کووڈ کے سنگین مریضوں کو بچانے والی مزید 2 ادویات دریافت

جوڑوں کے امراض کے لیے استعمال کی جانے والی 2 ادویات سے کووڈ 19 کے نتیجے میں سنگین حد تک بیمار ہر 12 میں سے ایک مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہیں۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق کے نتائج کے بعد برطانیہ میں tocilizumab نامی دوا کو 8 جنوری سے آئی سی یو میں زیرعلاج کووڈ کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

حکام کا کہناا ہے کہ ہزاروں مریضوں پر آزمائش میں اس دوا کے فوائد کی تصدیق ہوئی اور یہ موت کا خطرہ ممکنہ طور پر 24 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔

ایک اور دوا sarilumab بھی نہ صرف زندگیاں بچاتی ہے بلکہ آئی سی یو میں مریضوں کے قیام کا دورانیہ بھی کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹرائل کے ابتدائی نتائج میں عندیہ دیا گیا تھا کہ tocilizumab سے کووڈ سے سنگین حد تک بیمار افراد کی حالت میں بہتری آسکتی ہے، تاہم دیگر ٹرائلز کے نتائج ملے جلے رہے تھے۔

یہ دونوں ادویات آئی ایل 6 ریسیپٹر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، جو جسم میں ایسے پروٹینز کے اثرات کو کم کرتی ہیں جو مدافتی نظام کے شدید ترین ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔

کووڈ 19 کے بہت زیادہ بیمار افراد میں اس طرح کا شدید ردعمل عام ہوتا ہے جبکہ ان کے جسم میں ورم کی شرح بھی جان لیوا حد تک بڑھ جاتی ہے۔

اب ان ادویات کے ٹرائل ری میپ کیپ کے نتائج سامنے آئے ہیں، جس میں 15 ممالک کے 3 ہزار 900 سے زیادہ کووڈ 19 کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔

ٹرائل کے دوران 2 گروپس میں جائزہ لیا گیا، ایک گروپ کو روایتی علاج فراہم کیا گیا جبکہ دوسرے کو ان دونوں ادویات میں سے ایک کا استعمال کرایا گیا۔

ان مریضوں کو ہسپتال میں داخل ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر آئی سی یو میں پہنچ گئے تھے۔

زیادہ تر مریضوں کو tocilizumab کا استعمال کرایا گیا جبکہ دوسری دوا کم افراد کو دی گئی۔

محققین نے ان مریضوں کی حالت میں بہتری کا جائزہ کم از کم 21 دن تک لیا۔

6 ممالک کے 792 مریضوں کے نتائج سے انکشاف ہوا کہ ان دونوں ادویات کے استعمال سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

عام طریقہ علاج والے گروپ میں آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کی اموات کی شرح 35.8 فیصد تھی جبکہ tocilizumab استعمال کرنے والے گروپ میں 28 فیصد اور sarilumab والے مریضوں میں 22.2 فیصد رہی۔

دونوں ادویات کے نتائج کو اکٹھا کرنے پر مریضوں کی شرح اموات 27.3 فیصد رہی جو کہ عام طریقہ علاج کے مقابلے میں 8.5 فیصد کم ہے۔

ٹرائل میں شامل امپرئیل کالج لندن کے پروفیسر انتھونی گورڈن نے بتایا 'ان ادویات سے 12 مریضوں میں سے ایک کی زندگی بچای جاسکتی ہے، جو بظاہر زیادہ بڑا نہیں لگتا، مگر یہ بڑا مثبت اثر ہے'۔

تحقیقی ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ ان ادویات کے استعمال کرنے والے مریض زیادہ تیزی سے بہتر ہوتے ہیں اور عام طریقہ علاج کے مقابلے میں 7 سے 10 دن قبل آئی سی یو سے ڈسچارج کردیئے جاتے ہیں۔

اس ٹرائل کی یورپین کوآرڈنیٹنگ انویسٹی گیٹر ڈاکٹر لینی ڈیرڈی نے کہا کہ ٹرائل کا بین الاقوامی سطح پر ہونا اہمیت رکھتا ہے اور اس سے دنیا بھر میں وبا کے اثرات میں کمی لائی جاسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ نتائج کا اطلاق صرف برطانیہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔

ابھی تک صرف اسٹرایڈز ڈیکسا میتھاسون اور ہائیڈرو کورٹیسون کو ہی کووڈ 19 کے سنگین حد تک بیمار افراد کے لیے موثر دریافت کیا گیا ہے۔

تاہم اس نئی دریافت سے مزید زندگیاں بچانے میں مدد مل سکے گی۔

اسٹرائیڈز کی دریافت کرنے والے ٹرائل میں شامل آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہوربے جو اس نئے ٹرائل کا حصہ نہیں تھے، نے اس نئی دریافت کو اچھی خبر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے ٹرائل کے مریضوں کو ڈیکسامیتھاسون یا دوسری دوا بھی دی گئی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ نئی ادوات سے اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ کہ نتائج کا اطلاق سنگین حد تک بیمار مریضوں پر ہی ہوسکتا ہے۔