Site icon Dunya Pakistan

کہیں جوتیوں میں دال نہ بٹ جائے!

ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک مانا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا ہر الیکشن اہم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ریاستی سطح پر بھی جو الیکشن ہوتے ہیں اس کی اہمیت کا فی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا براہ راست یا بالواسطہ طور پر مرکزی حکومت یاریاستی حکومت کو اپنی طاقت آزمانے کاموقعہ مل جاتا ہے۔اسی لیے مرکزی حکومت کے بڑے بڑے لیڈر ان ریاستی انتخابات کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔بیان بازیاں، دلچسپ پوسڑسے لے کر طرح طرح کی باتیں انتخاب کے دن تک سننے یا دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان انتخابات کی خبریں بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، سے لے دنیا بھر کے نیوز ایجنسیاں نشریات کرتی رہتی ہیں۔

’کھیلا ہوبے، دیکھا ہوبے، جیتا ہوبے‘،یہ اردو نہیں بنگالی ہے،لیکن اسے سمجھنا مشکل بھی نہیں ہے۔ دراصل یہ باتیں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے حال ہی میں کہی ہے۔آئے پہلے جانے کھیلا ہوبے، دیکھا ہوبے، جیتا ہوبے کیا ہے۔ دراصل یہ بنگلہ زبان کے خوبصورت الفاظ ہیں جس کے معنی کھیلے گیں، دیکھے گیں،جیتے گیں۔اس سے اس بات کا پتہ چل رہا ہے کہ بنگال کا الیکشن دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس پر دنیا بھر کے لوگوں کی نظر ہے۔

پچھلے دنوں ہندوستانی الیکشن کمیشن نے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں الیکشن کا اعلان کیا ہے جس میں معروف بنگالی ادیب اور شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بنگال میں بھی الیکشن ہونا ہے۔یہ الیکشن آٹھ مرحلے میں ہوگا جو کہ بنگال کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حفاظتی طور پر ایسا کرنا ضروری ہے جبکہ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا مرکزی میں بر سر اقتدار حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک سازش ہے کہ الیکشن کے دوران بھاری سیکوریٹی فورس تعینات کر کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جائے۔مغربی بنگال میں 294اسمبلی حلقے ہیں جن کے لیے 27/مارچ سے 29اپریل کے درمیان آٹھ مراحل میں پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی آسام، کیرالہ، اور تمل ناڈو اور دیگر انتخابی ریاستوں کے ساتھ یونین ٹیریٹری پونڈی چیری میں بھی 2/مئی کو ہوگی اور اسی دن الیکشن کا رزلٹ بھی آ جائے گا۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے ترنمول کانگریس کے 291 امیدواروں کی فہرست جاری کرکے انتخابی جنگ کا باقاعدہ اعلان کیا۔ ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو چیلنج کیا کہ وہ صوبے کے تمام پولنگ بوتھ پر افواج کو تعینات کرکے دیکھ لیں۔اور کہا کہ’کھیل ہوگا، دیکھے گیں اور جیتے گیں‘۔

ممتا بنرجی نے یہ بھی وزیر اعظم کو چیلنج کیا کہ ’وہ میرے ساتھ ایک سو بیس انتخابی ریلیاں کر کے دیکھ لیں‘۔ممتا بنرجی نے بی جے پی کے رہنمااور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی نشانہ بنایا،جو پارٹی کی انتخابی مہم کی حکمت عملی تیار کرنے میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی چئیرپرسن نے آٹھ مراحل میں مغربی بنگال میں انتخابات کرانے کے فیصلے پر ہندوستان کے الیکشن کمیشن سے سوال کیا اور ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں تو 294مراحل میں الیکشن کرانا چاہیے‘۔ ممتا بنرجی نے آٹھ مراحل میں انتخاب کرائے جانے کی شدید مخالفت کی ہے۔

ممتا بنرجی نے بی جے پی پر مغربی بنگال کی ثقافت اور تاریخ سے واقف نہ ہونے کا الزام دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ بنگال کی تاریخ اور ثقافت کو نہیں جانتے وہ بنگال پر حکمرانی نہیں کرسکتے۔ یہ بنگال کے وجود کی جنگ ہے۔ بنگال کے لوگ واقف ہیں کہ بی جے پی کا مطلب بنگال کا خاتمہ ہے‘۔تاہم بی جے پی نے ممتا بنرجی کی زیر قیادت ٹی ایم سی حکومت پر بنگال کی ثقافتی وراثت کو بربادکرنے کا الزام لگایاہے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی نے ووٹ بینک کی سیاست کے لئے بنگالی عوام کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آئندہ بنگال کے اسمبلی انتخاب بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں کے لیے اہم ہے۔بی جے پی کیرالہ کے ساتھ ساتھ بنگال کو بھی ’حتمی سرحد‘ کے طور پر مانتی ہے جہاں پارٹی اب تک حکومت تشکیل نہیں دے سکی ہے۔جسے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ایک بہت بڑا چیلنج مان رہے ہیں۔بی جے پی اور اس کے پیشوا جن سنگھ کے بانی سیاما پرساد مکھرجی کا تعلق بھی بنگال سے ہی تھا۔ جن کے نام سے کلکتہ پورٹ ٹرسٹ کو حال ہی میں منسوب کیا گیا ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے ہندوستان بھر اور ریاست مغربی بنگال میں اپنی زبردست کارگردگی کے بعد اب وہ ریاست مغربی بنگال میں اپنی حکومت بنانے کا سنہرا خواب دیکھ رہی ہے۔

فی الحال ترنمول کانگریس کو بنگال میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔ ممتا بنرجی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے 2011میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بنگال میں بائیں محاذ کے 34سالہ پرانی حکمرانی کے خلاف پُر جوش لڑائی کی قیادت کی تھی۔ بنگال پر پارٹی کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے وزیر اعلی ممتا بنرجی ملک کے وزیر اعظم مودی کے لئے ایک بہت بڑی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ آئندہ بنگال انتخابات میں، ممتا بنرجی کی زیر قیادت ٹی ایم سی کو نہ صرف بی جے پی کا سامنا ہے بلکہ بائیں بازو اور کانگریس کے اتحاد سے بھی ایک نبرد آزماہونا ہے۔

اس کے علاہ سوشل میڈیا پر ایک اور خبر کافی اہم بنی ہوئی ہے کہ اس بار ترنمول کانگریس میں اردو بولنے والے امید واروں کے نام نہ کے برابر ہے۔ایک صاحب نے تو بحیثیت امیدوار اپنا نام دوبارہ شامل نہ ہونے پر فیس بُک لائیو پر آکر اپنا رونا رویا اور ترنمول کانگریس کو بی جے پی کی ’ٹیم بی‘تک کہہ دیا۔تاہم میں نے محسوس کیا ہے کہ اردو بولنے والے زیادہ تر لوگوں کی حمایت اب بھی ترنمول کانگریس کو حاصل ہے جس کا اندازہ مجھے سوشل میڈیا پر کئے جانے والے تبصرے سے ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ بنگال کے اس الیکشن کو اس لیے بھی اہم مان رہے ہیں کہ وہ بنگال کو اتر پردیش یا دیگر بی جے پی کی ریاستوں کی طرح بننے نہیں دینا چاہتے جہاں آئے دن اقلیتیوں پر مظالم اور انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔

اگر گزشتہ چندبرسوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات توصاف عیاں ہے کہ بنگال میں کچھ پریشانیاں دیکھی جارہی ہیں۔لوگوں میں اس بات کی مایوسی ہے کہ ان کی شکایت سنی ان سنی کی جارہی ہے اور اس کا کوئی حل نہیں نکل رہا ہے۔تاہم حکومت لوگوں کے لئے اچھا خاصا فنڈ مہیا کرتی ہے پھر بھی لوگوں کے مسائل اس حد تک حل نہیں ہوپاتے ہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔جب کہ حکومت ہر سال اقلیتوں کے لیے اچھا خاصا فنڈ بھی فراہم کرتی ہے۔میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ امیدوار کسی خاص زبان و مذہب کا ہو لیکن میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ امیدوار خواہ کسی زبان و مذہب یا نسل کا ہواسے لوگوں کے مسائل کو اچھی طرح سننا چاہیے اور ایسے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہی ایک اچھے سیاستداں کی پہچان ہے۔

یوں تو صوبائی الیکشن اس بار چار ریاستوں میں ہو رہا ہے لیکن بی جے پی نے اپنی پوری طاقت بنگال پر لگا دی ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے اب تک بنگال میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں نمایاں رول ادا کرتی رہی ہیں۔جس کا احساس ہر عام و خاص کوہے۔ تاہم کچھ باتیں ایسی ہیں جس سے کچھ مفاد پرست لوگ موقعہ کا فائدہ اٹھا کر ممتا بنرجی کو رسوا و ذلیل کرنا بھی چاہتے ہیں۔جو کہ سیاست میں ایک عام سی چلن ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ممتا بنرجی سیکولر شخصیت کی مالک ہیں۔ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں بھارتیہ جنتا پارٹی جس ہندوتوا کے ایجنڈے پر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے جوبہت ہی افسوس ناک ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی سیکولر طاقت کو مضبوط کیا جائے تاکہ فسطائی طاقتوں کے ناپاک عزائم کو مسمار کیا جاسکے۔ممتا بنرجی گزشتہ آٹھ سالوں سے بنگال میں عنان ِحکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ووٹ کو بکھرنے نہ دے اور مثبت سوچ کا ثبوت پیش کرے اور موجودہ صورتِ حال میں ترنمول پارٹی کی حمایت میں اپنی حق ِ رائے دہی کا استعمال کرے۔کیونکہ فی الحال ترنمول ہی واحد پارٹی نظر آرہی ہے جو اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کی اہل ہے۔تاہم اگر لوگوں نے دیگر سیکولر پارٹیوں کو اپنا ووٹ دیا تو جوتیوں میں دال بٹنے لگے گی اور فائدہ بلا شبہ بی جے پی کو ہوگا۔
اگر ایسا ہوا تو میں محسوس کر رہا ہوں کہ بی جے پی کم ووٹ پاکر بھی حکومت تشکیل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
بالائی نکات کے پیشِ نظر میں لوگوں سے اپیل کروں گا کہ وہ اس بار بھی ممتا حکومت کو زیادہ سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب کریں تا کہ بنگال کی ترقی،خوشحالی، ہم آہنگی، اور بھائی چارگی قائم رہے اور فرقہ پرستوں سے بنگال پاک رہے۔ اس کے علاوہ میں ممتا بنرجی سے اس بات کی بھی گزارش کروں گا کہ وہ اقلیتی معاملات کو کافی سنجیدہ سے لیں اور لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے علاقائی طور پر چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں قائم کریں۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹ انہیں براہ راست بھیجی جائے تاکہ لوگوں کا اعتماد ممتا بنرجی پر مزیدمضبوط اور مستحکم ہو۔

Exit mobile version