کورونا وائرس: کیا کم تعداد میں ٹیسٹ کرنا پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ہفتے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں تشخیص کرنے کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ وہ پہلے ان افراد کا ٹیسٹ کریں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے جس میں چار طرح کے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کے ٹیسٹ کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

ان میں استھما سے متاثر وہ افراد جو کورونا وائرس والے افراد سے ملے ہوں، وہ مریض جن کو سانس کی بیماری ہو، استھما اور ذیابطیس کے مریض جن کی طبیعت بگڑ رہی ہو اور وہ افراد جو ہسپتال میں شدید بیماری کی وجہ سے داخل ہوں، شامل ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ ملک بھر میں 14 لیبز ہیں جہاں وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ فراہم کیے گئے ہیں اور وہ مفت ہوں گے۔

لیکن دوسری جانب پاکستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹس کی تعداد پر بہت سے لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا ٹیسٹس میں کمی کے باعث پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں صیحح اعداد و شمار کا علم ہو سکے گا یا نہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے کئی طریقوں سے کام کیا جاتا ہے جن میں سے ایک ماڈل ہے کہ بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں۔

ڈاکٹر جاوید نے جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ماڈل کوریا کا ہے جہاں اموات کی شرح دو فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'پاکستان کو بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔'

کوریا
ڈاکٹر جاوید نے جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بہترین ماڈل کوریا کا ہے

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ ’اس وقت ہم جس ٹیسٹنگ پر انحصار کر رہے ہیں وہ آر ٹی پی سی آر ہے اور سب سے معتبر ٹیسٹ بھی یہی ہے۔ لیکن بہت سارے اور ٹیسٹ بھی سامنے آ رہے ہیں جو استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہم نے ان کی جانچ شروع کر دی ہے لیکن مریضوں پر استعمال نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ابھی ان کی توثیق نہیں ہوئی ہے۔ '

ان کا کہنا تھا کہ کہ فی الوقت تو آر ٹی پی سی آر ہی کرنا پڑے گا اور جتنی زیادہ ٹیسٹنگ کریں گے اتنا ہی زیادہ طویل مدت کے لیے بہتر ہوگا۔

زیادہ ٹیسٹنگ کے فوائد کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اس صورت میں لاک ڈاؤٴن کے بجائے صرف ان افراد کو تنہا کرنا ہوگا جنہیں تنہائی کی ضرورت ہے اور یہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں وہ ایک زیادہ مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

'حکومت میں پالیسی بنانے والے تو ہوتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور وائیرالوجسٹ جیسے لوگ شامل نہیں ہوتے۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ یقینی بنائے کہ اس لڑائی میں وہ ان ماہرین کو شامل کرے، چین کے ماہرین کو بھی جن کے پاس پہلے سے تجربہ موجود ہے۔ جنوبی کوریا کے ماہرین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ حکومت کے پاس ایسے سفارتی اختیارات ہیں کہ وہ اسے ممکن بنا سکے۔'

وائرس
آر ٹی پی سی آر مشین جس کی مدد سے وائرس کی تشخیص کی جاتی ہے

ڈاکٹر اکرم نے دوبارہ جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ پر زور دیا اور بجائے ہسپتال بنانے یا وینٹیلیٹرز خریدنے کے انھوں نے ٹیسٹنگ پر توجہ دی۔

اسی حوالے سے جب قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے فوکل پرسن ڈاکٹر ممتاز سے سوال کیا تو انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں تمام افراد کے ٹیسٹ تو نہیں کیے جا سکتے لیکن اگر ڈاکٹرز کو لگتا ہے کہ کسی مریض کا ٹیسٹ ہونا چاہیے تو ہم کروا لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ابھی تک صرف اُن لوگوں کے ٹیسٹ پر زور دیا جا رہا تھا جو کسی بیرون ملک کا سفر کر کے آئے ہیں یا کسی متاثرہ شخص کے رابطے رہے ہیں۔

اب یہ طے ہوا ہے کہ اگر کسی شخص میں غیر معمولی علامات سامنے آتی ہیں جیسے کہ کھانسی، بخار یا سانس لینے میں دشواری، اور یہ تکالیف بڑھ رہی ہوں تو ڈاکٹر اس شخص کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

کوریا

بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ ہونا مستقبل کے لیے کتنا بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، اس سوال پر ڈاکٹر ممتاز نے کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگوں میں اتنی آگہی پیدا ہو چکی ہے کہ غیر معمولی علامات کی صورت میں وہ خود ہی ڈاکٹروں سے رابطہ کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر ممتاز نے کہا کہ ان افراد کو گھر پر رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور ان کے لیے ایمرجنسی نئمبر بھی دیے گئے ہیں تاکہ وہ ہسپتالوں سے رابطہ کر سکیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ نہ کیے جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے اپنے بہت سے مسائل ہوتے ہیں اسلیے حکومت نےاب تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم کمیونٹی لاک ڈاؤن پہلے ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: