کورونا کیسز میں بہتری نہیں آئی تو باقی شہروں میں بھی لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا ہے، ڈاکٹر فیصل

وزیر اعظم کے معاؤن خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے کیسز میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایس او پیز پر عملدرآمد میں بہتری نہیں آئی تو باقی کچھ شہروں میں لاک ڈاؤن لگایا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ این سی او سی کے تحت تمام شہروں کا ڈیٹا موصول ہوتا ہے جس میں ایس او پیز پر عملدرآمد سے متعلق معلومات بھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'وصول ہونے والے اعداد و شمار سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ متعلقہ شہر یا علاقے میں ہیلتھ کیئر سینٹر پر کتنا دباؤ ہے'۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے زور دیا کہ این سی او سی کے فیصلوں اور ان کے طریقہ کار پر بھروسہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرمعمولی تعداد میں ڈیٹا موجود ہونے اور اس کے تجزیے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یومیہ بنیاد پر طبی مراکز کی استعددکار بتدریج بڑھاتے جارہے ہیں تاکہ کیسز کی بڑھتی تعداد کو طبی سہولیات میسر ہوسکے۔

'میڈیکل آکسیجن کی درآمد کیلئے گفت و شنید جاری ہے'

علاوہ ازیں بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے میڈیکل آکسیجن کی سپلائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں این سی او سی کے تحت ہی ایک کمیٹی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیٹی تمام امور کا باغور جائزہ لے رہی ہے جبکہ ملکی سطح پر میڈیکل آکسیجن کی طلب کو پورا کرنے کی بھی تیاری کررہی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ آکسیجن پلانٹس کا باقاعدگی سے معائنہ ہورہا ہے اور اگر طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو نان کمرشل انڈسٹری سے آکسیجن کے حصول کا طریقہ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

انہوں نے تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ میڈیکل آکسیجن کی درآمد کے لیے گفت و شنید جاری ہے۔

معاون خصوصی صحت نے ویکسین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی فراہمی بلا تعطل اور انتہائی شفاف طریقے سے فراہم کی جارہی ہے۔

'حکومت عطیہ کردہ ویکسین پر انحصار نہیں کررہی'

ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس تاثر کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت عطیہ یا تحفے میں آئی ویکسین پر انحصار کررہی ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے وضاحت کی کہ 'ہم پہلے ہی تین ویکسین مینوفیکچرنگ کمپنی سے ویکسین خرید رہے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ 30 مارچ سے اب تک 30 لاکھ ویکسین خریدی جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ مزید 3 کروڑ ویکسین کے حصول کے لیے معاہدے کرلیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ ٹیکنالوجی سے متعلق ہے جس کے تحت ویکسین کی بھرائی ملک میں ہوگی۔

معاون خصوصی صحت نے کہا کہ اس کے برعکس چین کی جانب سے 17 لاکھ ویکسین بطور تحفہ موصول ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ پاکستان محض عطیہ کردہ ویکسین پر انحصار کر رہا ہے، یہ گمرہ کن بیان ہے۔

'عالمی سطح پر ویکسین کی قلت کا سامنا ہے'

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ یہ ذہن میں رہے کہ عالمی سطح پر ویکسین کی قلت کا سامنا ہے اور طلب و رسد کا تناسب عدم توازن کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی ویکسینیشن کا عمل مختصر وقت کے لیے روکنا پڑا تھا جس کی بنیادی وجہ ویکسین کی سپلائی میں تعطل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایڈونس بکنگ کرائی لیکن اس کے باوجود ویکسین کی سپلائی پر اثر پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوویکس کی طرف سے آنے والی ویکسین تاحال موصول نہیں ہوسکی۔

'ملک بھر میں 12 سو ویکسینیشن سینٹرز ہیں'

علاوہ ازیں ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ ملک بھر میں 12 سو ویکسینیشن سینٹرز ہیں جس میں سے 22 میگا سینٹرز ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یومیہ 5 ہزار افراد کو ویکسین دینے کی استعداد کار موجود ہے جبکہ اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سینٹر جمعہ کو بند جبکہ اتوار کو کھلے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ 40 سال سے زائد عمر افراد کے لیے ویکسین رجسٹریشن کھول دی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: