کیا آپ فون کو خود سے دور رکھنے کا یہ چیلنج لینا پسند کریں گے؟

کبھی کبھی تو آپ کو بھی یہ خیال ضرور آتا ہوگا کہ دن کے کتنے گھنٹے موبائل فون، ٹی وی یا کسی اور قسم کی سکرین پر آنکھیں گاڑھے گزر جاتے ہیں، تو آخر اس کا حل ہے کیا؟ کیا اس طرز زندگی میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے؟

خاص طور پر لاک ڈاوٴن کے دوران موبائل فونز اور دیگر اقسام کی سکرینز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

بی بی سی کی سٹیسی ڈولی کی پاڈ کاسٹ میں سٹیسی کی ملاقات ایک 22 برس کی سوشل میڈیا مداح جول سے ہوئی۔

جول دن بھر میں تقریباً آٹھ سے نو گھنٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزارتی ہیں۔

جول نے بتایا ’سب سے برا حال تو ٹک ٹاک کا ہے۔ مجھے وہ کسی نشے جیسا لگتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر گھنٹوں گزارنے کے بعد بھی مجھے احساس نہیں ہوتا کہ وقت کب اور کیسے گزر گیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ میرے اور پلیٹ فارم کے درمیان اچھا تعلق نہیں لیکن میں خود کو روک ہی نہیں پاتی ہوں۔‘

انھوں نے بتایا ’میں اگر ٹہلنے کے لیے گھر سے باہر بھی نکلتی ہوں تو آئی پلیئر پر ڈرامہ لگا کر دیکھ رہی ہوتی ہوں۔‘

جول کہتی ہیں کہ وہ مستقل سکرین پر نظریں جمائے رکھتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’مجھے ہلکے نیلے رنگ کے چشمے لینے پڑے کیوںکہ مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ میری آنکھوں پر کتنا زور پڑ رہا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں۔‘

جول کی اس سلسلے میں مدد کرنے کے لیے سٹیسی نے ’ڈیجیٹل ڈی ٹاکس‘ کی ماہر تانیہ گوڈن سے بات کی اور انھوں نے جو مشورے دیے وہ کچھ اس طرح ہیں:

ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

تبدیلی کی جانب چھوٹے چھوٹے قدم

تانیہ کا خیال ہے کہ سکرین ٹائم کو کم کرنا ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے جڑا ہے جو آپ کو بار بار فون اٹھانے سے روک سکیں۔

لیکن یہ باتیں ایک ہی دن میں آپ کی زندگی کا حصہ نہیں بن جاتی ہیں۔ تانیہ کا مشورہ ہے کہ انھیں آہستہ آہستہ زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انھوں نے بتایا ’میں خود کو یہ نہیں بتا سکتی کہ کل سے میں اپنا سکرین ٹائم آدھا کر دوں گی۔ میں اسے آہستہ آہستہ اسی طرح کروں گی جیسے ایکسرسائز کے ساتھ ہوتا ہے، آپ آہستہ آہستہ بڑھاتے ہیں۔‘

ان کا مشورہ ہے کہ ’اپنا فون دس منٹ تک دور رکھنے کا خود کو چیلینج دیجیے اور پھر اس دورانیے کو بڑھاتے جائیے۔‘

ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

کسی اور کا ساتھ

تانیہ کا خیال ہے کہ ’خود کو کسی کے سامنے جواب دہ بنا لینا بھی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’اپنے ارد گرد غور کیجیے کہ کیا گھر میں یا دوستوں میں کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ مل کر آپ اس چیلینج کو مکمل کرنا چاہیں؟‘

تانیہ کہتی ہیں کہ ’بعد میں دونوں لوگ آپس میں اس بارے میں بات کر سکتے ہیں کہ کیا انھیں فون سے خود کو بیس منٹ دور رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی؟ یا اسی قسم کی کوئی اور گفتگو۔‘

جول نے اس چیلینج میں اپنے 74 برس کے دادا کو شامل کیا لیکن انھیں شک ہے کہ شاید ان کے دادا جان اپنا سکرین ٹائم کم نہ کر سکیں۔

جول نے بتایا ’وہ اپنے آئی پیڈ پر ہیڈ فونز لگا کر آن لائن مواد دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین فون اور آئی پیڈ ہے۔ مجھے لگتا ہے میں انھیں اس چیلینج میں ہرا دوں گی۔‘

ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

فون کو نظر سے اوجھل کر دیں

تانیہ فون کو خود سے دور ہی نہیں بلکہ نظر سے اوجھل کرنے کا مشورہ بھی دیتی ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ فون کو کسی دراز یا ایسی جگہ پر رکھ دیں جہاں آپ کی بار بار اس پر نظر نہ پڑے۔

انھوں نے کہا ’ایسا تو بہت مشکل ہوگا کہ فون آپ کے ہاتھ میں ہو اور آپ انسٹاگرام نہ چیک کریں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دن بھر ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑ کر آپ وہ چیزیں کھانے کی کوشش کریں جو صحت کے لیے اچھی ہیں۔‘

خاص طور پر بیڈروم میں یہ طریقہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔

تانیہ کہتی ہیں کہ ’اپنے فون کو کمرے کے اس کونے میں رکھیے جو آپ سے دور ہو۔ عام طور پر ہم فون اپنے سرہانے رکھتے ہیں تاکہ اسے آسانی سے کبھی بھی رات میں ہاتھ بڑھا کر اٹھا سکیں۔‘

انھوں نے کہا ’اگر فون کو کمرے سے باہر رکھنا اور صبح جاگنے کے لیے الارم والی گھڑی کے استعمال کا طریقہ مشکل لگ رہا ہو تو فون کو ایسی جگہ چارجنگ پر لگائیں جو آپ کے بیڈ سے دور ہو۔‘

تانیہ کے مطابق ایسا کر کے آپ بار بار ہاتھ بڑھا کر فون اٹھانے اور راتوں کو غیر ضروری استعمال سے خود کو روک سکیں گے۔

ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

اپنی ذہنی کیفیت پر غور کیجیے

تانیہ نے بتایا ’میں نے جتنے بھی ایسے لوگوں سے بات کی جو ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کر چکے ہیں، انھوں نے کہا کہ انھیں بہت مزا آیا۔ یہ بہت خوفناک کام لگتا ہے لیکن اصل میں کر کے بہت آزادی کا احساس ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سکرین سے دور رہنا ہمیں کیسا احساس کرا رہا ہے اور آپ کو ہمت بھی اسی بات سے ملے گی کہ سکرین کے زیادہ اور کم استعمال کے درمیان آپ کو کیا فرق محسوس ہو رہا ہے۔‘

تانیہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ اپنی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور جسم میں بچی طاقت کے بارے میں غور کریں گے تو آپ کو احساس ہو گا کہ یہ کتنا ضروری عمل ہے۔‘

ڈیجیٹل ڈی ٹاکس

خود پر تشدد نہ کریں

تانیہ نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل ڈی ٹاکس کے دوران ہونے والی ذہنی پریشانی میں ایسا سوچنا غیر معمولی نہیں کہ یہ کرنا آپ کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ اصل میں یہ عمل کسی کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے، اگر دس منٹ تک بھی فون کو خود سے دور رکھنا مشکل لگے، تو بھی حیران نہ ہوں۔‘

ایک اور بات جس پر تانیہ زور دیتی ہیں وہ یہ کہ ’ہار مت مانیے۔ ابتدائی دنوں میں آپ کو یہ عمل مشکل ضرور لگے گا لیکن یہ آہستہ آہستہ آسان ہوتا جائے گا اور تب آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ ابتدائی دنوں میں آپ کے لیے فون کو بیس منٹ کے لیے دراز میں رکھ دینا بھی ممکن نہیں تھا۔‘

تانیہ کے مطابق اپنے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور اس عمل کو کسی گیم کی طرح زندگی میں شامل کرنا، ایک بہتر طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس چیز کا حساب رکھیے کہ آپ اس جانب کتنا آگے بڑھ پا رہے ہیں اور اپنے آپ پر بہت دباوٴ مت ڈالیے۔

’ایسے بھی دن آ سکتے ہیں جب آپ کو لگے گا کہ سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا لیکن ہار ماننے کی بجائے اگلے دن سے پھر کوشش کریں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.