کوک سٹوڈیو 2020: نئے سیزن کی پہلی قسط کے گانوں پر سوشل میڈیا پر ردعمل

کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں گذشتہ 12 برسوں سے چار روایتی موسموں کے علاوہ ایک اور موسم کا بھی اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ہے ’کوک سٹوڈیو‘ کا موسم۔

کیونکہ سال 2020 کا ہر موسم ہی ہر لحاظ سے افسردگی کا باعث رہا ہے تو اس برس کوک سٹوڈیو کے چاہنے والے یقیناً اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث موسیقی کے اس شو کو بھی ملتوی کیا گیا تھا اور عام طور اگست میں شروع ہونے والے کوک سٹوڈیو کا آغاز اس مرتبہ دسمبر میں ہوا ہے۔

جیسے ہر موسم ہر کسی کو اچھا نہیں لگتا اسی طرح کوک سٹوڈیو کے بھی ناقد موجود ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے اس تنقید میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پہلی قسط کے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے وہی روایتی انداز اپنایا اور کہیں میمز کے ذریعے ریلیرز ہونے والے گانوں کا تمسخر اڑایا تو کہیں ’یہ گانا اب کافی عرصہ تک میری پلے لسٹ میں رہے گا‘ کی بازگشت سنائی دی۔

کوک سٹوڈیو

اس سیزن میں نیا کیا ہے؟

ایک بات جو آپ کو پہلا گانا پلے کرتے ساتھ ہی دکھائی دے گی وہ یہ ہے کہ اس مرتبہ اسے گھر کے ماحول میں فلمایا گیا ہے۔ یعنی جب پوری دنیا میں گھر بیٹھے کام کیا جا رہا ہے تو کوک سٹوڈیو کو بھی گھر کے ماحول میں فلمایا گیا۔

ایک صارف نے یوٹیوب پر تبصرہ کیا کہ ’سماجی فاصلہ کیسے برقرار رکھنا ہے، اس کے لیے کوک سٹوڈیو سے سبق حاصل کریں۔‘

کوک سٹوڈیو

دوسری نمایاں بات جو اس سیزن میں دیکھنے کو ملے گی وہ شاید متعدد ناقدین کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے باعث ہی اپنائی گئی ہے۔

یہ کوک سٹوڈیو کا 13واں سیزن ہے اور عام طور پر گذشتہ کئی برس سے ایک ہی فارمولا بار بار آزمانے پر موسیقی کے اکثر مداحوں نے اس سے اکتاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ یہ فارمولا دراصل پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنا، یا دو گانوں کو ملا کر مختلف انداز میں گانا ہے۔

کوک

آغاز کے کئی سیزنز تک تو یہ فارمولا خاصا کامیاب رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ کوک سٹوڈیو بھی یکسانیت کا شکار ہوتا دکھائی دیا اور وہ بحث جو ہمیشہ سے ہی کی جاتی ہے، کہ ’اس سے بہتر تو اس گانے کا اصل ورژن تھا‘، مزید گرم ہونے لگی۔

اس سیزن میں اسے تبدیل کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس مرتبہ صرف نئے گانے ہی گائے جائیں گے اور موسیقی کے ذریعے معاشرتی پیغامات دینے پر توجہ دی جائے گی۔

اس سلسلے میں پہلی قسط میں ریلیز ہونے والا گانا ’نا ٹوٹیا وے‘ کوک سٹوڈیو کی تاریخ میں وہ پہلا گانا بن گیا ہے جسے سیزن کے دوران گانے والی تمام خواتین گلوکاروں نے مل کر گایا ہے۔

میشا
،تصویر کا کیپشنمیشا شفیع

پہلی قسط میں ریلیز ہونے والے گانے

پہلی قسط میں ویسے تو ہمیں روایتی طور پر کوک سٹوڈیو میں نظر آنے والے چہرے دکھائی دیے لیکن کچھ نئی آوازیں بھی سنائی دیں۔ ان آوازوں میں کوک سٹوڈیو میں ڈیبیو کرنے والے مہدی مالوف کا گانا ’دل کھڑکی‘ کو خاصی پزیرائی مل رہی ہے۔

سوشل میڈیا

اس گانے کے بول آپ کو اپنے حالات سے قطع نظر دنیا کے لیے اپنا دل کھولنے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اس موسیقی کی ایک قسم ’اِنڈی پاپ‘ انداز میں گایا گیا ہے۔

ایک صارف نے اس گانے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس گانے نے ’پاکستان کی موسیقی میں ایک نیا باب کھول دیا ہے‘۔

کوک سٹوڈیو
،تصویر کا کیپشنمہدی مالوف

جبکہ ایک دوسرے صارف کو اس گانے کی زیادہ سمجھ نہیں آئی اور انھوں نے تبصرہ کیا کہ یہ ’گانا کم اردو کی تقریر زیادہ لگ رہی ہے۔‘

اس کے علاوہ دیگر صارفین عاطف اسلم کو بھی یاد کرتے دکھائی دیے اور کہنے لگے کہ ’عاطف اسلم کے بغیر کوک سٹوڈیو ادھورا ہے‘۔

اس سے اگلا گانا ’جاگ رہی‘ دراصل سسی پنو کی لوک کہانی کا احوال ہے۔ اس گانے کو فریحہ پرویز اور علی نور نے گایا ہے۔ اس گانے پر صارفین نے ملا جلا ردِ عمل دیا ہے۔

کوک سٹوڈیو
،تصویر کا کیپشنعلی نور

کچھ کو یہ کہانی غمگین جبکہ کچھ علی نور کی آواز کے دیوانے ہوتے دکھائی دیے۔ ایک صارف نے کہا کہ جو چیز تینوں گانوں میں اچھی لگی وہ یہ تھی کہ تمام ’گلوکاروں کی آواز انتہائی صاف‘ ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ علی نور کی آواز مجھے اس صدی کے اوائل میں لے گئی ہے جب ’ہم بچپن میں انتہائی خوش اور بے پرواہ ہوا کرتے تھے‘۔

سوشل میڈیا کا جائزہ لیتے ہوئے جس گانے کی زیادہ دھوم نظر آئی وہ ’نا ٹوٹیا وے‘ ہے اور اس میں ویسے تو تمام خواتین کی آوازیں موجود ہیں لیکن خاص کر میشا شفیع کا گانے کے آخر میں ’ریپ موسیقی‘ کا سہارا لینا اکثر صارفین کو خوب بھایا ہے۔

ٹریبڈ

ایک صارف نے لکھا کہ ’میشا نے بتا دیا کہ بوہیمیا کے علاوہ بھی اس سیزن میں کوئی ریپر ہے‘۔

یاد رہے کہ پاکستانی نژاد امریکی ریپر بوہیمیا بھی اس سیزن میں نظر آئیں گے۔

صنم ماروی جو اس سے قبل بھی کئی بار کوک سٹوڈیو کا حصہ رہ چکی ہیں کی آواز کو پزیرائی مل رہی ہے۔

آج تو پہلی قسط آئی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی سوشل میڈیا پر صارفین کے بیچ اس سیزن سے متعلق نوک جھوک جاری رہنے والی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *