کورونا ویکسین کی فراہمی: حکومتی کوششیں صرف 20 فیصد آبادی کا احاطہ کریں گی

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت ملک کی 22 کروڑ آبادی کے تحفظ کے بارے میں کم ہی پریشان نظر آتی ہے کیونکہ اس نے ایک چینی کمپنی سے صرف 11 لاکھ کورونا وائرس ویکسین کی خوراک لینے کا انتظام کیا ہے اور یہ بھی فرنٹ لائن ورکرز اور کمزور افراد کے لیے کیا گیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ہر انسان کو کورونا وائرس کے خلاف استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے دو خوراکوں کی ضرورت ہوگی تاہم یہ استثنیٰ کتنی مدت تک ہو گا یہ ابھی تک دنیا کو معلوم نہیں۔

اگرچہ بہت سارے ممالک اپنی آبادی کو وائرس سے بچانے کے لیے کورونا وائرس ویکسین کی خوراک حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے کوویکس میکانزم کا منتظر ہے کہ جس کے تحت وہ تقریباً ساڑھے 4 کروڑ مفت ویکسین کی خوراکیں وصول کرے گی جو ملک کی 20 فیصد آبادی کا احاطہ کرے گی۔تحریر جاری ہے‎

پاکستان 189 ممالک کے فورم کا رکن ہے جس کے لیے ڈبلیو ایچ او اور جی اے وی آئی کوویکس مینجمنٹ سسٹم بلا معاوضہ ویکسین کی مساوی تقسیم کا ارادہ رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر کولمبیا نے اپنی 5 کروڑ آبادی کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ خوراکیں لینے کے لیے جانسن اینڈ جانسن، فائزر اور آسٹرا زینیکا کے ساتھ پہلے ہی معاہدے کیے ہیں، اس کوویکس مینجمنٹ کے تحت ایک کروڑ خوراکیں زائد ملیں گی جس کی بدولت وہ اپنی اپنی 80 فیصد آبادی کا احاطہ کر سکیں گے۔

اسی طرح بنگلہ دیش نے ہندوستانی ساختہ آسٹرا زینیکا کی 3 کروڑ خوراک لینے کے لیے سودے طے کرلیے ہیں، ترکی نے 30 لاکھ خوراکیں خریدی ہیں اور فروری کے آخر تک مزید 5 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔

ملائیشیا نے اپنی 40 فیصد آبادی کو پورا کرنے کے لیے ایک کروڑ 28 لاکھ فائزر اور 64 لاکھ آسٹرا زینیکا خوراکیں خریدی ہیں اور وہ ساتھ اپنی پوری آبادی کا احاطہ کرنے کے لیے چین کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے، انڈونیشیا نے 30 لاکھ خوراکیں خریدیں اور گھر میں ساڑھے چار کروڑ خوراکیں تیار کرنے کے لیے خام مال کی دستیابی یقینی بنائی ہے۔

ہندوستان نے مارچ تک ہر ماہ 10 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کے لیے کورونا وائرس ویکسین کی تحقیق اور نشوونما میں سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے بعد پہلے ہی تیار کردہ 5 کروڑ خوراکوں کے علاوہ ہر ماہ 30 کروڑ خوراکیں تیار کی جاتی ہیں۔

ایسے وقت میں جب ماہرین صحت پہلے ہی کورونا وائرس کے وبائی مرض کو 'وبائی تیسری عالمی جنگ' قرار دے رہے ہیں، حکومت پاکستان نے بظاہر خود کو اس اہم ذمے داری سے بری کردیا ہے اور نجی شعبے کے کھلاڑیوں کو دنیا سے کہیں سے بھی ویکسین لینے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر پی) سے رجسٹر کرانے کے بعد ان لوگوں کو فروخت کریں جو اس کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا دعویٰ ہے کہ دوسرے ممالک کی طرح جس آبادی کا احاطہ کرنا ضروری ہے، اس کا ضرور احاطہ کیا جائے گا۔

صرف 11 لاکھ ویکسین کی خوراک کی خریداری کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلطان نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے بتدریج ویکسین لینے کا فیصلہ کیا ہے، عالمی سطح پر سپلائی لائنز اور متعلقہ ویکسین کی افادیت واضح نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ پاکستان میں تقریباً 10 کروڑ کی آبادی بالغ افراد پر مشتمل ہے جسے ہدف بنایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک صرف کینیڈا میں مقیم چینی کمپنی کینسینو بائیو کے تیار کردہ کووڈ-19 ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کو مکمل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر افادیت کے نتائج حاصل کرنے کے بعد حکومت ویکسین کی کافی مقدار کے حصول کا حکم دے گی، انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر حکومت نے 15 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے تھے جو ویکسین کی افادیت اور دستیابی کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے آنے کے بعد دوگنی اور اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ سینوفارم ویکسین رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے شروع تک ملک میں پہنچنا شروع ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ جب تک پوری اہل آبادی کو قطرے نہیں پلائے جائیں گے تب تک یہ ویکسین لگائی جائیں گی۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ کوویکس مینجمنٹ سسٹم کے تحت یہ ویکسین بھی اس مہینے کے آخر یا اگلے مہینے کے شروع تک یہاں پہنچ جائے گی۔

نجی شعبے کو ویکسین لینے کی اجازت دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ایس اے پی ایم نے کہا کہ حکومت نے نہ تو نجی شعبے سے کہا ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنے سے روکا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نجی شعبے پر کوئی انحصار نہیں کررہے کیونکہ صرف تین سے چار فیصد آبادی ہی نجی شعبے تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمت کے بارے میں پاکستان کی حکومت نے چینی کمپنی کے ساتھ عہد کیا ہے کہ ویکسین کی قیمت کا انکشاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ چین پاکستان کو اس سے کہیں کم شرح پر پیش کررہا ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت خدمات ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو توقع ہے کہ ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے مزید راہیں کھل جائیں گی اور مارچ کے آخر تک ویکسین کی افادیت کے بارے میں تھوڑی معلومات بھی مل جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قابل اعتماد ویکسین تیار کرنے میں چھ سے آٹھ سال لگتے ہیں اور فی الحال دستیاب ویکسینیں صرف چھ سے آٹھ مہینوں میں تیار کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں تیار کی جانے والی کسی بھی ویکسین کی افادیت پر کم سے کم ایک سال تک نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ یقین کے ساتھ کچھ بھی کہا جاسکے۔

ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے دیگر کئی بین الاقوامی کمپنیوں سے بھی مزید ویکسین کے حصول کے لیے رابطہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس حفاظتی ٹیکے لگانے کا ایک مؤثر پروگرام کولڈ چین ہے اور مطلوبہ درجہ حرارت ہر ویکسین کی شیشی کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

کووڈ-19 پر سائنسی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ حکومت کو کم از کم 75 فیصد آبادی کو قطرے پلانے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: