کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز: اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سکول دو ہفتے کے لیے پھر بند مگر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

’مٹھائی بانٹ دیجیئے، خوشی کا ماحول ہے‘

’چاند پر ہے اپن‘

’ہمیں بھی چھٹیاں دے دو پلیز‘

’یہ میں آسمان کی اونچائیوں میں۔۔۔‘

بدھ کے روز یہ جملے پاکستان کے سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کا نام بھی ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے چند شہروں کے تعلیمی اداروں میں دو ہفتوں کے لیے موسمِ بہار کی قبل از وقت چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا صارفین نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹس کا ڈھیر لگا دیا جن میں سے زیادہ تر تو شفقت محمود کے گن گاتے نظر آئے تاہم کچھ لوگ وفاقی وزیر سے خفا بھی نظر آئے۔

ایک صارف نے شفقت محمود کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’تم جو آئے زندگی میں بات بن گئی‘ اور ایک صارف نے تو جذبات میں آ کر یہاں تک لکھ دیا کہ ’کاش شفقت محمود آپ میرے والد ہوتے۔‘

عمر نامی ایک صارف نے شفقت محمود کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارے من میں آپ کے لیے عزت اور بڑھ گئی ہے۔‘

رانا زین نامی صارف نے شفقت محمود کی تصویر شیئر کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں لکھا: ’تمام عمر تم کو زندگی کا پیار ملے، خدا کرے یہ خوشی بار بار ملے۔‘

عمائمہ نامی ایک صارف نے تو شفقت محمود کے جنتی ہونے کی پیشگوئی بھی کر ڈالی۔ احمد سعید نامی صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا: ’عنقریب مائیں ڈنڈا لے کر شفقت محمود صاحب پر حملہ آور ہوں گی۔‘

دانش نامی صارف نے لکھا: ’میرے بہت سے دوست ہیں لیکن شفقت محمود میرے بہترین دوست ہیں۔‘

ٹویٹ

چونکہ ان چھٹیوں کا اعلان صرف اسلام آباد سمیت پنجاب کے چند شہروں کے لیے کیا گیا ہے تو سندھ اور بلوچستان کے طلبا اس فیصلے سے ناراض بھی دکھائی دیے۔

ایک صارف نے لکھا: ’کیا کروں میں مر جاؤں؟ کیا میرے کوئی جذبات نہیں۔‘ سعد خان عباسی نے لکھا کہ رحیم یار خان میں کورونا کیسز سب سے زیادہ ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے شفقت محمود کی تصویر بھی شیئر کی جس پر شکوے بھرے انداز میں لکھا تھا: ’وقت برا تھا تم تو اچھے رہتے۔‘

ٹویٹ

ابراہیم نامی صارف جو کسی یونیورسٹی کے طالب علم معلوم ہوتے ہیں، نے لکھا: ’شفقت جانی ہمیشہ کی طرح دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اب یونیورسٹی میں بھی چھٹی دے دیں پلیز اور وائیوا کینسل کرائیں۔‘

لیکن اس ساری چھیڑ چھاڑ اور مزاحیہ تبصروں میں بہت سے سنجیدہ کمنٹس بھی نظر آئے جن میں صارفین نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ اینکر مریم اسماعیل نے لکھا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں۔

انھوں نے مزید لکھا: ’سکولوں کا مزید بند ہونا مددگار ثابت نہیں ہو گا۔ عوام باہر گھوم پھر رہے ہیں اور مزہ کر رہے ہیں تو صرف تعلیم کی راہ میں ہی رکاوٹ کیوں۔‘

ٹو

لیلیٰ خان نے لکھا: ’ چھٹیوں سے انکار کریں، ہم سکول جانا چاہتے ہیں۔‘

افی اعوان نے لکھا کہ ’حکومت کو یہ فیصلہ کیوں لینا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم حفاظتی اقدامات پر کی پیروی نہیں کر رہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’سکول بند ہونا کوئی اچھی بات نہیں یہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہے۔‘

ٹویٹ

پریس کانفرنس میں کیا کہا گیا؟

شفقت محمود اور وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ان چھٹیوں کا اطلاق پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، راولپنڈی، سیالکوٹ اور ملتان میں بھی ہو گا۔

وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ یہ فیصلہ این سی او سی کی تجویز پر لیا گیا ہے اور یہ چھٹیاں 15 مارچ سے 28 مارچ تک ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دو صوبوں، سندھ اور بلوچستان میں صورتحال قدرے بہتر ہے، اس لیے وہاں پر یہ اقدام نہیں لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس فیصلے کا اطلاق صرف پشاور میں ہو گا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے یہ توقع ہے کہ وہ مظفرآباد کے لیے بھی یہی فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ پنجاب میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 1006 نئے کیسز کے بعد صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 179,654 ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 1786 کیسز سامنے آئے اور 43 اموات ہوئیں۔

کیسز کی یہ سطح ملک میں جنوری کے آخری ہفتے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

سکولوں کے علاوہ این سی او سی نے کیا فیصلہ کیے ہیں؟

این سی او سی کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر متعدد فیصلے کیے گئے ہیں، جن میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں:

  • ملک میں کورونا وائرس کے کلسٹرز یا ہاٹ سپاٹس کی بنیاد پر مخصوص علاقوں کے لاک ڈاؤن یا مائیکر لاک ڈاؤن کی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔
  • عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔
  • حکومتی ادارے اپنی اپنی صورتحال کے مطابق نصف عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دیں۔ اسلام آباد میں تمام اداروں کو نصف عملے کو گھروں سے کام کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے۔
  • تمام تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے بند کر دی جائیں اور ملک بھر میں تفریحی مقامات شام چھ بجے سے بند رہیں گے۔
  • 15 مارچ سے عمارتوں کے اندر شادیوں، ریستوران کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے، سینما گھروں اور زیارتوں کو کھولنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔
error: