کوئٹہ میں لڑکیوں کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار

'ماما میں آپ کی نوکرانی ہوں ۔ مجھے معاف کریں۔‘ گذشتہ دنوں وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں ایک نوجوان خاتون ایک مرد کی منت کر رہی ہے کہ ان سے غلطی ہوئی، اس لیے وہ انھیں معاف کریں۔

وہ مرد جس کی آواز بھاری ہے نہ صرف اس خاتون بلکہ اس کی والدہ اور بہن کو گالیاں دے رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں غالباً مارنے کے لیے کوئی چیز ہے۔

کوئٹہ میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان دو بہنوں میں سے ایک کی ہے جن کی والدہ کی جانب سے قائد آباد تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔ پولیس نے اس الزام میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو کہ آپس میں بھائی ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس فدا حسین نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے جو لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ٹیب وغیرہ تحویل میں لیے گئے ہیں ان کو مزید تحقیقات کے لیے پنجاب فرانزک لیب بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ’تحقیقات کے حوالے سے پولیس پر کوئی دباؤ نہیں۔‘

اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کی دونوں بیٹیوں کی برہنہ ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے بعد ملزمان ان کو دھمکیاں دے کر زبردستی عصمت فروشی کروا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نوجوان خواتین کو جھانسہ دلاکر ان کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بناتے تھے اور ان کے ذریعے ان کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے آٹھ سے دس خواتین کی ایسی ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم بعض دیگر اطلاعات کے مطابق ملزمان کے قبضے سے برآمد کی جانے والی ویڈیوز اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔

قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے کوئٹہ میں اس ویڈیو سکینڈل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں غیر جانبدار تحقیقات کرنے اور اس میں ملوث تمام افراد کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس نے اس سلسلے میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے جو دو شکایتوں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

کوئٹہ، ویڈیو سکینڈل
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے جو لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ٹیب وغیرہ تحویل میں لیے گئے ہیں ان کو مزید تحقیقات کے لیے پنجاب فرانزک لیب بھیج دیا گیا ہے

گرفتار ملزمان کون ہیں اور ان کے خلاف کس نے شکایت کی؟

دونوں ملزمان کے خلاف ایک خاتون نے شہر کے قائدآباد پولیس سٹیشن میں شکایت کی تھی جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

اس ایف آئی آر کے مطابق وہ کوئٹہ میں مری آباد کی رہائشی ہیں اور محنت مزدوری کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں جن میں سے بڑی کی عمر 19 سال اور چھوٹی کی عمر 16 سال ہے جنھیں ملزمان دو بھائی مل کر گذشتہ دو سال سے بلیک کر رہے ہیں۔

’ان کی برہنہ ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے بعد ان کو دھمکیاں دے کر زبردستی عصمت فروشی کروا رہے ہیں۔‘ ایف آئی آر کے مطابق چار پانچ روز قبل ملزمان ان کی بیٹیوں کو بلیک میل کرتے ہوئے زبردستی اغوا کر کے لے گئے۔

خاتون نے کہا کہ دونوں کی برہنہ ویڈیوز بنانے کے بعد ان کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا اور دونوں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

خاتون کی درخواست پر قائدآباد پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی نو دفعات کے تحت مقدمہ کیا۔

پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد دونوں بھائیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ ایئرپورٹ روڈ پر بابا فرید ہاﺅسنگ سکیم میں کرائے کے ایک مکان میں رہائشی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹھکانے کا سراغ ان کے موبائل فون کے ذریعے لگایا گیا اور چھاپہ مار کر ان کو گرفتار کیا گیا۔ ایک بھائی کی گرفتاری کے بعد دوسرے بھائی کو نیچاری روڈ سے گرفتار کیا گیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون وغیرہ برآمد کیے گئے جن میں نوجوان خواتین کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ نہ صرف دو لڑکیوں کی والدہ نے ایف آئی آر درج کرائی ہے بلکہ ایک متاثرہ خاتون نے خود آ کر ملزمان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

مقدمہ درج کرنے والی خاتون اور ان کی دونوں بیٹیاں منظر عام سے غائب

سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ دونوں ملزمان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں خاتون نے اپنی جن دو بیٹیوں کے اغوا کا الزام عائد کیا تھا وہ تاحال بازیاب نہیں ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم ان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ انھیں زبردستی افغانستان لے جایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرانے کے بعد دونوں لڑکیوں کی والدہ سے بھی رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزمان منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور لڑکیوں کو ملازمت سمیت دیگر قسم کی لالچ اور جھانسہ دے کر اپنے پاس بلاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لڑکیاں ان کے جال میں پھنس جاتی تھیں وہ ان کو اپنے پاس بلاکر ان کو پہلے نشہ آور ادویات وغیرہ دیتے تھے اور وہ جب بے ہوش ہوتی تھیں تو پھر ان کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی تھیں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزمان سے آٹھ سے 10 لڑکیوں کی ویڈیوز اور تصاویر برآمد کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان لڑکیوں کو ان کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان لڑکیوں کو مختلف محفلوں میں شرکت پر بھی مجبور کرتے تھے جبکہ ان لڑکیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منشیات لے جانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ویڈیوز سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وہ ان لڑکیوں کو مار پیٹ اورتشدد کا نشانہ بھی بناتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کسی کام سے انکار وغیرہ پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

اگرچہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جن دو لڑکیوں کے اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ افغانستان میں ہیں جبکہ ان کی والدہ بھی اس گھر میں موجود نہیں جہاں کا پتہ انھوں نے ایف آئی آر میں لکھوایا تھا۔ ان کا موبائل فون نمبر بھی بند جا رہا ہے۔ ’اگر اس نمبر پر کال کیا جائے تو یہ میسج آتا ہے کہ یہ نمبر عارضی طور پر بند ہے۔‘

ایف آئی آر پر جس علاقے کا پتہ درج کرایا گیا وہاں کے علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ خاتون اور ان کی بیٹیاں جس گھر میں رہتی تھیں وہ کرایہ کا تھا اور اب بند ہے۔

’لڑکیوں کی آخری لوکیشن کابل کی ہے‘

ایف آئی آر میں جن لڑکیوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک لڑکی کی سوشل میڈیا پر جو ویڈیو آئی ہیں ان میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ افغانستان میں ہیں۔

انھوں نے اس ویڈیو میں اپنی والدہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر جو ظلم ہوا وہ ان کی سوتیلی والدہ نے کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے اور ان کو بلاوجہ پکڑا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ قائد آباد پولیس کے اہلکار ان کی والدہ سے ملے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھیں اٹھا کر زبردستی افغانستان لایا گیا ہے۔

پولیس حکام لڑکیوں کی والدہ کے بارے میں تو کچھ نہیں بتا رہے کہ وہ کہاں ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکیاں افغانستان میں ہیں۔

پولیس، فدا حسین
،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کی لوکیشن کے بارے میں آخری مرتبہ جو پتا لگایا گیا تو وہ کابل میں تھیں

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس فدا حسین نے بتایا کہ ان لڑکیوں کی آخری لوکیشن کے بارے میں آخری مرتبہ جو پتا لگایا گیا تو وہ کابل میں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھائیں گے اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لڑکیوں کو بازیاب کرائیں۔‘

سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار

قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور حرمت نسواں ویلفیئر سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی سکینڈل سامنے آچکا ہے جس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کی رپورٹ تاحال سامنے نہیں لائی گئی۔

بیان کے مطابق ماضی میں بلوچستان کی تمام اقوام ایک دوسرے کی روایات اور اقدار کا احترام کرتی تھیں مگر چند عرصے سے یہاں بھی روایات پامال کی جارہی ہیں جو کہ افسوسناک عمل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ویڈیو کی غیر جانبدار تحقیقات اور اس میں ملوث تمام بااثر افراد کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

مجلس وحدت المسلمین کے رہنماﺅں نے ویڈیو سکینڈل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی سے بڑا جرم ہے۔

کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ اگر ایسے گھناﺅنے واقعات کا سختی سے سدباب نہیں کیا گیا تو یہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیں گے۔

حرمت نسواں ویلفیئر سوسائٹی کی سربراہ حمیدہ ہزارہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس تحقیقات کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

علمدار روڈ پر عام لوگوں کی رائے پولیس سے مختلف تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں جن دو لڑکیوں کی اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ ملزمان کی تحویل میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس صحیح معنوں میں تفتیش نہیں کررہی ہے اس لیے وہ ملزمان کو بچانے کے لیے یہ کہہ رہی ہے کہ لڑکیاں افغانستان میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان بااثر ہیں شاید ان کے ڈر سے ان کی والدہ بھی اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور چھپ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا اس سلسلے میں کیا کہنا ہے؟

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو سے ویڈیو سکینڈل کے تناظر میں سول سوسائٹی کی قائم قومی اصلاحی کمیٹی سے ملاقات کی اور انھیں اس سلسلے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ویڈیو سکینڈل میں ملوث ملزمان کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو سکینڈل انتہائی افسوسناک ہے جس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری دیرینہ روایات میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو عزت احترام کا اعلیٰ مقام حاصل ہے اور ویڈیو سکینڈل نے ہماری روایات کو پامال کیا ہے۔‘

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان کو ہدایت کی کہ پراسیکیوشن میں ایسی کسی بھی قسم کی کمی نہ چھوڑی جائے جس کا فائدہ ملزمان کو ملے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: