کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، ’داعش کے 6 دہشت گرد‘ مارے گئے

کوئٹہ: مشرقی بائی پاس کے علاقے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران شدت پسند گروپ داعش (آئی ایس) سے تعلق رکھنے والے کم از کم 6 مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

 رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں سی ٹی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی علاقے میں موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران سی ٹی ڈی نے ایک گھر سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا جو کالعدم تنظیم کے ارکان کے ٹھکانے کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ کوئٹہ میں داعش کا ایک ’بہت بڑا دہشت گردی کا منصوبہ‘ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن بلوچستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے ضلع کوئٹہ کے منظور شہید تھانے کی حدود میں کیا۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اس نے ذرائع کی جانب سے یہ معلومات ملنے پر کارروائی کی کہ داعش کا ایک رکن اصغر سمالانی، جس کے سر کی قیمت ڈپارٹمنٹ کی ریڈ بک میں 20 لاکھ روپے مقرر ہے، دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پر واقع کیو ڈی اے قبرستان کے علاقے میں موجود تھا۔

ترجمان نے کہا کہ وہ کوئٹہ میں ایک حساس تنصیب پر حملہ کرنے والے تھے، اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور دہشت گردوں کو روک دیا۔

بیان کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کو کہا لیکن انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور دستی بم پھینکے۔

اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں اصغر سمالانی سمیت داعش کے 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4 سے 5 اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ داعش کے باقی اراکین کی شناخت کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں کوئٹہ کے سی ٹی ڈی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے برآمد ہونے والی چیزوں میں ایک دیسی ساختہ بم، 200 راؤنڈز والی تین سب مشین گن، 47 راؤنڈز والی دو 9 ایم ایم پستول، ایک دستی بم اور دو موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

error: