کیا زمانہ تھا

"احمد علی کورار"

ایک زمانہ تھا جب مکان کچے اور رشتے پکے ہوتے تھے اب مکان تو پکے ہو گئے ہیں لیکن رشتے پکے نہیں رہے  محبت  خلوص اور ہمدردی کوٹ کوٹ بھری تھی اب ان کی جگہ بغض عداوت کینہ اور انا نے لے لی ہے.ایک پورا کنبہ ایک ہی چھپر میں بسیرا کرتاتھا ایک ہی ہانڈی پکتی تھی سب ایک ساتھ مل کے کھانا کھاتے.بڑے بزرگوں کا احترام کیا جاتا تھا ان کا کہا مانا جاتا تھا ان کی باتوں پر عمل کیا جاتا تھا.باپ کے بعد بڑے بھائی کو باپ کا درجہ حاصل تھا.معاشرے میں عورت کو اعلیٰ مقام حاصل تھا رشتوں کا تقدس قائم تھا.سیدھے سادھے لوگ تھے مہمان نواز تھے ان کی بیٹھکیں ہمہ وقت کھلی رہتی تھیں.تفریح کی کوئی خاص جگہ نہ تھی لوگ اوطاق میں بیٹھک لگاتے حال احوال ہوتا قصے کہانیاں سنائی جاتیں.چھوٹے موٹے مسائل بھی ان بیٹھکوں میں حل کیے جاتے بات کورٹ کچھری تک نہیں جاتی .بڑے بزرگ مسائل کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرتے.کچھ وقت کے بعد ان کی تفریح میں کچھ اضافہ ہوا .ریڈیو آگیا.رات کو مجمع اکٹھا ہوتا ریڈیو کو بیچ میں رکھا جاتا لوگ دائرے کی شکل میں بیٹھ کر موسیقی سے لطف اندوز ہوتے گیت غزلیں کافیاں سنی جاتی.اس وقت ریڈیو عام نہیں تھا کہ ہر ایک کی دسترس میں ہو یہ علاقے میں بڑے رئیس کے ہاں میسر ہوتا تھا.اس زمانے میں تعصب فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں تھا.ہمارے ایک بڑے بزرگ بتاتے ہیں جس گاؤں میں ہم رہتے تھے وہاں بڑی تعداد میں ہندو بھی رہتے تھے  بڑے پر امن تھے اپنا کاروبار کرتے تھے مسلمانوں اور ہندوؤں میں ہم آہنگی تھی وہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں ایک ساتھ ہوتے .ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی امداد کرتے.یوں لگتا کہ پورا معاشرہ ایک گھر کی مانند ہے .جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ تفریح کے کوئی خاص ذرائع نہیں تھے لوگ خود کو انٹرٹین کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے تھے یہ کوئی بھدا مذاق نہیں ہوتا ایسا مذاق کرتے وہ کبھی ایک دوسرے کا برانہیں مناتے.ہمارے بڑے بزرگ بتاتے ہیں ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہم نے ایک بنیے کے ساتھ مذاق کیا اس کے ہاں کچھ مہمان آنے والے تھے اس نے دکان کے باہر ہانڈی چڑھا رکھی تھی جس میں مٹن پک رہا تھا شام کا وقت تھا وہ گاہکوں کو سودا سلف دینے میں مصروف تھا میں اور میرے دوست نے اس بنیے کی ہانڈی اٹھا لی اسے پتا نہیں چلا ہانڈی لے کر ساری رات ہم  مٹن کھاتے رہے کیونکہ مٹن بھاری مقدار  میں تھا چار پانچ مہمانوں کے لیے تیاکیا گیا تھا لیکن ہم دونوں نے رات گئے اسے تمام کرلیا.خدا جانتا ہے کہ اس نے اپنے مہمانوں کی کس طرح خاطر تواضع کی.چند دنوں بعد اسے اس بات کا پتا چلا وہ میرے گھر آئے اور مسکراتے ہوئے کہا بھائی اب دیگچی تو واپس دے دو.اس زمانے میں لوگوں میں اتنی برداشت تھی.دیکھتے دیکھتے زمانہ بدل گیا تفریح اور وقت گزاری کے کئی ذرائع آگئے جس سے لوگوں کے مابین فاصلہ بڑھتا گیا.پھر رفتہ رفتہ محبت خلوص ہمدردی ماند پڑ گئی.کسی کو کسی کا خیال نہیں رہا..آہ! وہ کیا دن تھے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *