کورونا وائرس: ’جب میں سو رہی ہوتی ہوں، میرا فون کووڈ 19 پر تحقیق کرتا ہے‘

ہننا لاسن ویسٹ کا رات کا معمول بھی ہم میں سے بیشتر افراد جیسا ہے۔ وہ تقریباً ساڑھے 10 بجے سونے کی تیاری کرتی ہیں۔ سونے سے پہلے برش کرتے ہوئے اسی دوران اپنے بستر کو برقی آلے سے گرم ہونے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں۔ پھر اپنا چہرہ دھو کر سونے کے لیے لیٹ جاتی ہیں۔

سونے سے پہلے، ہننا کچھ نیوز سائٹ دیکھتی ہیں۔ انسٹاگرام چیک کرتی ہیں اور پھر فون کو چارج سے لگا کر سو جاتی ہیں۔

جب 31 سالہ ہننا اپنے لندن کے گھر میں سو رہی ہیں، تو ان کا فون قریب آٹھ گھنٹوں کے لیے الگ ڈیوٹی پر ہے۔ وہ کچھ سائنس دانوں کو کورونا وائرس سے متعلق تحقیق میں ان کی مدد کرنے کے لیے اپنی پاور کا استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ان کا فون پچھلے 11 ماہ سے اس تحقیق میں شامل ہے اور سائنس دانوں کے لیے تقریباً 25،000 حساب کتاب کر چکا ہے۔

ہننا دنیا کے قریب 10 لاکھ افراد میں شامل ہیں جو اپنے’سمارٹ فون کا کمپیوٹنگ ٹائم‘ ڈریم لیب ایپ کو باقاعدگی سے عطیہ کرتے ہیں۔

ایک تحقیق کے ذریعے یہ ایپ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کووڈ 19 مریضوں کو کون سے غذائی اجزا فائدہ پہنچا سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو طویل عرصے سے 'کووڈ 19' کی علامات کا شکار ہیں۔

ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کسی بھی قسم کا کھانا کھانے سے کووڈ سے بچا جاسکتا ہے یا یہ کہ کچھ چیزیں کھانے سے وائرل انفیکشن نہیں ہوتا۔ لیکن اس سلسلے میں تحقیق کی جارہی ہے۔

یہ تحقیق امپیریل کالج لندن اور دی ووڈا فون فاؤنڈیشن چیریٹی مل کر کر رہے ہیں۔

کورونا
،تصویر کا کیپشنعام کمپیوٹر میں جو اعداد و شمار کرنے میں 300 سال لگتے ہیں، وہی کام سمارٹ فون کمپیوٹر نیٹ ورک تین مہینوں میں مکمل کر سکتا ہے

کمپیوٹنگ کی طاقت

منتظمین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون کمپیوٹر نیٹ ورک جو کام کررہا ہے اور جس رفتار سے یہ کام کررہا ہے اس کا عام کمپیوٹر کے ساتھ کرنا بہت مشکل ہے اور اس میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

عام کمپیوٹر میں جو اعداد و شمار کرنے میں 300 سال لگتے ہیں، وہی کام سمارٹ فون کمپیوٹر نیٹ ورک تین مہینوں میں مکمل کر سکتا ہے۔

ہننا کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس ایپ کے بارے میں معلومات اس وقت ملیں جب میرے والد کو بلڈ کینسر تھا۔ کینسر کے علاج کی دریافت کا منصوبہ - وہ پہلا منصوبہ تھا جس کے لیے میں نے اپنے فون کا ’سمارٹ فون کمپیوٹنگ ٹائم‘ عطیہ کیا تھا۔‘

’لیکن جب کووڈ 19 کی وبائی بیماری آئی تو میں نے اس منصوبے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ کسی بھی ایسے منصوبے کو 'پاور' دی جانی چاہیے جو کووڈ 19 سے متعلق سوالوں کے جواب دے سکے۔‘

ہننا اس ایپ کو ہفتے میں صرف ایک یا دو بار چیک کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’اچھا محسوس ہوتا ہے جب یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کسی خاص کام میں شامل ہیں، وہ بھی اس وقت جب آپ سو رہے تھے۔ سچ کہوں تو میں جاننا چاہتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں کیوں شامل نہیں ہوتے۔‘

ہننا جیسے رضاکاروں نے اب تک 50 ملین سے زیادہ حساب کتاب کرنے میں سائنسدانوں کی مدد کی ہے۔

یہ ایپ دنیا بھر میں دستیاب ہے اور اسے صارفین برطانیہ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، جرمنی، گھانا، یونان، سپین اور پرتگال جیسے لگ بھگ 17 ممالک میں موجود ہیں۔

کورونا
،تصویر کا کیپشنانجلیکا کا کہنا ہے کہ 'میری والدہ لیوکیمیا کے باعث فوت ہوگئیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں طبی مسائل کے متعلق زیادہ حساس ہوں‘

ہننا کے گھر سے 900 میل کے فاصلے پر لزبن کے ایک مکان میں انجلیکا ایزیوڈو کا فون بھی اسی طرح کا حساب کتاب کر رہا ہے۔ جب وہ سو رہی ہوتی ہیں، ان کا فون خاموشی سے نمبروں کا کھیل، کھیل رہا ہوتا ہے۔

انجلیکا کا کہنا ہے کہ ’میری والدہ لیوکیمیا کے باعث فوت ہوگئیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں طبی مسائل کے متعلق زیادہ حساس ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں کووڈ 19 سے لڑنے میں کسی بھی طرح مدد کرسکتی ہوں تو مجھے اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘

28 سالہ انجلیکا صبح ایک بار اس ایپ کو دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے ایک مثبت آغاز ملتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں ہر صبح دیکھتی ہوں کہ رات کو میرے فون نے کتنے حساب کتاب کیے تھے۔ اس سے مجھے اچھا لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے بھی کسی نہ کسی طرح اس تحقیق میں حصہ لیا۔

سائنسدانوں کی رائے

امپیریل کالج لندن کی فیکلٹی آف میڈیسن کے پروفیسر کریل ویسکوف کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے بے حد مشکور ہیں جنھوں نے ان کی تحقیق کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔

کورونا- AI منصوبہ صرف 55 فیصد مکمل ہوا ہے۔ لیکن ان کی یونیورسٹی کے سپر کمپیوٹر بھی اتنا حساب کتاب نہیں کرسکے ہیں جتنا انھوں نے لوگوں کے سمارٹ فونز سے حاصل کیے ہیں۔

کریل کے مطابق، ایک لاکھ سمارٹ فون، سپر کمپیوٹرز سے دو سے تین گنا زیادہ تیز ہیں۔

کورونا
،تصویر کا کیپشنایپ مفت ہے اور ایک چیریٹی اس کی فنڈنگ کر رہی ہے

پروفیسر کریل کا تحقیقی مقالہ ہیومن جینومکس نامی جریدے میں شائع ہونے والا ہے۔ اس تحقیق میں سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 50 کے قریب ایسے خاص مالیکیول کا علم ہوا ہے جو اینٹی کوڈ خصوصیات کے حامل ہوسکتے ہیں۔

پوری دنیا کے بہت سارے سائنس دان اس تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیوں کہ تحقیق کے لیے لوگوں کے سمارٹ فونز کو جوڑنے کا طریقہ اس تحقیق کو مختلف بناتا ہے۔

کچھ سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ ’اگرچہ کھانے میں غذائی اجزا کی نشاندہی کا ممکنہ طور پر مستقبل میں کوڈ 19 میں کمی میں ایک کردار ہوسکتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ موجودہ وبائی بیماری پر، معاشرتی فاصلوں، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل اور متوقع ویکسین سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

وہ لوگ جو اس تحقیق کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور ایک ایپ کے ذریعے اپنے فونز کو 'سائنسی کیلکولیشن' کے لیے وقف کر رہے ہیں، انھیں 'رضاکار کمپیوٹنگ' کہا جاتا ہے، یہ کام 1990 کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔

اس طرح سے پہلے بھی بہت سی اقسام کی سائنسی تحقیق کی جا چکی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حساب کتاب کرنے کا یہ ایک عمدہ طریقہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: