Site icon Dunya Pakistan

کیا سعودی امیر زادی کے خوابوں کا شہزادہ واقعی پاکستانی ڈرائیور ہے؟

پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک عرب جوڑے کی شادی کی ویڈیو وائرل ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سعودی ارب پتی خاتون ساہو بنت عبداللہ المحبوب ہیں جبکہ ان کے ساتھ کھڑے شخص اور ان کے دلہا، ان کی رینج روور کے پاکستانی ڈرائیور ہیں۔

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ ویڈیو حقیقت میں کہاں کی ہے اور کیا واقعی ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون سعودی ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں؟ اور کیا انھوں نے اپنے ذاتی ڈرائیور سے شادی کی ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے؟

لیکن سب سے پہلے ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون جنھیں ساہو بنت عبداللہ المحبوب کا نام دیا جا رہا ہے، ان کے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

فیکٹ چیک: ساہو بنت عبداللہ المحبوب یا یاسمین بنت مشعل السدری ؟

وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کے متعلق ایک دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ ان کا نام ساہو بنت عبداللہ المحبوب ہے جو دراصل ایک سعودی ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں اور سعودی عرب سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کاروبار کی مالکن ہیں اور ان کی دولت کی مجموعی مالیت آٹھ ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

کئی سوشل میڈیا ویب سائٹس کے مطابق، ساہو بنت عبداللہ المحبوب متعدد رہائشی املاک کے ساتھ ساتھ مدینہ اور مکہ مکرمہ میں کئی ہوٹلوں کی بھی مالکن ہیں اور ان میں سے کئی مقدس مقامات کے قریب واقع ہیں جن سے وہ یومیہ کثیر دولت کماتی ہیں۔

یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ خاتون دوسرے ممالک میں بھی کئی عمارتوں کی مالکن ہیں۔

ہم نے انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں ساہو بنت عبداللہ المحبوب کا نام سرچ کیا، تاہم ان کے حوالے سے اگر کوئی خبر سرچ انجنز میں نظر آئی تو وہ صرف اور صرف مذکورہ وائرل ویڈیو ہی ہے۔

کیا ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کا اصلی نام وہی ہے جس سے انھیں سوشل میڈیا پر پکارا جا رہا ہے؟

24 دسمبر 2020 کو ٹوئٹر پر شئیر کی گئی ویڈیو کے مطابق یہ خاتون کوئی ارب پتی کاروباری شخصیت نہیں بلکہ یاسمین بنت مشعل السدری ہیں۔

دلہا پاکستانی ہے یا افغان؟

کیا ویڈیو میں نظر آنے والے شخص واقعی سعودی خاتون کے پاکستانی ڈرائیور ہیں؟ سوشل میڈیا پر اس طرح کے دعوے ضرور کیے جا رہے ہیں کہ وہ سعودی امیر زادی کے ذاتی ڈرائیور ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

ہماری اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے مقامی میڈیا میں کسی سعودی ارب پتی خاتون کی اپنے پاکستانی ڈرائیور سے شادی کی کوئی خبر نشر/شائع نہیں کی گئی ہے۔

جہاں تک دلہا کے پاکستانی اور سعودی امیر زادی کے ذاتی ڈرائیور ہونے کا تعلق ہے، اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ حقائق و تفصیلات نہیں مل سکے۔

دلہا کو ویڈیو میں عربی زبان بولتے سنا جا سکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ عرب ملک کے شہری ہوں یا یہ بھی امکان ہے کہ اگر وہ پاکستانی ہیں تو انھوں نے کسی عرب ملک میں قیام کے دوران عربی زبان سیکھ لی ہو۔

کئی سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ یہ سعودی عرب یا کسی دوسرے عرب ملک میں منعقد ہونے والی ایک عام شادی کی تقریب ہے اور کسی منچلے نے غلط کیپشن کے ساتھ اسے شئیر کر دیا ہے جو اس کے وائرل ہونے کا سبب بنی ہے۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ دراصل یہ ایک ٹک ٹاک جوڑے کی منگنی کی پرانی ویڈیو ہے جسے اب غلط معلومات کے ساتھ شئیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان جوڑے کے ٹک ٹاکر ہونے کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ہماری تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل یہ ویڈیو کورونا وائرس کی وبا کے دوران منعقد ہونے والی ایک سادہ شادی کی تقریب ہے جو 23 دسمبر 2020 کو منعقد ہوئی اور اسی تقریب کی ویڈیو کو ٹوئٹر پر 24 دسمبر 2020 کو احمد العليان نامی صارف نے اس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا ’ياسمين بنت مشعل السديري كتبت كتابها على افغاني !!! الله يوفقهم‘ جس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے ’یاسمین مشعل السدیری ایک افغانی باشندے کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں منسلک ہو گئیں، ان کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی انھیں توفیق سے خوش وخرم رکھے۔‘

احمد کی پوسٹ کی گئی ویڈیو کے کمنٹس سیکشن کے مطابق یاسمین بنت مشعل السدری نے اپنے افغان ڈرائیور سے ہی شادی کر لی ہے اور مذکورہ ویڈیو اسی تقریب کی ہے۔

تاہم ابھی تک یہ ویڈیو جن معلومات کے ساتھ شئیر کی جا رہی ہے، ان کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ہم نے احمد سے بھی رابطہ کرکے مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے، لیکن اس خبر کی اشاعت تک ہمیں کوئی جواب نہیں مل سکا۔

سعودی عورت سے شادی کرنا اتنا آسان نہیں

احمد کی پوسٹ کے کمنٹس سیکشن میں کئی سعودی صارفین ان سے سوال کر رہے ہیں کہ ایک عرب عورت، غیر عرب سے شادی کیسے کر سکتی ہے؟ اور ایسے ہی کئی سوالات کے ساتھ یہ ویڈیو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے صارفین کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے اور عرب ٹوئٹر پر بھی وائرل ہے۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر متحرک اور مختلف موضوعات پر بات کرنے والی اماراتی شہزادی ہند القاسمی نے احمد العلیان کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

’اللہ انھیں خوش رکھے، آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ یہ قریش کے اشراف حضرت محمد کی نسل سے ہیں، ہمیں اپنی سوچ اونچی رکھنی چاہیے، اور ان کی خوشی کے لیے دعاگو ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے معاملات میں دخل انداز ہوں جو عرف عام سے بھی متصادم ہوں، اور ہمارے دین سے متنافی ہوں جن میں ہمارا کوئی دخل بھی نہ بنتا ہو، ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قبول کر چکے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، آپ مردوں کی غیر ملکی عورتوں کے ساتھ شادی کو کیوں قبول کرتے ہیں، جبکہ عورتوں کے بارے میں یہ بات قبول نہیں کرتے۔‘

یاد رہے سعودی قوانین کے حساب سے ایک عرب خاتون، غیر عرب سے شادی تو کر سکتی ہے تاہم یہ عمل اتنا آسان نہیں ہے۔

ایک غیر عرب سے شادی کرنے کرنے لیے عرب خاتون کی عمر کم از کم 25 سال ہونا لازم ہیں اور جس غیر عرب سے وہ شادی کرنا چاہتی ہیں، اسے کچھ شرائط پر پورا اترنا چائیے نیز کاغذات کی جانچ پڑتال اور اس پورے عمل میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

’آج آپ کو ڈرائیونگ لائسنس کے مقابلے میں اپنی ڈگری چھوٹی لگ رہی ہوگی‘

پاکستان میں ٹوئٹر اور فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ سے لے کر واٹس ایپ تک یہ ویڈیو وائرل ہے اور خاصے دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔

جہاں کئی صارفین ویڈیو کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کیے بغیر جوڑے کے اچھے نصیب کی دعائیں کر رہے ہیں وہیں کئی نوجوان یہ بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ ’ڈرائیونگ لائسنس کتنے دن میں بن جاتا ہے؟‘

حتیٰ کہ آٹھ ارب ڈالر دولت رکھنے والی امیر زادی سے ایک پاکستانی کی شادی ہونے کی خبر سن کر ایک صارف نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’اگر یہ خبر سچ ہے تو یہ بندہ اکیلا ہی پاکستان کا سارا قرض اتار سکتا ہے۔‘

عطا الرحمن لکھتے ہیں ’آج آپ کو ڈرائیونگ لائسنس کے مقابلے میں اپنی ڈگری چھوٹی لگ رہی ہوگی۔‘ جبکہ رضا کہتے ہیں کہ ’ڈرائیورنگ کا چھ ہفتے کا کورس انجنیئرنگ کے چار سالوں سے بہتر ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’جب اللہ دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کے ہی دیتا ہے۔ جبکہ سعد مقصود لکھتے ہیں ’سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں کا مستقبل روشن ہے۔‘

قاضی نامی صارف نے لکھا ’اس کار والے نے ایک ایسے مشکل وقت میں خوشی کے ایک نئے باب کی شروعات کی ہے جب پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں۔‘

ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’لیکن پاکستانی مرد ابھی بھی انتہائی پسند کیے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف وہ دکھنے میں وجہیہ ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر وفادار بھی ہیں۔‘

کئی صارفین کا ماننا ہے کہ یہ نسل پرستی پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈا ہے جس میں جان بوجھ کر ایک پاکستانی لڑکے کو مشرقِ وسطیٰ میں ’ڈرائیور‘ دکھایا گیا ہے۔ جبکہ ویڈیو میں موجود جوڑا ایک ہی رتبے کا اور آپس میں بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اور بس یہی اہم ہے اور حقیقی محبت دیکھ کر انھیں بہت اچھا لگا۔

اگرچہ اس خبر نے بہت سارے پاکستانیوں کے دل میں روشن مستقبل کے لیے امید کی کرن جگائی ہے، تاہم ہمارا مشورہ ہے کہ سعودی عرب کا ویزہ لگوانے سے پہلے اس خبر کے سچ ثابت ہونے کا انتظار ضرور کر لیں۔

Exit mobile version