Site icon Dunya Pakistan

کیا زندگی معمول پرلوٹے گی!

نومبر 2019ء سے جو وبا ء چین سے شروع ہوئی تھی اور دھیرے دھیرے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آگئی وہ اب کہیں نہ کہیں دم توڑرہی ہے۔امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک دھیرے دھیرے اپنی روز مرہ کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔

برطانیہ میں 21/جون سے مکمل لاک ڈاؤن کے خاتمے کا امکان ہے۔ لیکن ایک ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حکومت کووڈ پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے میں چار ہفتوں تک تاخیر کرنے پر غورکر رہی ہے۔دراصل ایسا اس لیے سوچا جارہا ہے کہ پچھلے مہینے سے تیزی سے بڑھنے والی ڈیلٹاکووڈ (جسے پہلے انڈین کووڈکہا جارہا تھا) ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا کہ ہندوستان میں شناخت ہونے والا ڈیلٹا کافی تیزی سے لوگوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور یہ لوگوں کو زیادہ بیمار کر سکتا ہے۔

تاہم اب بھی سائنسدانوں نے وزیر اعظم بورس جونسن کو مشورہ دیا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کو ختم کرنے میں جلد بازی نہ کریں۔لیکن سچ پوچھیے تو اب انسان لاک ڈاؤن کی قید سے اکتا سا گیا ہے اور کیوں نہ اکتائے، نہ کسی سے ملنا نہ کسی کو گھر بلانا اور نہ کسی کے ساتھ موج مستی کرنا۔ گویا زندگی محض بدلی ہی نہیں بلکہ زندگی پیچیدہ سی ہوگئی ہے۔جس سے زیادہ تر لوگ ذہنی تناؤ کے شکار ہوگئے ہیں۔ گھریلو تشدد عام ہوگیا ہے اور لوگوں کا رویہ جارحانہ ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں جہاں لاک ڈاؤن سے لوگ عاجز تھے وہیں انہوں نے وقت گزاری اور ایک وفادار ساتھی کے لیے دھڑا دھڑ کتے اور بلی خریدنا شروع کر دیا۔تاہم اس کے برعکس کتوں اور بلیوں کی چوری بھی خوب بڑھ گئی۔ جس کے لیے حکومت سے اس بات کی پرزور اپیل کی گئی کہ کتا اور بلی چرانے والے مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔ایک معروف گانے والی کا کتا جب چوری ہوا تو انہوں نے انسٹا گرام پر اپنے کتے کی واپسی کے لیے ایک کروڑ کا انعام کا اعلان کر دیا۔اب تو راہ چلتے ہر علاقے میں سڑکوں کے کنارے قطار لگائے درختوں پر کتے یا بلی کی چوری کی اطلاع کے ساتھ انعام بھی لکھا پایا جا رہا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران جانوروں کی چوری نے ان کے مالکان پر ایک بجلی سی گرا دی ہے۔

تاہم مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن کے کم ہونے سے برطانیہ میں دھیرے دھیرے زندگی معمول پر آنے لگی ہے۔زیادہ تر لوگ اپنے کام و کاج پر واپس ہونے لگے ہیں اور دکانیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ ریستوران نے گاہکوں کوبیٹھ کر کھانے کی سہولت کو کھول دیا ہے اور روایتی پب(شراب پینے کی خاص جگہ) میں شراب پینے والے موج مستی کے ساتھ خوب شراب پینے کا لطف لے رہے ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہونے لگا ہے کہ اب لوگوں میں کورونا کا خوف ختم ہونے لگا ہے۔

مجھے بھی لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ جہاں اب بھی تیس سے زیادہ مہمانوں کی شرکت کی اجازت نہیں ہے۔شادی لندن کے معروف ٹوٹنگ علاقے کی ایک ریستوران کے عالی شان چھوٹے سے ہال میں تھی۔ لڑکے والے کی طرف سے پندرہ اور لڑکی والے کی طرف سے پندرہ لوگوں کی حاضری ہوئی۔ جس میں تمام لوگ ماسک کے بنا خوش و خرم دِکھ رہے تھے۔شادی کی تقریب دھوم دھام سے اپنی روایت کے مطابق ہوئی اور مہمانوں نے کھانے کے علاوہ موسیقی پر تھرکتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔

اس شادی سے میں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اگر شادی تیس یا پچاس لوگوں کے ساتھ کی جائے تو شادی کا حقیقی لطف دوبالا ہوجاتا ہے اور شادی کی تقریب میں سبھی مہمانوں سے ملنے جلنے کے علاوہ دلی تسکین بھی کافی ملتی ہے۔ جو مجھے اس شادی کی تقریب میں شرکت کر کے محسوس ہوا۔میں تو چاہوں گا کہ دنیا بھر میں خاص کر ہماری قوم میں یہ بات عام ہوجائے تاکہ شادی کی بڑی بڑی تقریبوں اور اخراجات سے ہم سب کو چھٹکارا ملے۔ جس کے بوجھ تلے بیچارے غریبوں کا برا حال ہوجاتا ہے اور جو محض دکھاوے کی خاطر ایسی بلا میں خوامخواہ پھنس جاتے ہیں۔

ہسپتالوں میں مریضوں کے رشتہ داروں، عزیز واقارب اور دوستوں کو ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔لیکن ان لوگوں کو مریضوں سے ملنے سے پہلے کووڈ ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے۔ جس کے دو طریقے ہیں۔ ایک گھر پر ٹیسٹ کرواکر نتیجہ دکھا کر اور دوسرا ہسپتال میں آکر ٹیسٹ کروا کر کچھ دیر کے انتطار کے بعد نتیجہ جان کر مریضوں سے ملنے کی اجازت پانا۔تاہم اس کام میں مریضوں کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی تعاون بھی اہم ہے جو مریضوں کی حفاظت کے لیے ایسا کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ اسٹاف بھی لگاتار خود ہی کووڈ ٹیسٹ کرواتے رہتے ہیں تاکہ اگر انہیں ذرا برابر بھی کووڈ ہو تو وہ خود سات سے چودہ دنوں کے لیے کورینٹین میں چلے جاتے ہیں۔

ایک درجن افسران جو کون وال میں سہ روزہ(G7) ’جی سیون‘ سربراہی اجلاس میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں، انہیں خود کو الگ تھلگ کرنا پڑا کیونکہ ان سب کاکوووڈٹیسٹ مثبت پایا گیا۔جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ افسران اور لگ بھگ ڈیڑھ ہزار فوجی جوان جی سیون کے عالمی سربراہوں کی سر براہی میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔تاہم جی سیون میٹنگ کامیابی سے اختتام کو پہنچا۔ جس میں کورونا سے متاثر دنیا کی صورتِ حال سے لے کر بگڑتی ماحولیاتی صورتِ حال پر بحث و مباحثہ ہوا۔ عالمی قائدین نے میٹنگ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر سخت اقدامات اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔جی سیون میٹنگ میں توقع کی جارہی ہے کہ دنیا کی سات بڑی صنعتی ممالک، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جاپان، فرانس، جرمنی اور اٹلی،کاشتکاری، نقل و حمل، اسٹیل اور سیمنٹ کو تیار کرنے سے جو لوازمات خارج ہورہے ہیں اسے کم کرنے کے منصوبے مرتب کریں گے۔

وہیں چین نے جی سیون میٹنگ کے حوالے سے کہا کہ ’وہ دن گئے جب چند چھوٹے ممالک دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کیا تھا‘۔ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو دوسری بار جی سیون میں ورچول میٹنگ کے ذریعہ دعوت دی گئی۔ جس میں انہوں نے کہا کہ ’ایک دھرتی، ایک صحت‘۔ خدا جانے مودی جی اس بات سے دنیا کے لیڈروں کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ شاید مودی یہ کہناچاہ رہے ہیں کہ کورونا وبا سے بے حال ہندوستانی لوگوں کے علاج کے لیے ہندوستان کے پاس نہ تو ذرائع ہیں اور نہ ہمدردی، جس کا اندازہ ان کے رونے دھونے سے ہوا ہے اور ان کا علاج امریکہ اور برطانیہ میں اس کا علاج کروایا جائے۔ جو کہ ہر گز ناممکن ہے۔

اس کے علاوہ انگلینڈ نے شیدائیوں کی موجودگی میں کرکٹ ٹیسٹ سیریز کا بھی آغاز کر دیا ہے۔پہلا ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لندن نے معروف لارڈ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں شیدائیوں نے لاک ڈاؤن کے بعد خوب میچ کا مزہ لیا۔ اس کے بعد دوسرا ٹیسٹ میچ برمنگھم کے ایج بیسٹن میں کھیلا گیا جہاں کرکٹ شیدائیوں کی بھاری بھیڑ نے گیم کا خوب لطف اٹھایا۔

پچھلے سال کورونا سے ملتوی ہونے والے یوروفٹ بال کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ جو کہ اس بار یورپ کے درجن شہروں میں کھیلا جارہا ہے۔ اس میچ کو دیکھنے کے لیے لوگ کافی تعداد میں لوگوں کو اسٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔جس سے کھیل کے شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی اور کورونا ویکسن سے جہاں لوگوں کا اعتماد بڑھا اور امید جاگی ہے وہیں کورونا کی تیسری لہر کی خبر سے بھی لوگ خوف زدہ ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر سے لوگ بیمار تو ہوں گے لیکن شاید مرنے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہوگی جتنی کے پچھلے دو کورونائی لہروں سے ہوئی تھی۔تاہم اس بات کا فی الحال دعویٰ کرنا ایک احمقانہ بات ہوگی کیونکہ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال تو ہم زندگی کو معمول پر لوٹانے کی فکر میں مگن ہیں۔

Exit mobile version