کچھ دوستی کے بارے میں

اُس روز الف سے میری گرما گرم بحث ہوگئی ۔ بحث تو پہلے بھی ہوتی تھی مگر اِس مرتبہ قدرے تلخی ہو گئی۔حالانکہ بات کچھ بھی نہیں تھی ۔ہم دونوں ایک ریستوران میں بیٹھے کافی پی رہے تھے ۔موضوع کچھ خاص نہیں تھا ، ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے اور باتوں ہی باتوں میں نہ جانے کب ہمارے لہجوں میں کڑواہٹ آ گئی اور ہم نے ایک دوسرے کو بلاوجہ طعنے دینے شروع کر دئیے۔اب یاد کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے ہمارے دلوں میں شاید پہلے سے کوئی کدورت تھی جو اُس روز رنجش کا سبب بن گئی۔ بہرحال جو بھی ہوا ،اُس روز کے بعد ہم نے ایک دوسرے کو فون نہیں کیا۔یوں لگا جیسے برسو ں پرانا ہمارا تعلق چند منٹوں میں ختم ہو گیاہو۔میں نے دل میں سوچا کیا یہ تعلق اتنا ہی کمزور تھا کہ ایک جھٹکا بھی نہ سہہ سکامگر پھر ایک عجیب بات ہوئی ۔چند روز بعد میں گھر سے خریداری کی غرض سے نکلا ، جس دکان سے میں عموماً خریداری کرتا ہوں،اُس کے سیلز مین نے کہا کہ اگر آ پ ہماری دکان کا رعایتی کارڈ بنوا لیں گے تو آئندہ ہر خریدار ی پر آپ کو دس فیصد بچت ہو گی ۔ میں نے دل میں حساب لگایا اور سوچا کہ چلو کچھ نہ کچھ تو فائدہ ہو ہی جائے گا، مفت کا رڈ بنوانے میں کوئی حرج نہیں ۔اور پھر یہیں سے ایک بات میرے ذہن میں آئی۔ اِس بات کا الف سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا مگر پھر بھی میں نے الف کو فون ملا دیا۔وہ بھی شاید میری ہی کال کے انتظار میں تھا،میرے فون سے اُس کی انا کی تسکین ہو گئی ،ہم دونوں نے پچھلی کوئی بات نہیں کی، حال احوال پوچھا اور پھردو گھنٹے بعد ہم اسی ریستوران میں بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے جہاں چند روز پہلے ہماری ہلکی سی جھڑپ ہوئی تھی۔

اِس واقعے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر میں الف کو فو ن نہ کرتا تو شاید و ہ مجھے فو ن کر لیتا یا ممکن ہے کہ نہ کرتا۔ اگر ہم دونوں ہی اپنی اپنی انا کے حصار میں رہتے تو یقیناًہماری دوستی ختم ہو جاتی ۔مگرکیا ہمار ی انا اتنی منہ زور تھی کہ برسوں پرانی دوستی بھی اس کے آگے نہ ٹھہر پاتی ؟ میں نے سوچا کہ وقت کی طرح دوستی بھی زندگی میں انسان کا اثاثہ ہوتی ہے مگر بعض اوقات ہم وقت اور دوستی دونوں کی پروا نہیں کرتے۔ سیلز مین نے جب مجھے رعایتی کارڈ بنا کر دیا تو مجھے اِس بات کی خوشی ہوئی کہ چار پیسے بچ جایا کریں گے مگر الف سے تلخی بڑھاتے وقت میں نے یہ نہیں سوچا کہ اپنے زندگی بھر کے اثاثے کوآگ لگا رہا ہوں۔ وقت کے بارے میں بھی ہمارا یہی رویہ ہے ۔ وقت کو ہم کس قدر اطمینان سے غیر ضروری کاموں میں ضائع کرتے ہیں اور ہمیں رتی برابر بھی احساس نہیں ہوتا۔اِس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص بازار میں اپنی دولت لٹاتا ہوا جا رہا ہو۔ ایسے شخص کو ہم باؤلا ہی کہیں گے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ وقت اور دوستی کے بارے میں ہم میںزیادہ تر لوگ ایسے ہی باؤلے ہیں ۔اپنی زندگی کے اِن دو قیمتی اثاثوں کو ہم آئے روز کسی احمقانہ وجہ سے ضائع کرتے ہیں ،اُس وقت تو ملال نہیں ہوتامگر بعد میں پچھتاتے ضرور ہیں ۔

