کووڈ سے متاثر افراد کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 پھیپھڑٖوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور سائنسدانوں نے اب جان لیا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

درحقیقت خون کے مونوسائٹس میں موجود ایک مخصوص میکروفیج (نسیج کے افعال کے لیے اہم خلیہ)کووڈ سے متاثر پھیپھڑوں میں ورم کے شدید ردعمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

خیال رہے کہ کووڈ 19 نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کیا ہے مگر اکثر مریض اس وقت ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں جب بیماری کے نتیجے میں پھیپھڑوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کے لیے کووڈ 19 نمونیا کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

کوریا ایڈوانسڈ انسٹیٹوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے ابتدائی مرحلے میں پھیپھڑوں کے ٹشوز سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں اور ایک دفاعی نظام حرکت میں آتا ہے۔

یہ ابتدائی اور تیز رفتار ردعمل فطری امیونٹی کہلاتا ہے جو پھیپھڑوں میں موجود مدافعتی خلیات سے متحرک ہوتا ہے۔

میکروفیج پھیپھڑوں کے اس فطری مدافعتی نظام کے اہم خلیات میں سے ایک ہے اور دوران خون میں موجود میکروفیج بھی وائرسز کے خلاف ابتدائی دفاع میں کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین کی جانب سے ایک جانور فیریٹ میں کووڈ سے متاثر پھیپھڑوں میں مدافعتی ردعمل کے ارتقائی مراحل پر جانچ پڑتال کی جارہی تھی اور تحقیق کے لیے انہوں نے فیریٹ انفیکشن ماڈل کو استعمال کیا۔

محققین نے میکروفیج کی 10 ذیلی اقسام کا تجزیہ کورونا وائرس کی بیماری کے 5 دن کے عرصے کے دوران کیا اور دریافت کیا کہ متحرک مونوسائٹس سے بننے والے میکروفیجز وائرس کو کلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کو ٹشوز کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

مزید براں انہوں نے دریافت کیا کہ میکروفیجز کے ورم کا عمل کووڈ کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز میں ہونے والے مدافعتی ردعمل سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔

اس وقت یہ تحقیقی ٹیم ایک فالو اپ تحقیق پر کام کررہے ہیں تاکہ کووڈ کے مریضوں میں سائٹوکائین اسٹروم سے بننے والے شدید ترین ورم کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ تلاش کرسکیں۔

محققین نے بتایا کہ تجزیے سے کووڈ 19 امیونٹی کے ابتدائی فیچرز کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور مخصوص میکروفیجز کو ہدف بنانے کے لیے مدافعتی ردعمل کو دبانے والے اجزا کی شناخت میں مدد مل سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی طویل المعیاد تحقیق ہے جس میں کووڈ سے متاثر پھیپھڑوں کے مدافعتی خلیات کو استعمال کیا گیا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر کمیونیکشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل مئی 2021 میں برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث زیرعلاج مریضوں میں سے متعدد کو ایک سال بعد بھی منفی اثرات کا سامنا ہوتا ہے۔

ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے ایک تہائی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک سال بعد بھی منفی اثرات کے شواہد ملے ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع تحقیق کے دوران ماہرین نے چین کے شہر ووہان کے ماہرین کے ساتھ مل کر سنگین کووڈ 19 نمونیا کے مریضوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ ایک سال بعد ان کی حالت کیسی ہے۔

اس مقصد کے لیے 83 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا جو کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

ان مریضوں کا جائزہ 3، 6، 9 اور 12 مہینوں تک لیا گیا یعنی ہر 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیاگیا۔

ہر بار معائنے کے دوران طبی تجزیئے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے افعال کی ان پڑتال کی گئی، جس کے لیے سی ٹی اسکین سے پھیپھڑوں کی تصویر لی گئی جبکہ ایک چہل قدمی ٹیسٹ بھی لیا گیا۔

12 مہینے کے دوران بیشتر مریضوں کی علامات میں علامات، ورزش کی صلاحیت اور کووڈ 19 سے متعلق سی ٹی چینجز میں بہتری آئی۔

ایک سال بعد اکثر مریض بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے تاہم 5 فیصد افراد تاحال سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔

ایک تہائی مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال بدستور معمول کی سطح پر نہیں آسکے تھے، بالخصوص پھیپھڑوں سے خون میں آکسیجن کو منتقل کرنے کی صلاحیت زیادہ متاثر نظر آئی۔

ایک چوتھائی مریضوں کے سی ٹی اسکینز میں دریافت کیا گیا کہ ان کے پھیپھڑوں کے کچھ چھوٹے حصوں میں تبدیلیاں آرہی تھیں اور یہ ان افراد میں عام تھا، جن کے پھیپھڑوں میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے دوران سنگین تبدیلیاں دریافت ہوئی تھیں۔

محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کے شکار مریوں کی اکثریت بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوجاتی ہے، تاہم کچھ مریضوں کو اس کے لیے کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کے پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہونے کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور اس حوالے سے جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی نہیں جانتے کہ 12 ماہ کے بعد مریضوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور اسی لیے تحقیق کو جاری رکھنا ضروری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: