کورونا کے خلاف نوواویکس ویکسین 90 فیصد مؤثر قرار

امریکی دوا سازکمپنی نوواویکس نے کہا ہے کہ امریکا میں ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں کورونا وائرس اور اس کی مختلف اقسام کے خلاف ان کی ویکسین 90 فیصد سے زائد مؤثر ہونے کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے کہا ہے کہ امریکا اور میکسیکو میں لگ بھگ 30 ہزار رضا کاروں پر کی جانے والی اس تحقیق نے امریکا اور دیگر ممالک میں 2021 کی تیسری سہ ماہی میں ویکسین کے استعمال کی ہنگامی اجازت لینے کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔

نوووایکس کے مطابق پروٹین پر مبنی ویکسین زیادہ آسانی سے منتقل ہونے والی کورونا وائرس کی مختلف ااقسام کے لیے 93 فیصد سے زائد مؤثر ہے جنہوں نے سائنسدانوں اور صحت حکام میں تشویش پیدا کی ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ویکسین کے ٹرائل کے دوران کورونا وائرس کا پہلا ویرئنٹ سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت کیا گیا تھا جسے اب الفا کا نام دیا گیا تھا اور یہ امریکا میں عام ہوگیا تھا۔

نوواویکس کے تحقیق کے سربراہ، ڈاکٹر گریگوری گلن نے رائٹرز کو بتایا کہ سائنسدانوں کو کورونا وائرس کی جن اقسام پر تشویش ہے وہ برازیل، جنوبی افریقہ اور بھارت میں پہلے سامنے آئیں اور ٹرائل کے شرکا میں بھی ان کی تشخیص ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کے کورونا وائرس کے شکار ہونے کا زیادہ خدشہ ہے، ایسے رضاکاروں کے لیے یہ ویکسین 91 فیصد مؤثر رہی اور کورونا وائرس کے معتدل اور سنگین کیسز کی روک تھام میں 100 فیصد موثر رہی۔

ڈاکٹر گریگری گلن نے کہا کہ یہ وائرس کی ان اقسام کے خلاف لگ بھگ 70 فیصد مؤثر رہی جن کی شناخت نوواویکس کمپنی کرنے سے قاصر تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عملی طور پر یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ ویکسین ایک ایسے وائرس سے حفاظت کر سکتی ہے جس کی اقسام تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

نوووایکس نے کہا کہ عام طور پر یہ ویکسین آرام سے برداشت کی گئی اور اس کے سائیڈ ایفیکیٹس میںسر درد، تھکاوٹ اور پٹھوں میں درد شامل تھے۔

رضا کاروں کی ایک چھوٹی سی تعداد نے سائیڈ ایفیکٹس کو شدید بتایا تھا۔

کمپنی کے مطابق نووایکیس 2021 کی تیسری سہ ماہی کے آخر تک ماہانہ 10 کروڑ ڈوز اور چوتھی سہ ماہی تک ماہانہ 15 کروڑ ڈوز تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

error: