کورونا ویکسین ٹرائل: ’رضاکاروں کے لیے مانع حمل کی شرط کا مقصد خواتین کی صحت کا تحفظ ہے‘

اگر آپ کورونا وائرس سے بچاؤ کی تحقیقاتی ویکسین لینا چاہتے ہیں تو ’آپ کو جنسی تعلقات قائم کرنے سے مکمل پرہیز کرنا ہو گا‘ یا پھر آپ کو ویکسین تو لگائی جا سکتی ہے مگر ’آپ کو ویکسین لگنے کے بعد کم از کم نوے دن تک مانع حمل طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔‘

دیگر قواعد و ضوابط پر پابندی کے ساتھ ساتھ ان شرائط پر عمل کرنا اُن افراد کے لیے ضروری ہے جو اِن دنوں پاکستان میں جاری کورونا وائرس کی تحقیقاتی ویکسین کے ٹرائل کا رضاکارانہ طور پر حصہ بن رہے ہیں یا بننا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں تحقیقاتی ویکسین کے اس نوعیت کے ٹرائل پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں تاہم حکام کے مطابق ان کی توقعات کے برعکس زیادہ بڑی تعداد میں لوگ اس ٹرائل کا حصہ بننے کے لیے سامنے نہیں آ رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ لوگوں میں ’جنسی تعلق قائم نہ کرنے‘ سے متعلقہ شرائط کے حوالے سے پائے جانے والے ’شکوک و شبہات‘ ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈاکٹر بدر الدین قریباً ایک ماہ قبل اس ٹرائل کا حصہ بنے تھے۔ یہ ٹرائل کینیڈا اور چین کی مشترکہ کمپنی ’کین سائنو بائیو‘ پاکستان کے بڑے شہروں میں کر رہی ہے۔

ڈاکٹر بدرالدین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ چند افراد جب رضاکارانہ طور پر اس ٹرائل کا حصہ بننے کے لیے آتے ہیں اور انھیں جنسی تعلق قائم نہ کرنے کے حوالے سے شرائط کا علم ہوتا ہے تو وہ واپس چلے جاتے ہیں۔

’میرے بھی ایک دوست گئے تھے مگر انھیں ان شرائط کا بتایا گیا تو انھوں نے ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کی ایک، دو ہفتے بعد شادی ہونا تھی۔‘

کورونا

بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق اسلام آباد اور لاہور میں قائم مراکز پر ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں لوگ ٹرائل کا حصہ بننے کی نیت سے آئے تو ضرور مگر شرائط سننے کے بعد وہ ٹرائلز کا حصہ بنے بغیر واپس چلے گئے۔

تاہم طبی ماہرین کے مطابق ان شرائط کے حوالے سے لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ جنسی تعلقات کی ممانعت یا مانع حمل طریقہ کار کو اپنانے کی شرائط کا بنیادی مقصد خواتین کو ویکسین کے ممکنہ مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ’یہ تحقیقاتی ویکسین ان خواتین کو نہیں لگائی جا سکتی جو حاملہ ہوں یا ہونے کا اراداہ رکھتی ہوں۔‘

ویکسین لگنے سے پہلے رضاکار شخص کی تحریری رضامندی لی جاتی ہے جس سے قبل اسے تمام تر قواعد و ضوابط اور شرائط کے حوالے سے ناصرف آگاہ کیا جاتا ہے بلکہ ان کے متعلق مکمل آگاہی بھی دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ رضامند ہوں تو ہی انھیں ویکسین لگائی جاتی ہے۔

ویکسین لگوانے کے لیے ضروری ہے کہ رضاکار کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو۔ اسی طرح ویکسین لگوانے کے بعد 90 روز تک رضاکار خون عطیہ بھی نہیں کر سکتا۔

کورونا

جنسی تعلق سے پرہیز مانع حمل کا ایک طریقہ ہے

ڈاکٹر بدرالدین ہسپتال کی ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کی پہلی لہر میں ایک موقع پر انھیں بغیر حفاظتی لباس پہنے کورونا کے ایک مریض کو دیکھنا پڑا تھا۔ اس وقت وہ بچ گئے تھے۔ اس کے بعد بھی وہ مسلسل کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے رہے ہیں۔

وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ، بہن بھائی اور قریبی افراد کو خطرہ لاحق رہے۔ اس لیے انھوں نے ٹرائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویکسین لگوانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے سامنے بھی شرائط وہی تھیں اور ڈاکٹر بدرالدین ان کی منطق کو سمجھتے ہیں۔

وہ اس شرط سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ ویکیسین لگنے کے تین ماہ بعد تک مانع حمل لازم ہے۔ اس کے لیے کئی طریقوں میں ’جنسی تعلق سے پرہیز مانع حمل کا ایک طریقہ ہے۔‘ مگر یہی واحد طریقہ نہیں ہے۔

کیا ویکسین کے ساتھ جنسی تعلق بھی قائم رکھا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر بدرالدین کے مطابق اگر رضاکار جنسی تعلق سے پرہیز کا طریقہ نہ اپنانا چاہیں تو بھی وہ ان ٹرائلز کا حصہ بن سکتے ہیں مگر اس صورت میں دیگر احتیاطی تدابیر اپنا ہوں گی۔

جیسا کہ خواتین مانع حمل کی گولیوں، انجیکشن، امپلانٹ، پیچز یا اسٹرجن رنگ کا استعمال کر سکتی ہیں جبکہ مرد کنڈوم کا استعمال کر کے جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بدرالدین کے مطابق ’مقصد یہ ہے کہ تین ماہ تک مانع حمل کو یقینی بنایا جائے گا۔‘

اس طرح رضاکار جنسی تعلق قائم رکھتے ہوئے بھی ویکسین ٹرائل کا حصہ بننے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

کورونا

مانع حمل لازم کیوں ہے؟

ویکسین ٹرائل کا حصہ بننے والے ہر مرد اور عورت کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم تین ماہ تک مانع حمل کو یقینی بنائے گا۔ تاہم ڈاکٹر بدرالدین کے مطابق اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس ویکسین کے لگانے سے مرد یا عورت کی جنسی صحت پر کوئی بُرا اثر پڑتا ہے۔

’کیونکہ یہ ویکسین ابھی تحقیقات کے مرحلے سے گزر رہی ہے اس لیے یہ نہیں معلوم کہ حاملہ یا ماں بننے کی خواہش مند خواتین پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے یہ تحقیقاتی ویکسین ایسی خواتین کو نہیں دی جا سکتی جو حاملہ ہوں یا مستقبل قریب میں ایسا کرنے کا ادارہ رکھتی ہوں۔‘

ڈاکٹر بدرالدین کے مطابق اس کا واحد مقصد خواتین کو اس کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مانع حمل کی تلقین کی گئی ہے تا کہ یہ ویکسین ایسی خواتین تک نہ پہنچنے پائے۔

مرد خواتین کی صحت کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر بدرالدین کہتے ہیں ویکسین لینے والا شخص کسی دوسرے کو خون نہیں دے پائے گا۔

’یہ ویکسین کیونکہ خون میں شامل ہوتی ہے تو خون دینے سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خون کا عطیہ حاصل کرنے والا شخص مانع حمل کے طریقہ کار نہ اپنا رہا ہو اور ناجانتے ہوئے یہ ویکسین کسی حاملہ خاتون یا ماں بننے کی خواہش مند خاتون کے جسم تک پہنچ جائے۔‘

اسی طرح مانع حمل کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے سے بھی یہ خطرہ موجود ہو گا کہ یہ تحقیقاتی ویکسین ایسی کسی خاتون میں منتقل ہو جائے۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ احتیاط صرف حاملہ خواتین کے لیے ہے جو کسی بھی دوا کی تحقیقات کے دوران اپنائی جاتی ہے۔

کورونا

ویکسین کتنی محفوظ ہے؟

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق حالیہ ٹرائل تیسرے اور حتمی سطح کے ٹرائل ہیں جس کے بعد ویکسین صرف مارکیٹ میں لائے جانے کا کام باقی رہ جائے گا۔

’اس کا محفوظ ہونا پہلے ہی دو سے تین ٹرائل کے دوران ثابت ہو چکا ہے۔ حالیہ ٹرائلز سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایا جانا ہے یعنی یہ کورونا وائرس کے خلاف کتنی مؤثر ہے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ تاحال سات ہزار سے زائد جن افراد کو ٹرائلز کے دوران یہ ویکسین دی گئی ہے ان میں پانچ سے سات فیصد میں پہلے روز معمولی بخار کی علامات ظاہر ہوئیں، اس کے کوئی منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔

ویکسین ٹرائل سے پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان پہلی مرتبہ کسی ویکسین کے ٹرائل کا حصہ بنا ہے۔ تاہم یہ تحقیق اور اس ویکسین کی تیاری بیرونی ممالک کی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ تو ٹرائل کا حصہ بننے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

ڈاکٹر بدرالدین سمجھتے ہیں کہ اس کا ایک براہِ راست فائدہ ان افراد کو اٹھانا چاہیے جو زیادہ رسک کا سامنا کر رہے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اور نرسیں۔ ’اگر اس ویکسین سے ہمارے اندر وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت بن جاتی ہے تو پھر ہمیں بیماری نہیں لگ سکتی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ویکسین لگنے کے چار سے چھ ہفتے بعد اینٹی باڈی ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے جس سے یہ علم ہو سکتا ہے کہ آپ کے جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنے ہیں یا نہیں۔ ان کے چند دوستوں نے اینٹی باڈی ٹیسٹ کروایا اور ان میں اینٹی باڈیز موجود تھے۔

مقامی آبادی ہر ویکسین کے اثرات کا پتہ چلے گا

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وی سی ڈاکٹر جاوید اکرم کا استدلال ہے کہ یہ ٹرائلز پاکستان کے لیے دوہری اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ٹرائلز کا حصہ بن کے پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسی کسی عالمی کاوش کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’ہر دوا یا ویکسین مختلف علاقوں کے باسیوں پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ مختلف آبادیوں میں اس کے مخلتف قسم کے ردِ عمل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ ویکسین ہماری مقامی آبادی اور اس کے مخلتف گروہوں پر آزمائی جائے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق اس آزمائش سے گزرے گی تو ہی یہ ویکسین کامیابی سے مقامی آبادی میں دی جا سکے گی اور آگے چلے گی۔

کیا یہ ویکسین پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر ملے گی؟

ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق یہ ایک سیاسی اور معاشی فیصلہ ہو گا۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تحقیق کار جو ویکسین کے ٹرائل کر رہے ہیں وہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

حال ہی میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنی ویکسین کو 65 سے 95 فیصد تک مؤثر قرار دیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق آکسفورڈ نے اپنی تحقیق ایسٹرا زینکا نامی ادویات بنانے والی کمپنی کو بیچ رکھی ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ویکسین کے دستیابی کی ذمہ دار یہ کمپنی انڈیا میں موجود ہے۔ ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق ’جب ہم نے ان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ہم سب سے پہلے اپنے ایک ارب انڈین لوگوں کو یہ ویکسین دیں گے، اس کے بعد دیکھیں گے کہ ہم اسے برآمد کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘

اس لیے ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی پاکستانیوں کے لیے دستیابی ایک سیاسی فیصلہ ہو گا جو حکومتی سطح پر طے کیا جائے گا اور اس میں معاشی ترجیحات بھی مدِنظر رکھنا ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *