کووڈ 19: پاکستان میں بسنے والی وہ کمیونٹیز جو شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث ویکسین سے بھی محروم ہیں

میرے لیے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کا کوئی انتظام نہیں کیونکہ میں خواجہ سرا ہوں اور میرا شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا۔۔۔ میں پاکستانی بنگالی ہوں مجھے اب تک ویکسین نہیں دی جا سکی کیونکہ میرے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ نہیں ہے۔۔۔ میں پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین ہوں چونکہ میرے پاس شہریت کی مصدقہ دستاویزات نہیں ہیں اس لیے ویکسین نہیں لگ سکتی۔۔۔

پاکستان میں یہ اور اس طرح کے دیگر افراد جن کے شناختی کارڈ یا پی او آر کارڈ نہیں ہیں یا کسی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں اُن کے لیے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا انتطام موجود نہیں۔

خواجہ سرا ماہی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے سب سے بڑی مشکل تو یہ ہے کہ وہ خواجہ سرا ہیں اور پاکستانی معاشرے میں عام حالات میں بھی خواجہ سرا ناصرف انسان نہیں سمجھا جاتا بلکہ دوسرے درجے کا شہری بھی نہیں۔

’میرے پاس پالتو جانور ہیں، میں باقاعدگی سے اُن کی ویکسینیشن کرواتی ہوں تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہیں مگر خواجہ سرا ہوتے ہوئے پاکستان میں میرے لیے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں ہے۔‘

ماہی
،تصویر کا کیپشنماہی: ہم ویکسین کے لیے کیسے رجسٹر ہو سکتے ہیں حکام نے ابھی تک اس بارے میں مطلع نہیں کیا

پاکستان میں مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی تعداد اکیس ہزار سے زیادہ ہے تاہم خواجہ سراؤں کی مختلف تنظیموں کے مطابق اصل تعداد سرکاری سطح پر بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خواجہ سراؤں کو شناختی دستاویزات میں اپنی جنس لکھوانے کے لیے بہت سے ثبوت دینے ہوتے ہیں جس کے باعث وہ شناختی کارڈ بنواتے ہی نہیں ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی مصدقہ ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ کتنے خواجہ سرا شناختی کارڈ سے محروم ہیں تاہم خواجہ سراؤں کی تنظیموں کے مطابق ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

خواجہ سراؤں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے عہدیدار تیمور کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ اکثر خواجہ سرا بچپن سے ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر خواجہ سراؤں کے ڈیروں پر آ جاتے ہیں اس لیے ان کی ولدیت نہیں لکھی جاتی۔

خواجہ سرا ماہی بتاتی ہیں کہ وہ بظاہر لڑکیوں کی طرح ہی ہیں لیکن شہریوں کی رجسٹریشن کا سرکاری محکمہ انھیں جنس کے خانے میں خواجہ سرا لکھوانے کی اجازت نہیں دیتا اور خیبر پختونخوا میں کوئی گھرانہ بھی کسی کو اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کے گھر میں کوئی خواجہ سرا لکھوائے، اسی لیے شناختی کارڈ نہیں بنائے جاتے۔

ماہی نے بتایا کہ تعلیم کی کمی اور انفارمیشن کے ذرائع نہ ہونے کے باعث ان کی کمیونٹی میں بہت سے خواجہ سراؤں کی یہ رائے ہے کہ ویکسین لگوانے سے کوئی فائدہ نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اُن کی رائے اس سے مختلف ہے مگر چونکہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے اس لیے وہ ابھی تک اپنے آپ کو ویکسین کے لیے رجسٹر نہیں کروا سکیں ہیں جبکہ حکومت نے بھی اس سلسلے میں ان کی کوئی رہنمائی نہیں کی ہے۔

کراچی میں مقیم بنگالی شہری؟

پناہ گزین

پاکستان میں مختلف ایسی کمیونیٹیز بستی ہیں جنھیں پاکستانی شہریت کی دستاویزات دستیاب نہیں ہیں، اُن میں پاکستان میں آباد بنگالی شہری بھی ہیں جو دہائیوں سے یہاں مقیم ہیں مگر سرکاری سطح پر انھیں پاکستانی شہری نہیں مانا جاتا ہے اور اسے لیے ان کے شناختی کارڈ بھی نہیں بنائے جاتے۔

کراچی میں بنگالی کمیونٹی کے نمائندے شیخ سراج کے مطابق پاکستان میں مقیم ’پاکستانی بنگالیوں‘ کی تعداد 18 سے 20 لاکھ تک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نادرا نے لگ بھگ چار سے پانچ لاکھ بنگالیوں کے شناختی دستاویزات بلاک کیے ہوئے ہیں جبکہ نئے شناختی دستاویزات کے اجرا پر فی الحال پابندی ہے۔

انھوں نے کہا کہ درپیش صورتحال میں ’کہاں کا کورونا اور کہاں کی ویکسین بس اس امید پر جیے جاتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا تحفظ کرے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی کے بیشتر افراد محنت مزدوری کرتے ہیں اور کراچی کی صنعتوں اور فشریز میں زیادہ تر پاکستانی بنگالی نظر آئیں گے لیکن ان کے تحفظ کے لیے انھیں ویکسین کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے شناختی کارڈ کا مسئلہ پرانا ہے۔ ’سنہ 1998 میں کارڈ بلاک ہوئے پھر پیپلز پارٹی کے دور میں کچھ نہیں ہوا تو سنہ 2013 میں نواز شریف کے دور میں پھر کوششیں کی گئیں لیکن نادرا نے بلاک شناختی کارڈ نہیں کھولے ابھی بھی موجودہ وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے کہ وہ ملاقات کا وقت دیں تاکہ اپنے مسائل ان کے سامنے رکھ سکیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’شناختی کارڈز نہ ہونے کی وجہ سے ویکسین نہ لگنے کا معاملہ تو ایک طرف شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث ہماری کمیونٹی کے سینکڑوں نوجوان گھروں میں بیٹھے ہیں، تعلیم حاصل نہیں کر سکتے، روزگار وغیرہ نہیں ہے اور ان کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔‘

پاکستانی بنگالیوں کے علاوہ برمی اور بہاری کمیونٹی کے افراد کو بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انھیں ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

افغان پناہ گزین

افغان

پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں لگ بھگ 25 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں جن میں سے 14 لاکھ ایسے ہیں جن کے پاس پی او آر کارڈز ہیں جبکہ باقی کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں ہے جس کے باعث انھیں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف ان افغان پناہ گزینوں کو ویکسین دی جا رہی ہے جن کے پاس افغان پاسپورٹ ہیں اس کے علاوہ باقی افغان پناہ گزینوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایسے ہی ایک افغان پناہ گزین شہرزاد نے بتایا کہ ان کی ملاقات جمعے کے روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پاکستان میں نمائندے سے متوقع ہے جس میں ویکسین کے بارے میں بات چیت ہو گی اور امید ہے اس پر عمل درآمد جلد شروع کر دیا جائے گگ۔

صالحہ افغان طالبہ ہیں، اُن کے والد نہیں ہیں جبکہ تین بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی ہے۔

صالحہ نے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانی بھی چاہیے کہ نہیں کیونکہ اس بارے میں مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن ان کی سوچ یہی ہے کہ جب دنیا بھر میں ویکسین لگا رہے ہیں تو ہم اس سے محروم کیوں ہیں۔

نادرا اور ویکسینیشن سینٹرز میں موجود عملے نے بی بی سی کو بتایا کہ جن افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں انھیں ویکسین نہیں دی جا سکتی اور ایسے افراد کے حوالے سے حکومتی پالیسی کی بابت ابھی تک انھیں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت فیصل سلطان نے بتایا کہ ’وہ تمام افراد جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں ان کے لیے ویکسینیشن مہیا کرنا ایک چیلنج ہے تاہم اس مسئلے کو حل کرنے اور ویکسین کی تمام افراد تک دستیابی یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *