کورونا کیسز کی تعداد دو ماہ میں 65 فیصد کم ہوگئی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دو ماہ کے دوران کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 65 فیصد کم ہوچکی ہے اور دو ہفتوں سے مثبت کیسز کی شرح تقریباً 3 فیصد پر رکی ہوئی ہے۔

اپریل میں ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا مریضوں کی تعداد تقریباً 7 ہزار تھی جو 17 جون کو 2 ہزار 746 پر آچکی ہے۔

اسی طرح ایک روز میں ایک ہزار 119 نئے کیسز اور 46 اموات رپورٹ ہوئیں اور مثبت کیسز کی شرح 3 فیصد رہی۔

وبا کی گزشتہ دو لہروں کے دوران ملک میں فعال کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد کیسز کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی۔

کورونا کی پہلی لہر کے دوران جون 2020 میں فعال کیسز کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہوگئی تھی، بعد ازاں اس میں کمی دیکھی گئی اور بالآخر ستمبر میں کم ہو کر 6 ہزار سے کم پر آگئی تھی۔

ملک میں اکتوبر 2020 میں کیسز کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہونا شروع ہوا جس کے باعث این سی او سی نے اسے وبا کی دوسری لہر قرار دیا اور دسمبر میں فعال کیسز کی تعداد ایک بار پھر 50 ہزار سے زائد ہوگئی۔

اس کے بعد کیسز میں ایک بار پھر کمی آنا شروع ہوئی اور فروری 2021 میں فعال کیسز کی تعداد 16 ہزار تک رہ گئی۔

تاہم کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہونا شروع ہوا جس پر اسے وبا کی تیسری لہر قرار دیا گیا اور 31 مارچ کو تیسری بار ملک میں فعال کیسز کی تعداد 50 ہزر سے زائد ہوگئی۔

فعال کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور اپریل میں اس کی تعداد 90 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

اپریل کے آخری ہفتے میں این سی او سی نے معیاری طریقہ کار (ایس او پیش) پر عملدرآمد کے لیے پاکستان آرمی کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

صوبوں اور انتظامی اکائیوں نے ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے مسلح افواج کی مدد حاصل کی اور اس اقدام کی وجہ سے ایس او پیز پر عملدرآمد میں بہتری آئی۔

اس کے علاوہ 8 مئی سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا جس کے باعث کیسز کی تعداد میں کمی آئی۔

این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق 17 جون کو ملک میں فعال کیسز کی تعداد 36 ہزار 215 تھی۔

یہ تعداد رواں سال اپریل کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد کم ہے جب فعال کیسز کی تعداد 90 ہزار سے زائد تھی۔

اعداد و شمار سے یہ بھی سامنے آیا کہ ملک بھر میں 282 وینٹی لیٹرز کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں۔