جی ہاں کچھ دوست مطلبی ،خود غرض ، لالچی اور موقع پرست ہوتے ہیں ، کوئی دوست دھوکہ بھی دیتا ہے اور کوئی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بھی نہیں چوکتا ، لیکن یہ سب لوگ دراصل دوست نہیں ہوتے ، انہوں نے دوستی کالبادہ اوڑھ رکھا ہوتا ہے اور ہم انہیں دوست سمجھ بیٹھتے ہیں ، یہ لوگ اثاثے کی تعریف میں نہیں آتے ۔ایک نشانی ایسے لوگوں کی یہ ہے کہ اپنے کسی ’دوست ‘کا ذکر کرتے وقت اُس کی غیر موجودگی میں بد خوئی کریںگے ،مثلاً ’ویسے تو وہ ہمارا دوست ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ ایک نمبر کا لفنگا ہے ‘۔یہ نشانی آپ جس میں بھی دیکھیں، اسے اپنے دوستوں کی فہرست سے نکال دیں۔اسی طرح ہر دوست کڑے وقت میں کام نہیں آتا مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سرے سے دوست ہی نہیں ہے ، اگر وہ آپ کا ہمدرد ہے اور مخلص ہے تو یہ بھی غنیمت ہے ، ایسے شخص کو بھی اثاثہ ہی سمجھیں۔دوستو ں کے مابین اکثرتلخیاںمحض ضد میں ہوجاتی ہیں، بعض اوقات ہم کسی معاملے میں کوئی پوزیشن لے لیتے ہیں اور پھر اُس پر اڑ جاتے ہیں، اپنے موقف کو غلط مان کر دستبردار ہونے میں ہمیں ہتک محسوس ہوتی ہے سو ہم دوستی قربان کر دیتے ہیں ،اپنی انا پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔حالانکہ جہاں بات دوستی کی ہو وہاں پندار کا صنم کدہ ویراں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔کسی بھی معاملے میں تلخی کو اُس نہج تک لے جانا ہی نہیں چاہیے جہاں سے واپسی ممکن نہ رہے ۔ بریک اپ (علیحدگی ) کے معاملات بھی اسی سے ملتے جلتے ہیں۔ ویسے تو یہ موضوع ایک علیحدہ کالم کا متقا ضی ہے مگر عاشقان بر صغیر پاک و ہند کے وسیع تر مفاد میں فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ علیحدگی ہمیشہ شدتِ جذبات میں ہوتی ہے لہٰذابریک اپ کرتے وقت محبوب کی جملہ برائیا ں گالم گلوچ کے ساتھ بیان کرنے سے گریز کریں ، ہو سکتا ہے کہ محبوب میں سچ مچ وہ برائیاں ہوں جن کی وجہ سے آپ اسے چھوڑنا چاہتے ہوں مگر انہیں گالیوں سے لبریز کرکے مبالغے کے ساتھ بیان کرنا بہرحال کسی عاشق کو زیبا نہیں دیتااِلّا یہ کہ’ بغل میں غیر کے آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ ‘والا معاملہ ہو۔اگر ایسا نہیں تو تھوڑی بہت منافقت سے کام لینے میں کوئی حرج نہیں ، جب فریقین کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد آتے ہیں تو اُس وقت علیحدگی کے وقت کی ہوئی گالم گلوچ بھی یاد آتی ہے لہٰذا، منافقت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں !

جس طرح بیماری کی تکلیف صرف مریض کو محسوس ہوتی ہے، اسی طرح اپنی لڑائی بھی ہمیشہ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ اگر آپ کے دوست مخلص اور کڑے وقت میں کام آنے والے ہیں تو آپ دنیا کے سب سے خوش قسمت انسان ہیں،مگران دوستوں کی مدد سے آپ کی دل جوئی ہو سکتی ہے، حوصلہ بڑھ سکتا ہے ، پریشانی بھی قدرے کم ہو سکتی ہے ،مگر آخری لڑائی بہرحال آپ کوخود لڑنی پڑے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *