کووڈ ویکسینز ڈیلٹاوائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہوسکتی ہیں، تحقیق میں انکشاف

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ ویکسین ڈیلٹا وائرس کی منتقلی روکنے میں ناکام ہو سکتی ہیں اور ویکسین لگوانے والے افراد میں ڈیلٹا وائرس اتنی ہی آسانی سے منتقل ہو سکتا ہے جتنا کہ ان لوگوں میں جن کو ویکسین نہیں لگی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مذکورہ نتائج امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن پروگرام کے نتائج سے ملتے ہیں جس نے پچھلے ہفتے ہی ان تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو ڈیلٹا دیگر ویریئنٹ کے مقابلے میں آسانی سے منتقل ہوجاتا ہے۔

انتہائی تیزی کے ساتھ پھیلنے والا ڈیلٹا ویریئنٹ عالمی سطح پر غالب کورونا وائرس کی سب سے خطرناک قسم بن گیا ہے جہاں دنیا بھر میں کوقرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 44 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ویکسین کو وائرس خصوصاً ڈیلٹا ویریئنٹ کے سبب بیماری اور اموات سے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے، ان سے وائرس منتقل ہو سکتا ہے یا نہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ ویکسین لگوانے والے افراد کے ڈیلٹا کا شکار ہونے کی شرح ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے برابر ہے۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ اس وائرس کا شکار افراد کے شکار پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں، تاہم یہ ابتدائی تحقیقاتی تجزیہ ہے اور اس بات کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا کہ 19 جولائی سے ہسپتال میں داخل ہونے والے تصدیق شدہ ڈیلٹا کیسز میں سے 55.1 فیصد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جبکہ 34.9 فیصد کو کووڈ-19 ویکسین کے دو ڈوز لگ چکے تھے۔

برطانیہ کی تقریباً 75 فیصد آبادی کو ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کو ویکسین لگتی جائے گی، اس کے ساتھ ہی ہم ہسپتال میں ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا رجحان دیکھ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: