کچھ کالم نگاروں کے بارے میں

"احمد علی کورار"
صاحبان قلم کا ایک اژدھام ہے اخبارات کے ادارتی صفحے بھرے پڑے ہیں مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی ہو رہی ہے ارباب قلم میں طبقہ اناث نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہوا اپنے استعداد کے مطابق لکھ رہی ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے ایک جمہوری ریاست میں ان کا بھی حق ہے وہ اپنا نکتہ نظر بیاں کر سکیں۔
بلاشبہ ہر ایک کا اپنا طرز تحریر ہے۔جس طرح میں نے پہلے بھی کہا کہ لکھنے والوں کی کمی نہیں لیکن بعض ایسے انشا پرداز ہیں جن کے مضامین اخبارات کی زینت ہوتے ہیں جس دن ان کا مضمون شائع ہو تا ہے اس دن اخبار بھی  بھاری سا محسوس ہو تا ہے۔
ایسے خامہ فرسا ٶں کا طرز اسلوب  لفظوں کی کاٹ فقروں کی منجندھار قاری کو دیوانہ بنا دیتی ہیں۔
ایسے منجھے کالم نویسوں میں چند کا ذکر کرتے ہیں جن کی طرز تحریر علمی استعداد  اور موضوعات کا چناٶ پڑھنے والےکو فریفتہ کردیتا ہے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں وجاہت مسعود صاحب کی  جن کے لکھنے کا اپنا ہی انداز ہے اور علمی صلاحیت اتنی ہے چاہے تاریخ ہو ادب ہو  سیاست ہو عمرانیات ہو فلسفہ ہو سب گھول کے پی رکھا ہے کالم کو اس قدر بھاری بنا دیتے ہیں کہ بات ادب سے نکلتی ہے  عمرانیات وسیاست  گزرتی فلسفے پہ اختتام پذیر ہوتی ہے اتنے سارے موضوعات کو ایک ہی تحریر میں تسلسل کے ساتھ جوڑنے کا ہنر وجاہت صاحب سے بہتر کون جانتا ہے۔ایک ہی مضمون کو پڑھنے سے سارے موضوعات کی وضاحت ہو جاتی ہے یوں پڑھنے والے کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے کیونکہ موضوع ایک نکتہ ارتکاز میں نہیں ہوتا اپنے جوہر بدلتا رہتا ہے لیکن تسلسل کا معیار بھی قائم رہتا ہے۔وجاہت صاحب کی کالمز کے مجموعوے پر مبنی محاصرے کا روزنامچہ سے دو کتب شائع ہو چکی ہیں۔
بات کرتے ہیں یاسر پیر زادہ کی جن کا طرز اسلوب تو سادہ ہے لیکن موضوعات کا چناٶ کمال ہوتا ہے وہ عام مضمون نگار کی طرح سیاسی موضوعات کو زیر بحث نہیں لاتا بلکہ ان کے موضوعات میں انسان سازی اور سماج سازی پر بات ہوتی ہے دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتے ہیں بڑے سے بڑے موضوعات کو اس اختصار سے پیش کرتے ہیں کہ بات ایک ہی کالم میں  مکمل ہو جاتی ہے یاسر کا انداز اسلوب  سادہ ہے مگر قاری کو نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھنے پر مجبور کرتا ہے ان کے  مجموعہ کالمز پر مبنی دو کتابیں ذرا ہٹ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔

بات کرتے ہیں وسعت اللہ صاحب کی جن کے وسیع علم اور تجربے سے مفرممکن نہیں۔ان کا طرز تحریر کمال کا ہے موضوعات اس قدر پر اثر ہوتے ہیں پڑھتے وقت لگتا ہو گویا یہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔ پورا منظر نامہ سامنے ہوتا ہے۔حالات حاضرہ ہو یا سیاست ہو   خواہ کوئی بھی موضوع ہو دقیق سے دقیق موضوعات کو  بھی قاری کو مدنظر رکھتے ہوئے عام  موضوع کی طرح قلمبند کرتے ہیں۔
خاتون قلمکاروں کی بات کی جاۓ تو عفت نوید کا نام سر فہرست ہے ان کے موضوعات کا چناٶ  ہر انسان سےجڑا ہوتا ہے مضامین میں  معاشرتی موضوعات کا دامن اس قدر وسیع و عریض ہے کبھی کوڑا اٹھانے والا لڑکا موضوع بحث بنتا ہے تو کبھی سکھیوں کے ساتھ بیتے لمحات کبھی پدر سری نظام کو کاٹ دار لفظوں سے نشانہ بنانا کبھی سندھ کے تھریوں کی آہ فگاں بیان کرنا کبھی ذاتی زندگی کے تجربات کو احاطہ ء قلم میں لانا۔طرز اسلوب کی یہ خوبصورتی ہے جو اسے ایک بار پڑھتا ہے پھر بار بار پڑھتا ہے۔ ہم سادہ الفاظ میں کہہ سکتے ہیں  لفظوں اور فقروں کی نشتر زن ہیں۔لفظوں کی کاٹ اور  نشتر زنی سے پڑ ھنے والوں کو مائل کرتی ہیں۔ عفت نوید صاحبہ کے کالمز” ہم سب“ میں شائع ہوتے ہیں۔ 
وقت کی کمی اور احاطہء تحریر محدود ہے فہرست میں اور بھی ارباب قلم شامل ہیں ان کا تذکرہ پھر کبھی۔انشاءاللہ