کورونا وائرس: پاکستان میں وبا کی ’دوسری لہر‘، نئے مریضوں کی شرح تین فیصد سے تجاوز کر گئی

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق 70 دن بعد ملک میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں میں اضافے کی شرح اب تین فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہلاکتوں میں بتدریج اضافے کے بعد حکام کی جانب سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے۔

نئے مریضوں میں تین فیصد کی شرح کا مطلب یہ ہے کہ ہر 100 مشتبہ کیسز میں سے تین کیسز مثبت آ رہے ہیں۔

ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر ملک میں اس عالمی وبا سے نمٹنے والے قومی ادارے این سی او سی نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے ایسے شہر جہاں کیسز مثبت آنے کی شرح دو فیصد سے زیادہ ہے وہاں عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ این سی او سی نے زیادہ خطرے والی عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کر دی ہیں تاہم، بیماری کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو صرف اسی صورت میں قابو کیا جا سکتا ہے جب لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

گذشتہ روز این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ پابندیوں کا اطلاق ایسے علاقوں پر ہو گا جہاں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور وہاں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے تحت تمام کاروباری سرگرمیاں جن میں ریستوران، مارکیٹ، شاپنگ مال، شادی ہال وغیرہ رات دس بجے اور تفریحی مقامی شام چھ بجے بند کیے جائیں گے۔

تاہم ہسپتال، کلینک اور میڈیکل سٹورز پر ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہو گا۔

جن شہروں میں نئی پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں ان میں کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور،اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، مظفرآباد، میرپور، پشاور اور کوئٹہ شامل ہیں۔

ادھر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے یعنی پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اکھٹے ہونے پر پابندی اور اس کے تحت عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والوں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کورونا

حکومت پنجاب کاتمام تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری

دوسری جانب کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی بڑھتی تعداد اور دوسری لہر کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت پنجاب نے تمام تجارتی سرگرمیاں اور ادارے رات 10بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق:

  • تمام میڈیکل سروسز،فارمیسیز، میڈیکل سٹورز، ٹائر پنکچر شاپس، پھلوں اور سبزیوں کی دوکانیں، تندور، آٹا چکیاں، پوسٹل /کورئیرسروسز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے
  • ڈرائیور ہوٹل، پیٹرول پمپس، آئل ڈپو، ایل پی جی شاپس اور فلنگ پلانٹس، زرعی آلات ورکشاپس، سپئرپارٹس شاپس،پرنٹنگ پریس بھی مسلسل کام جاری رکھ سکیں گے۔
  • کال سنٹرز (50 فیصد عملے کے ساتھ) اور ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے یا ہوم ڈیلیوری سروسز 24گھنٹے کام کر سکیں گے
  • تفریحی اور پبلک پارکس صبح 7 بجے سے شام 6بجے تک کھلے رہیں گے
  • تمام صنعتی سرگرمیاں اور ادارے اس نوٹیفیکیشن سے مستشنٰی اپنا کام پہلے کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق جاری رکھ سکیں گے
  • اس نوٹیفیکیشن کا اطلاق فوری طور پر لاہور، ملتان اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے علاقائی حدود پر ہوگا
کووڈ

پاکستان میں اب تک کی صورتحال

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 908 افراد میں وائرس کی تشکیل ہوئی ہے جبکہ 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 824 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

ملک میں اب تک کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 331,108 ہو چکی ہے جن میں فعال متاثرین کی تعداد 11,695 ہے۔

کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 6,775 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 312,638 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے رواں ہفتے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی بظاہر دوسری لہر شروع ہو چکی ہے۔ روزانہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور جن اضلاع میں کیسز زیادہ ہیں وہاں کچھ پابندیوں کے لیے غور کیا جا رہا ہے اور کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کار میں کمی بھی زیر غور ہے۔

این سی او سی میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، یہ چیز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس کے اعدادو شمار میں بتدریج واضح اضافہ ہو رہا ہے۔ چار سے پانچ ہفتے قبل روزانہ کی بنیاد پر 400-500 کیسز ہوتے تھے جبکہ اس وقت ان کی تعداد روزانہ سات سو سے اوپر آ چکی ہے اور کورونا کے ذریعے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی ہفتوں میں ہر سو ٹیسٹ میں سے دو فیصد تک ٹیسٹ پازیٹو آنے کی شرح نوٹ کی گئی لیکن اب اس میں اضافہ ہوا ہے اور یہ شرح اب تین فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر فیصل سلطان

ان کا کہنا تھا کہ ’بطور قوم ہمیں جس طرح کی احتیاط کرنی چاہیے تھی ہم اس طرح سے نہیں کررہے جیسے کہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔‘

معاون خصوصی نے کہا کہ اب ہمیں کچھ پابندیوں کو سخت کرنا ناگزیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ہم مقامی لیول سے اس کو پلان کریں گے۔ ان شہروں یا اضلاع میں جہاں اس بیماری کی شرح زیادہ ہے وہاں اس چیز پر فوکس زیادہ ہو گا۔ جن پابندیوں کے بارے ہم سوچ رہے ہیں و ہ اس طرح سے ٹارگٹ کی جائیں تاکہ جہاں بیماری کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے ادھر ہم زیادہ فوکس کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات زیر غور ہیں۔ ابتدائی طور پر ہم مقامی انتظامیہ سے درخواست کریں گے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی اور ہجوم والی جگہوں پر ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ چاہے وہ دکانیں، ٹرانسپورٹیشن، شادی و دیگر تقریبات ہوں، وہاں اضافی سختی کی جائے جس میں جرمانے و دیگر اقدامات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا فوکس اعدادو شمار کی بنیاد پر ہو گا۔ ممکن ہے کمرشل سرگرمیوں کے اوقات کارمیں کچھ کمی لائی جائے۔ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور یہ ایک بتدریج پراسس ہوگا اور اسے مرحلہ وار دیکھا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے این سی او سی اور صوبوں کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کی جارہی ہے۔ ایک دو دن میں اس حوالے سے واضح ہدایات ، گائیڈ لائنز سامنے آجائیں گی۔ ایک ہاٹ لائن قائم کی جارہی ہے جہاں ایس اوپیز کو فالو نہ کرنے والوں کو رپورٹ کیا جا سکے گا تاکہ اس پر ایکشن لیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی پابندی مشکل ہوتی ہے اور کوئی حکومت ایسا نہیں کرنا چاہتی ،لیکن اب یہ ایک ایسا موقع آگیا ہے کہ ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس بارے صوبوں سے مزید مشاورت کرکے اس کی مزید تفصیلات کل بتائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم احتیاط کو اپنا لیں گے تو ہم اس لہر پر قابو پر پاکر اس چیلنج سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *