاری کیا جائے۔

یہ یقینی بنانا کہ کنڈومز کو اضافی چکنائی کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے، ایک ایسا چیلنج ہے جس پر سائنس دانوں نے اپنی توجہ مبذول کی ہوئی ہے۔

امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی کے محققین کے ایک گروپ نے ایک ایسی کوٹنگ (روغن کی تہہ) تیار کی ہے جسے جب کنڈوم پر لگایا جائے تو وہ سیلف لُبریکیٹنگ بن جاتے ہیں (یعنی ان میں چکنائی کی خصوصیت شامل ہو جاتی ہے)۔

اس کام کے لیے محققین نے ہائیڈروگلائڈ کوٹنگز کے نام سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی ہے۔ چیف ایگزیکٹو اور اس سٹارٹ اپ کی شریک بانی، سٹیسی چن کا کہنا ہے کہ سیلف لُبریکیٹنگ کنڈوم کم از کم 1000 جھٹکوں کا دباؤ سہہ سکتے ہیں جبکہ عام کنڈوم صرف 600 جھٹکوں کا دباؤ سہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیٹیکس کنڈومز میں استعمال ہونے والے لُبریکینٹس (چکنائی والا مادہ) زیادہ تر چپچپے ہوتے ہیں، پانی کو پیچھے دکھیلتے ہیں اور استعمال کے دوران ہی ختم ہوتے جاتے ہیں۔

تاہم بوسٹن یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ وہ ہائیڈرو فیلک کی ایک پتلی پرت یا پانی سے ملنے والے پولیمر کو لیٹیکس کی سطح سے جوڑ کر رکھ سکتے ہیں۔

پانی کے ساتھ رابطے میں آنے پر پولیمر، چھونے پر پھسل سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ استعمال کے دوران وہ جسمانی رطوبتوں سے خارج ہونے والی مادے کو نمی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے رگڑ کو کم کر سکتے ہیں۔

کنڈوم

چن کا کہنا ہے کہ ’لُبریکینٹس (چکنائی والا مادہ) ہی کنڈومز میں اکثر خرابیوں کا باعث ہے۔ جنسی تعلقات کے دوران ہماری کوٹکنگ (روغن کی تہہ) لیٹیکس کنڈوم پر لگی رہتی ہے اور مسلسل لُبریکیشن فراہم کر سکتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس سے کنڈوم کے استعمال میں پیش آنے والا سب سے بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

تقریباً 33 افراد پر کیے گئے سروے کے دوران بغیر چکناہٹ والے (ان لبریکیٹڈ ) لچکدار کنڈوم کے مقابلے میں اس کوٹکنگ والے کنڈومز نے رگڑ کو 53 فیصد تک کم کر دیا اور بازار میں دستیاب لُبریکینٹس (چکنائی والا مادہ) کے مقابلے میں بھی اس کی کارکردگی یہی رہی۔

چھوٹے پیمانے پر ہونے والے تحقیق میں 70 فیصد شرکا نے اپنے ذاتی لُبریکینٹس کے مقابلے میں ایسے کنڈومز کو ترجیح دی جن پر نئی کوٹنگ یا روغن کی تہہ لگائی گئی تھی۔

چونکہ اس وقت یہ پروڈکٹ اسے کاروباری بنانے والے عمل سے گزر رہی ہے، لہذا چن کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتا سکتیں کہ سیلف لُبریکیٹنگ کنڈوم کب تک استعمال کے لیے دستیاب ہو سکیں گے۔

کنڈوم

کنڈوم کا سائز بھی اکثر مسئلہ بن سکتا ہے۔ امریکہ میں ایک کنڈوم بنانے والی کمپنی 60 مختلف سائز کے کنڈوم فروخت کر رہی ہے۔

سنہ 2014 میں انڈیانا یونیورسٹی سے ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں جنسی طور پر سرگرم مردوں کے عضو تناسل کی لمبائی چار سینٹی میٹر سے 26 سینٹی میٹر تک ہے جبکہ موٹائی تین سینٹی میٹر سے لے کر 19 سینٹی میٹر تک ہے۔

اس کے مقابلے میں مردوں کے لیے کنڈوم کی اوسط لمبائی 18 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے گلوبل پروٹیکشن کارپوریشن دس مختلف لمبائیوں اور نو مختلف سائز کے کنڈوم بنا رہی ہے۔

سنتھیا گراہم نے، جو ساؤتھمپٹن ​​یونیورسٹی میں جنسی اور تولیدی صحت کی پروفیسر اور انڈیانا یونیورسٹی کے کنسی انسٹی ٹیوٹ میں کنڈوم ٹیم کی ایک محقق ہیں، وہ بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا کنڈوم پہننے کے نئے طریقوں سے ان کا استعمال آسان ہوسکتا ہے؟

ان کی ٹیم ایک نئی قسم کے کنڈوم پر ٹیسٹ کر رہی ہے جس میں بلٹ ان ایپلی کیٹر (جسم کے کسی حصے پر دوا لگانے کا آلہ) استعمال ہوتا ہے جس سے کنڈوم کو ہاتھ لگائے بغیر پہنا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک ایسا ریپر بھی ساتھ آتا ہے جس سے کنڈوم کو باآسانی باہر نکالا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد روایتی کنڈوم ریپر سے کنڈوم نکالتے ہوئے ہونے والے نقصان سے بچنا ہے۔

اس میں انرولنگ سٹرپس کا ایک جوڑا استعمال کیا جاتا ہے جو کنڈوم پورا کھلنے کے بعد خودبخود الگ ہو جاتا ہے - اس کا مقصد استعمال سے قبل یہ یقینی بنانا ہے کہ کنڈوم کا سائز ٹھیک ہے۔

لیکن فنڈز کی کمی کے سبب ابھی تک اس آلے کو کلینیکل ٹرائلز میں استعمال نہیں کیا جا سکا۔

اس کے علاوہ کئی اور بنیادی مسائل بھی ہیں جو کنڈوم کے استعمال کی راہ میں حائل ہیں۔

گراہم کہتی ہیں ’کنڈوم استعمال نہ کرنا ایک عام سی بات ہے۔ زیادہ تر افراد ایس ٹی ڈی اور جنسی تعلقات سے ہونے والی دیگر بیماریوں سے بچنے کے بجائے حمل روکنے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔‘

’سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوان سوچتے ہیں کہ یہ بیماریاں قابلِ علاج ہیں، لہذا وہ ان کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔‘

اگر ایک مضبوط، پتلا اور زیادہ آرام دہ کنڈوم بنا بھی لیا جائِے تو یہ تو واضح ہے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنھیں سمجھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: