کورونا سے مرنے والے ہندوستانی اور انسانیت کے خلاف جرم!

حال ہی میں معروف انگریزی ادیب اور سماجی کارکن اروندھتی رائے کا ایک مضمون برطانیہ کے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم انسانیت کے خلاف جرم دیکھ رہے ہیں‘۔ یہ بات انہوں نے ہندوستان کی کوویڈ تباہی سے متعلق کہی ہے۔ اروندھتی رائے نے ہندوساتی وزیر اعظم کی کوویڈ سے نبٹنے میں ناکامی اور لاپرواہی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

کبھی کبھی ہم انسان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ آخر کیونکر ہم انسان ہوتے ہوئے بھی حیوان بن جاتے ہیں۔ بیثتر مثالیں ایسی ملتی ہیں جب ہم کبھی نہ کبھی اپنی انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر ہر وہ حد پار کر جاتے ہیں جس سے ہمارا سر تو نیچا ہوتا ہی اور ہم سوچ کر بھی نہیں سمجھ پاتے کہ آخر کیوں ہم نے ایسے جرم ہوئے۔دنیا کی عدالت میں اس کا فیصلہ تو ہوجاتا ہے لیکن ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ طاقت اور دولت کے بل بوتے پر ظلم کرنے والا آزاد انسانیت کا مذاق اڑاتا پھرتا ہے۔

تاریخ کے پنوں کو پلٹنے سے نہ جانے کیسی کیسی جنگیں اور نسل کشی کی مثالیں پڑھنے کو ملتی ہیں جس سے ہمیں اس بات کا سبق ملتا ہے کہ دنیا جب سے قائم ہوئی ہے انسان مذہب، ذات پات، نسل،مظلوم ہونے کی بنا پر اپنی جان ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں گنواتا رہا ہے۔تاہم کبھی کبھی ان ظالم حکمرانوں کو سزا ملی ہے تو کبھی کبھی ان کی طاقت کے آگے دنیا بے بس بھی رہی ہے اور سیاست کے بھینٹ چڑھی دنیا کی عدلیہ اور قانون بے بس ہو جاتی ہے۔اس طرح ہر بار ہم یہی سوچتے ہیں کہ اس ظالم کو سزا مل گی۔ لیکن ہم اپنی بے بسی اور آہ بھرنے کے کچھ کر بھی نہیں پاتے ہیں اور آخر کار معاملہ سیاست کی بھینٹ چڑ ھ جاتا ہے۔

انسانیت کے خلاف مشہور جرائم جو ہوئے ہیں ان میں آرمینیئن نسل کشی، جس میں ڈیڑھ لاکھ تک کی موت ہوئی۔ کمبوڈین نسل کشی، جس میں تیس لاکھ تک ہلاک ہوئے۔نائجیرین شہری جنگ،جس میں تیس لاکھ ہلاک ہوئے۔ہولوڈومر جس میں پانچ لاکھ کی موت ہوئی۔ ہولوکوٹس، جس میں چھ لاکھ لوگوں کو مارا گیا۔ امریکہ کا یوروپیائی نو آبادیاتی، جس میں دس لاکھ لوگ مارے گئے۔تاہم بوسنیا کا نسل کشی بھی ایک ایساجرم تھا جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔یہاں یہ بات بھی سچ ہے کہ یہ تمام جرائم نسل کشی سے منسلک ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران جس طرح سے لوگ آکسیجن کو ترس رہے ہیں، اس کا بھی تعلق انسانی جرم سے ہی منسلک ہے۔یعنی کہ لوگوں کو بنا آکسیجن مرتے ہوئے چھوڑ دیا گیا۔

بین الاقوامی اخبارات میں ہندوستان میں کورونا سے مرنے والوں کی جلتی چتا کو دیکھ کر منہ کلیجے کو آجاتا ہے۔مجھے یہ توپتہ نہیں کہ مودی اینڈ ٹیم کو بھارت کے شمشان سے اجتماعی لاشوں سے اٹھنے والے شعلوں کی اذیت ناک تصویر جو کہ بین الاقوامی اخبارات کا صفحہ اول میں شائع ہورہی ہیں، اس پر ان کی نگاہ پڑ رہی ہے یا نہیں۔تاہم اتنا ضرور پتہ ہے کہ ہندوستانی حکومت اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ کس صوبے کو کتنا آکسیجن دینا چاہیے۔ 2017میں ریاست اتر پردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کی بات تو آپ سبھوں کو یاد ہی ہوگی۔ جب انہوں نے انتخابی مہم میں مذہبی کارڈ کھیلتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگا یا کہ ’حکومت مسلمانوں کے قبرستان پر زیادہ خرچ کررہی ہے جبکہ اسے شمشان کی پرواہ نہیں ہے‘۔وزیراعظم نے مزید یہ بھی کہا کہ ’اگر کسی گاؤں میں قبرستان تعمیر کیا جاتا ہے تو وہاں شمشان بھی تعمیر کیا جانا چاہیے‘۔ مجمع میں موجود بھٹکے ہوئے لوگوں نے شمشان، شمشان کا نعرہ بلند کیا تھا جس سے انسانیت کے دشمن نریندر مودی کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی۔جس ملک میں الیکشن قبرستان اور شمشان کے مدعاپر ہو،اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔

جب امریکہ اور یورپ کورونا کی دوسری لہر سے پریشان حال تھا اور ہر کسی کو اپنی جان کی پڑی تھی تو اس وقت حکمرانوں سے لے کر عام آدمی اسی کوشش میں لگا ہو اتھا کہ کس طرح لوگوں کی جان بچائی جائے۔ وزیراعظم سے لے کر سائنسداں، ڈاکٹر روزانہ شام ٹیلی ویژن پر آکر لوگوں کو ہسپتال سے لے کر ویکسین اور روزگار کے سلسلے میں باتیں بتا تے اور نیوز رپورٹر کے سوالات کا جواب بھی دیتے۔لیکن اس کے بر عکس ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اپنا زیادہ تر وقت الیکشن ریلیوں میں گزارا یا من کی بات کہنے میں جسے اب لوگوں نے نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔یہی نہیں نریندر مودی عالمی فورم پر بھی ہندوستان کی شیخی بگھاڑتے دکھائی دیے جبکہ ان کے لہجے میں ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں سنا گیا۔جو کہ ایک نہات شرمندگی کی بات ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب امریکہ، برطانیہ سمیت یورپ میں کورونا کی دوسری لہر چل رہی تھی تو ہندوستانی وزیراعظم کیوں لاپرواہ ریاستی الیکشن کے لیے فکر مند تھے؟کیوں وزیراعظم نے ہسپتال کو جدید آلات سے لیس کیا؟ کیوں فوج کی مدد نہیں لی گئی؟ کیوں غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ سوتیلہ پن جیسا سلوک کیا گیا؟ ایسے کئی سوالات ہیں جس کا ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو جواب دینا ہوگا۔

پچھلے سال جب پوری دنیا میں کورونا پھیلی تھی تو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزن نے بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کرنے کا مشورہ دیا تھا جس سے بہت ساری جان بچائی گئی۔ لیکن اس وقت بھی ہندوستانی وزیراعظم نے کبھی لوگوں سے دیاجلانے کو کہا، پھر تھالی بجانے کو کہا اور کورونا کو مذاق بنا کر رکھ دیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اندھ وشواش کو بڑھاوا ملا اور لوگوں نے کورونا کے خطرناک اثرات سے لاپرواہ ہوگئے۔اگر ہندوستانی وزیراعظم اس وقت دنیا میں پھیلی کورونا اور اس سے بچاؤ کی ترکیب پر کوئی لائحہ عمل بنایا ہوتا تو آج ہندوستان کے لاکھوں لوگ آکسیجن کے لیے ہاہا کار نہیں مچاتے اور نہ ہی ہر جگہ شمشان گھاٹ دکھتا۔
بی بی سی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہندوستان میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد دس گنا زیادہ ہے۔مجھے اس بات پر کوئی شک بھی نہیں گزرتا ہے۔کیونکہ ہندوستان کی کورونا کی صورتِ حال عجیب و غریب بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے ذاتی ویڈیو حالات کچھ اور بتا رہے ہیں تو ہندوستانی نیوز ایجنسیاں حکومت کی حمایت میں بیان دینے سے باز نہیں آرہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مجھے اس بات کو اقرار کرنے میں کوئی دقت نہیں ہورہی ہے کہ ہندوستان میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد اہندوستانی حکومت کے اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔

حال ہی میں دلی میں مقیم جمیل صاحب سے میری بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ ان کے گھر کے دس افراد کو کورونا ہوگیا تھا۔ جب ان کی حالت بگڑنے لگی تو گھر والوں نے انہیں ہسپتال میں بھرتی کر دیا۔ لیکن جمیل صاحب نے لرزتی آواز سے ایک ایسی بات بتائی جس سے میری روح کانپ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’وارڈ میں کورونا سے متاثر مریضوں کی آوازیں سن کر انہیں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ کسی ’ذبح خانے‘ میں موجود ہیں۔ جمیل صاحب نے مزید کہا کہ اللہ سبھوں کو کورونا سے محفوظ رکھے۔

اسپتال آکسیجن کی بھیک مانگ رہے ہیں اور مرکزی حکومت کورونا مریضوں کی ہمدردی سے دور اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ آکسیجن کے بحران کی وجہ سے ریاستوں کے مابین شدید بحث چل رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں الزام تراشی میں میں لگی ہوئی ہیں۔ اتر پردیش جہاں سب سے زیادہ لوگ آکسیجن کے لیے پریشان ہیں، وہاں کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ان کی ریاست کے کسی بی ہسپتال میں آکسیجن کی کمی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو افواہیں پھیلا رہے انہیں قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ضمانت کے بغیر گرفتار کر لیا جائے۔کوئی یوگی آدتیہ ناتھ کو سمجھائے کہ وہ اپنے بھگوا لباس پر پی پی ای لباس ڈال کر کورونا مریضوں کو آکسیجن فراہم کرے کیونکہ اتر پردیش میں لاش جلانے کو لکڑیاں کم پڑ گئی ہیں۔

انسانیت کے خلاف جرائم سے مراد کسی خاص جرائم کا حوالہ دیا جاتاہے جو بڑے پیمانے پر حملے کے تناظر میں عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، خواہ ان کی قومیت قطع نظر ہو۔ ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو آکسیجن نہیں مل پارہا ہے جس کی وجہ سے معصوم لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ جس کا قصور وار ہندوستانی حکومت ہے جو اپنے فرائض دینے میں ناکام ہے۔ اس لیے میں بھی اسے انسانیت کے خلاف جرم مانتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *