کورونا وائرس: ’لوگ ماسک پہننے والوں کو گھور گھور کر دیکھتے ہیں‘

پیر کی ایک سہ پہر جب میں اپنے دفتر سے باہر نکلا تو اسلام آباد کے ایک بازار میں بھرپور رونق نظر آئی۔

گاڑیوں کے سامان، ورک شاپس اور سروس سٹیشنوں پر مشتمل یہ مارکیٹ اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 فور میں واقع ہے۔ ان کے ساتھ یہاں طرح طرح کی کھانے پینے کی دکانیں اور ریستوران بھی موجود ہیں۔

یکایک خیال آیا کہ یہ تو وہی علاقہ ہے جسے اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک حکم نامے کے تحت کووڈ 19 کا ہاٹ سپاٹ قرار دے کر سیل کرنے کا نوٹیفیکیشن نومبر کی ابتدا میں جاری کیا گیا تھا اور اب یہ لاک ڈاؤن ہٹایا جا چکا ہے۔

اسلام آباد، کورونا، لاک ڈاؤن

مارکیٹ کا دورہ کرتے ہوئے ہی ہماری نظر ایک درخت کے نیچے اپنی دکان سجائے حجام پر پڑی جو بغیر کوئی ماسک پہنے اپنے گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ پھر ایک شخص اُن کے پاس آیا، بال ترشوانے کے لیے کرسی پر بیٹھا اور اپنا ماسک اتار کر نائی کی میز پر رکھ دیا۔

معلوم ہوا کہ جناب ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں اور واقعی وہ اس وقت وردی میں ہی ملبوس تھے۔ حجامت کے دوران ان کا ماسک اسی میز پر پڑا رہا۔ پتا نہیں حجامت کے اختتام تک وہ ماسک کتنا آلودہ ہو گیا ہو گا اور کیا معلوم کہ وہی ماسک پہن کر وہ شخص واپس ہسپتال بھی گیا ہو!

اس دوران کسی نے سینیٹائزر کا استعمال نہیں کیا، نہ گاہک نے اس جانب توجہ دلائی اور نہ ہی حجام صاحب نے خود اس کی زحمت گوارا کی۔

کم و بیش یہی رویہ اسلام آباد کی ہر مارکیٹ کا ہے، اور یہ ملک کا دارالحکومت اور وہ شہر ہے جہاں اب تک 314 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے علاقے میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگائے جانے پر لوگوں میں احتیاط کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آتا مگر بازار میں سرگرمی معمول کے مطابق نظر آئی اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا رجحان کچھ خاص نظر نہیں آیا۔

یہی سوچتے ہوئے مارکیٹ میں موجود دکانداروں اور راہگیروں سے کورونا وائرس روکنے کے لیے کیے گئے ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ اور ’ایس او پیز‘ پر بات کی تو زیادہ تر لوگوں نے بات ہنسی میں اُڑا دی یا طنزیہ جواب دیے۔

ایک ٹائر شاپ سنبھالنے والے شخص مظہر علی سے جب اُن کے علاقے میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے بارے میں پوچھا تو وہ مسکرا دیے اور کہا کہ آپ یہاں آس پاس خود دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے ماسک پہن رکھا ہے یا کتنے لوگوں نے ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

بازار
،تصویر کا کیپشنوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کے مطابق اس مرتبہ اجتماعات کے علاوہ سب کو استثنیٰ دیا گیا تھا تاکہ کاروبار متاثر نہ ہو

پاکستان میں کورونا کی موجودہ صورتحال

گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے جسے حکومت کی جانب سے کورونا کی دوسری لہر قرار دیا جا رہا ہے اور اسی چیز کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے ہیں۔

پاکستان میں اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں اور آٹھ ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہو چکی ہیں۔

مارچ کے اواخر میں جب پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا تو پاکستانی حکومت نے ملک کے بیشتر شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کیے تھے جبکہ کئی علاقوں میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کیا گیا جس کے تحت صرف مخصوص علاقے ہی بند کیے جاتے۔

ابتدائی طور پر تو یہ لاک ڈاؤن نہایت سخت ہوتے جن میں گلیاں اور سڑکیں سیل کر دی جاتیں لیکن اب گذشتہ کچھ عرصے سے ہونے والے سمارٹ لاک ڈاؤنز میں انتظامیہ کی جانب سے وہ سختی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

اور وہ علاقے جہاں پر سمارٹ لاک ڈاؤن اس غرض سے نافذ کیا جاتا ہے کہ وہاں پر کیسز کی تعداد میں اضافے کو روکا جاسکے، وہاں پر بھی لوگوں کا عمومی رویہ کورونا کے بارے میں فکرمندی کا نہیں ہے۔

ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ رکھنے کے بارے میں مظہر علی کہتے ہیں کہ 'نو ماسک نو سروس' (بغیر ماسک کے سروس نہیں) کا ہدایت نامہ تو ہر دوسری دکان نے لگا رکھا ہے لیکن دکانیں اس پر عمل پیرا نہیں ہیں کیونکہ لوگوں کا عمومی رویہ ماسک پہننے کے خلاف ہی ہے۔

اور اس بات کا اندازہ مجھے اس مارکیٹ میں کافی دیر تک گھومتے رہ کر اچھی طرح ہو چکا تھا۔ ریستورانوں میں لوگ ایک دوسرے کے قریب ہی بیٹھ کر کھانے پینے میں مگن تھے اور ورکشاپوں وغیرہ پر بھی سماجی فاصلہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ہاں، اِکا دُکا لوگوں نے ماسک ضرور پہن رکھے تھے لیکن انھیں آپ اقلیت میں ہی شمار کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد، کورونا، لاک ڈاؤن
،تصویر کا کیپشنایک دکاندار نے مجھے بتایا کہ 'نو ماسک نو سروس' (بغیر ماسک کے سروس نہیں) کا ہدایت نامہ تو ہر دوسری دکان نے لگا رکھا ہے لیکن دکانیں اس پر عمل پیرا نہیں ہیں

'سمارٹ لاک ڈاؤن کوئی کرفیو نہیں'

اس حوالے سے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے کہا کہ جہاں بھی کورونا وائرس زیادہ پھیل رہا ہو وہاں روزانہ کی بنیادوں پر مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کیے جاتے ہیں جن میں گھر، گلیاں، کاروبار، بینک اور ہوٹل یا ریستوران وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن یہ لاک ڈاؤن کتنا سخت ہوتا ہے؟ اس حوالے سے حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن میں پہلے تو علاقہ مکمل طور پر بند کیا جاتا تھا مگر اس مرتبہ جو لاک ڈاؤن لگایا وہ کافی نرم تھا کیونکہ اس مرتبہ اجتماعات کے علاوہ سب کو استثنیٰ دیا گیا تھا تاکہ کاروبار متاثر نہ ہو۔

حمزہ شفقات کہتے ہیں کہ اس میں لوگوں کو عام طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ آپ مراکز، مساجد یا حجام کے پاس دس سے 12 دن کے لیے نہ جائیں تاکہ جن جن کو کورونا ہے ان میں یا علامات ظاہر ہوجائیں یا اُن میں ختم ہو جائے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا تھا کہ یہ لاک ڈاؤن کرفیو نہیں ہوتا اور اگر کسی کو مجبوری ہو تو اسے بالکل باہر جانے دیا جاتا ہے۔

سمارٹ لاک ڈاؤن کیسے لگایا جاتا ہے؟

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد کے ضلعی ہیلتھ افسر زعیم ضیا نے بتایا کہ کسی بھی علاقے میں سمارٹ لاک ڈاؤن اس علاقے میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح دیکھتے ہوئے لگایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب کسی علاقے میں کیسز کی تعداد مستحکم ہو اور مسلسل وہاں سے کیسز سامنے آ رہے ہوں تو وہ اسے مانیٹر کرتے ہیں۔ 'اگر وہاں کیسز بڑھ رہے ہوں اور دوسرے جگہوں پر نہ بڑھ رہے ہوں تو یہ علاقے لاک ڈاؤن کیے جاتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ چند دن قبل 11 فیصد تک مثبت کیسز کی شرح اب کم ہو کر پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہتی ہے۔

اسلام آباد، کورونا، لاک ڈاؤن

انھوں نے کہا کہ اس لاک ڈاؤن میں فون کالز کے ذریعے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ کس طرح خود کو قرنطینہ کرنا ہے جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی گھر گھر جا کر لوگوں کو آگاہ کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب تک ساڑھے چار لاکھ گھروں کا لیڈی ہیلتھ ورکرز دورہ کر چکی ہیں جبکہ 70 ہزار گھروں سے نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں اور کیا ان پر عمل بھی ہو رہا ہے؟

ضلعی ہیلتھ افسر سے سوال کیا گیا کہ احتیاطی تدابیر کیا ہیں جو کورونا سے نمٹنے میں مدد کر سکتی ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بہت ضروری ہے کہ ماسک پہنے جائیں، دستانے ہوں تو اور بھی اچھا ہے، سینیٹائزر کا استعمال کریں اور بند جگہوں پر اضافی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والی جگہیں سیل کی گئی ہیں اور لوگوں پر جُرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں مگر انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کورونا کو روکنے کے لیے حتمی حل نہیں، بلکہ لوگوں کو بھی اس حوالے سے کردار ادا کرنا ہوگا۔

اور اُن کی اسی بات سے مجھے ٹائر شاپ میں بیٹھے مظہر علی یاد آ گئے جن کا کہنا تھا کہ 'لوگ ہمیں ماسک پہنے دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں کہ یار تم لوگوں کو کیا زیادہ کورونا ہو رہا ہے؟'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *