کہیں یہ وہ تو نہیں

بھلے وقتوں میں جب اس موذی بیماری کی وجہ سے کرہ ارض پہ خطرے کے بادل نہیں منڈلا رہے تھے شاعر لوگ اس قسم کے گانے لکھتے تھے: 'ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے، کہیں یہ وہ تو نہیں، کہیں یہ وہ تو نہیں‘۔ اب صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ نزلہ زکام ہو یا فلو کا حملہ ہو جائے تو فوراً خیال آتا ہے کہ کہیں وہ بیماری تو نہیں آن پڑی۔ فلو میں بھی شروع میں وہی ہوتا ہے جو COVID-19 کی نشانیاں ہیں اور جب آئے روز اخبارات میں خبریں ہوں کہ فلاں چل بسا اور فلاں کی حالت خراب ہے تو گھبراہٹ کا ہونا اتنا عجیب نہیں۔
پچھلے ہفتے جن فضولیات کی خاطر لاہور کا دورہ اکثر رہتا ہے ایسے ہی وہاں گئے‘ لیکن اس مرتبہ کچھ چاشنی نہ آئی۔ لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں، وعدے کرکے نہ آئیں تو طبیعت کا بدمزہ اور اچاٹ ہونا فطری ہو جاتا ہے۔ واپس چکوال لوٹے تو یہی کیفیت تھی۔ عقل ہوتی تو پیناڈول کی ایک آدھ گولی دودھ کے ساتھ لے کے سو جاتے۔ طبیعت سنبھل جاتی لیکن جہاں من پاپی ہو اور بہانے بسیار وہاں دانائی کے تقاضے کیسے پورے ہوں۔ بوریت کے عالم میں جب لوٹے تو پھر خیال آیا کہ کچھ شغل کر لیں۔ شغل تو ہو گیا اور عابدہ پروین والا چھیتی آ طبیبا بھی آ گیا لیکن رات کو ہی احساس ہوا کہ روح و جسم دونوں بغاوت کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
صبح تک گلے میں ہلکی سی خراش تھی اور میرے لیے یہی خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ غرارے شروع کیے تو گلے میں درد تھم گیا لیکن فلو کی باقی نشانیوں نے ایسا آن گھیرا کہ لٹا دیا۔ تین دن وائرس کا زور رہا اور ہوش ٹھکانے آگئے۔ ظاہر ہے کوئی پہلی بار فلو نہیں لگ رہا تھا‘ لیکن اس بار وہی چیز تھی کہ کھانسی آئے اور بخار ہو تو ذہن فوراً COVID کی طرف جاتا تھا۔ جمعرات کو تو ایسی حالت ہوئی کہ تقریباً ارادہ کرلیا کہ وصیت لکھ لینی چاہیے۔ انٹرنیٹ کھولیں اور بیماری کی نشانیوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں تو یہی لگے کہ یہ تمام نشانیاں یا symptoms ہمیں لگ چکی ہیں۔ وصیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے لگے کہ قبر کس جگہ موزوں رہے گی اور بچوں کو کیا تاکید کرنی چاہیے۔ لیکن جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں، یعنی جمعہ کی صبح، یہ محسوس ہورہا ہے کہ طبیعت بحال ہورہی ہے۔
وصیت کا ارادہ تو ترک کردیا لیکن یہ سوچ ضرور آئی ہے کہ زندگی میں اب کچھ تبدیلی آنی چاہیے۔ ایک تو یہ ہے کہ بہت ہو چکا، اب روایتِ شب کو ختم کرنے میں ہی بہتری ہے۔ یوں سمجھیے یہ پکا ارادہ ہے لیکن ڈر لگتا ہے پاپی مَن سے۔ عذر تلاش کرنے میں مَن کو خاصی مہارت ہے۔ رانا سانگا سے میدانِ کنواہا پہ جنگ سے پہلے بابر بادشاہ نے ترکِ روایتِ شب کا اعلان کردیا تھا اور اپنے تمام پیالے توڑ دئیے تھے۔ کافی عرصے تک اس فیصلے پہ برقرار رہے لیکن کبھی کبھی معجون، جوکہ شاید افیون اور چرس کا مرکب ہے، کا استعمال کرتے۔ تزکِ بابری میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ آج معجون کھائی، کچھ تو اس وجہ سے کہ کان میں درد تھا اور کچھ اس لئے کہ چاند بڑا چمک رہا تھا۔ مرزا غالب کی مثال بھی ہے جنہوں نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے تھے کہ چھٹ تو گئی لیکن اب بھی پیتا ہوں روزِ اَبر و شبِ ماہتاب میں۔ ظاہر ہے غالب کو جس نے مرشد بنایا وہ ویسے ہی مارا گیا لیکن اپنا مصمم ارادہ ہے کہ ایسے عذر تلاش نہ کریں۔
دوسری بات یہ کہ وصیت کی شاید فوری ضرورت نہ پڑے لیکن بچوں کو کچھ تاکید کرنا ضروری ہے۔ جانا تو سب نے ہے، اپنا وقت آیا تو پہلے سے کہہ جائیں گے کہ یہ جو روایت بنی ہوئی ہے کہ ہر مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے گزر جانے کا اعلان ہو رہا ہے ایسا براہ مہربانی نہ کیا جائے۔ چکوال شہر میں تو بالکل نہیں؛ البتہ بھگوال میں جو اپنے محلے کی ایک دو گلیاں ہیں وہاں زبانی بتا دیا جائے کہ ایسا ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے خاندان میں ایک وفات ہوئی تو قاری رب نواز آف دلہہ کو خصوصی طور پہ جنازے کیلئے بلایا گیا۔ اپنی باری آئے تو اُنہی کو زحمت دی جائے اور یہ جو سوئم اور چالیسویں کی روایات بن چکی ہیں ان سے تو مکمل طور پہ اجتناب کیا جائے۔
یہ بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ کیوں کہا جاتا ہے کہ فلاں کا جنازہ بہت بڑا تھا۔ چھوٹا ہو یا بڑا جو چلا جائے اُسے کیا فرق پڑتا ہے۔ جہاں تک دعاؤں کا تعلق ہے وہ تو ایک بھی دل سے پڑھی جائے تو جہاں پہنچنی ہو پہنچ جائے گی۔ اندازہ لگائیے کہ فلو نے بستر پہ ڈالا اور COVID کے ڈر نے دل کو گرفت میں لیا تو اِس قسم کے خیالات ذہن میں آنے لگے۔ یہ بیماری ہی ایسی ہے جس کا ابھی تک نہ اَتا نہ پتا نہ یقینی علاج۔ کہتے ہیں کہ گزرے وقتوں میں ایسی بیماریاں آئیں جنہوں نے وسیع پیمانے پہ تباہی پھیلائی لیکن ہمارے تجربے میں تو یہ COVID-19 ہی ہے، ایک ایسی بیماری جو دنیا کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو قدرت کی طرف سے بنی نوع انسان کو انتباہ ہے کہ اپنی رفتار تھوڑا کم کرو اور زمین پہ قدم تھوڑا ہولا رکھو۔
اِن دو تین دنوں میں یہ خیال بھی ذہن میں اُٹھا کہ غمی خوشی کی روایات‘ جو ہم نے اپنے سروں پہ اُٹھا رکھی ہیں‘ میں کچھ کمی آنی چاہیے۔ شادیوں اور فاتحہ خوانیوں پہ بہت حاضریاں دے چکے۔ اب دل نہیں کرے گا کہ کسی شادی پہ جائیں یا کسی جنازے پہ۔ جہاں ضروری ہو ٹیلی فون کرنا مناسب لگتا ہے اور اس دور میں تو ہر ایک کے پاس جیب میں فون پڑا ہوتا ہے۔ جہاں ہم کہیں نہیں جائیں گے تو محض اُمید نہیں خصوصی تاکید کریں گے کہ ہمارے جنازے میں بھی کوئی نہ آئے۔ کاندھا دینے کیلئے محلے کے لوگ کافی ہوں گے اور جہاں تک مغفرت کا سوال ہے وہ تو اور چیزوں سے انسان کے نصیب میں آتی ہے۔
اس ساری روداد کا مقصد یہ کہ یہ بیماری چھوٹی چیز نہیں ہے۔ امریکا جیسے ملک کو اس نے ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایک لحاظ سے ہم خوش قسمت ہیں کہ اُس زور سے ہماری سرزمین پہ نازل نہیں ہوئی لیکن خطرہ اب بھی ہے اور احتیاط نہ کی جائے تو زوروں سے یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔ لہٰذا رویے ہمارے کچھ بدلنے چاہئیں۔ یہ جو بات بات پہ ہم ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں ہاتھ ملانے کیلئے اِس بیماری کے پسِ منظر میں تو ایسی عادات کو تبدیل ہونا چاہیے۔ شادی بیاہ اور غمی کے موقعوں کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ جب حکومت پابندیاں لگانے کی کوشش کررہی ہے تو ایسی پابندیوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے لوگوں کو شادی بیاہ پہ خرچہ کم کرنا چاہیے۔ یہ پانچ سو، ہزار اور اس سے بھی زیادہ مہمانوں کو مدعو کرنا‘ اِس کی کیا تُک بنتی ہے، خاص کرکے موجودہ حالات میں؟ شادی ہونی ہے تو جوڑے کو بٹھائیں خاندان کے نو دس لوگ ہوں اور نکاح پڑھا دیا جائے۔ اسلام کی بات کرتے ہیں تو اسلام کی روایت تو ایسے ہی ہے۔ لیکن اس بیماری کے باوجود شادی بیاہ کے نام پر باقاعدہ تماشوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ عجیب قوم ہیں ہم، جہاں خرچہ برداشت نہیں ہوتا وہاں بھی مجبوری سمجھتے ہیں کہ خرچہ کرنا ہے۔ اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں۔ غمی کے موقعوں پہ بھی لمبے چوڑے کھانے دئیے جاتے ہیں۔ کون آ کے ان باتوں کے بارے میں ہمیں سمجھائے گا؟
لیکن آخری دعا یہی ہے کہ مَن اَب پاپی نہ بنے اور اپنے میں سیدھا راستہ چلنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *