Site icon Dunya Pakistan

کووڈ سے معمولی بیمار افراد میں صحتیابی کے کئی ماہ بعد ذہنی مسائل کا انکشاف

کووڈ سے معمولی حد تک بیمار ہونے والے افراد کو صحتیابی کے 9 ماہ بعد تک توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

یہ کورونا وائرس کے طویل المعیاد اثرات کی طویل فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے جس کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہہ کووڈ سے معمولی بیمار ایسے افراد جو لانگ کووڈ کی علامات کو رپورٹ نہیں کرتے، انہیں میں 6 سے 9 ماہ تک توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کے بدترین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ لانگ کووڈ سے متاثر اقفراد کو وجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس کے لیے ذہنی دھند یا برین فوگ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

مگر یہ واضح نہیں تھا کہ کہ یہ اثر کووڈ کو شکست دینے والے ان افراد میں بھی دیکھنے آتا ہے یا نہیں جن میں صحتیابی کے بعد دیگر طبی مسائل نظر نہیں آتے۔

اس تحقیق میں شامل افراد کو مختلف ذہنی ٹیسٹ مکمل کرنے کا کہا گیا جن کے لیے توجہ، یادداشت، منصوبہ بندی اور منطق کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان افراد نے مختصر المدت یادداشت اور منصوبہ بندی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر ماضی کے واقعات اور وقت کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحٰت میں بدترین کارکردگی دکھائی۔

مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ بیشتر افراد کے یہ مسائل 6 سے 9 ماہ بعد ختم ہوگئے۔

محققین نے بتایا کہ جو بات حیران کن تھی وہ یہ ہے کہ تحقیق میں شامل بیشتر افراد کو لانگ کووڈ کی کسی علامت کا سامنا نہیں ہوا مگر توجہ اور یادداشت میں تنزلی کا سامنا ضرور ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتائج سے انکشاف ہوتا ہے کہ کووڈ کی معمولی شدت کا سامنا کرنے کے بعد بھی مہینوں تک ذہنی تنزلی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Exit mobile version